بار قوانین میں ترمیم ، انتخابی اصلاحات اور جعلی وکلا ء کی رکنیت منسوخی بارے تجاویز منظور

بار قوانین میں ترمیم ، انتخابی اصلاحات اور جعلی وکلا ء کی رکنیت منسوخی بارے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہوہائی کورٹ بار نے بار رولز میں ترامیم ،بارایسوسی ایشن کی انتخابی اصلاحات اور جعلی وکلاء کی رکنیت کی منسوخی کے بارے میں مختلف تجاویز کی منظوری دے دی ۔ہائی کورٹ بار کے صدر انوارالحق پنوں کی صدارت میں ہونے والے اجلاس عام میں اس بابت منظوری دی گئی۔اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری حسن اقبال وڑائچ نے وکلاء کو بتایا کہ موجودہ عہدیداران نے ممبر شپ کے حصول کے طریقہ کار کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ممبر شپ فارم میں تبدیلیاں کیں ہیں جس کے تحت ممبر شپ حاصل کرنے والے اور تجویز کنندہ وتائید کنندہ کے قومی شناختی کارڈ اور پریکٹسنگ لائسنس کی کاپیاں لف کرنی لازم قرار دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے پنجاب بار کونسل کے تعاون سے وکلاء کے لائسنس چیک کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور جعلی وکلاء کی نشاندہی ہوئی۔ ایسے جعلی وکلاء کو وضاحت کیلئے کافی وقت دیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں آکر وضاحت کریں لیکن وہ نہ آئے جس کی وجہ سے بار نے ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کرا دیا ہے۔ مزید برآں ایسے تمام وکلاء جنہوں نے جعلی لائسنس پر ممبر شپ حاصل کی ان کو موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ بار کی ممبر شپ اور پنجاب بار کونسل سے لائسنس منسوخ کرا دیں۔ یہ رعایت 15دن کیلئے ہے اس کے بعد قانون کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے ہاؤس کو بتایا کہ2010ء میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کا اعلان کیا کہ جس پر تاحال عملدرآمد نہ ہو سکا۔ بار نے اس اعلان پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ۔وکلاء کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کے حوالہ سے ورکنگ کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے تاکہ کمیٹی کی سفارشات کے تحت اس معاملہ کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے رولز میں 1989ء سے کوئی ترمیم نہ کی گئی ہے حالانکہ ممبران کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ہاؤس کو بتایا کہ موجودہ عہدیداران نے راجہ جاوید اقبال ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی سربراہی میں شفقت محمود چوہان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ وسابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور پیر مسعود چشتی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پر مشتمل رولز امینڈمنٹ کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے انتہائی جانفشانی اور عرق ریزی سے رولز مرتب کئے جس کیلئے ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں۔سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حسن اقبال اورسابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار شفقت محمود چوہان کو خطاب کی دعوت دی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بار کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کیں اس میں کسی ممبر کا کوئی ذاتی ایجنڈا شامل نہ ہے۔حسن اقبال وڑائچ نے پیرا وائز ترامیم ہاؤس کے سامنے پیش کیں ۔آذر لطیف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ جہاں تک رول نمبر28پارٹIIمیں الیکشن میں حصہ لینے کی اہلیت کی شرائط کا تعلق ہے ان کے تحت الیکشن میں حصہ لینے والے وکیل کے لئے ضروری ہے کہ ایک سال کے دوران اس کے ہائی کورٹ میں کم ازکم 15وکالت نامے فائل ہوئے ہوں ،انہوں نے کہا کہ میرے جیسا وکیل جو کبھی لوئر کورٹ، کبھی بیرون لاہور عدالتوں میں پیش ہوتا رہتا ہے ،اس کے مذکورہ شق پر عمل کرنا مشکل ہے، یہ وہی وکیل کر سکتا ہے جسے ٹاؤٹس کیسزلا کر دیتے ہیں۔ہاؤس میں موجود تمام ممبران نے آذر لطیف خان کے ٹاؤٹ کے الفاظ پر روز احتجاج کیا، حسن اقبال وڑائچ سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے رائے شماری کیلئے ترامیم ہاؤس کے سامنے پیش کیں۔ تمام ترامیم مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں البتہ رول 28کی بابت کچھ اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا کہ یہ شرائط سخت ہیں۔ مذکورہ اعتراض کو اس تجویز کے ساتھ نمٹایا گیا کہ اس بابت جو معیار لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسلز ایکٹ1973ء کے تابع ہے اسی کے مطابق امیدواران کی اہلیت کو پرکھا جائیگا۔

مزید : صفحہ آخر