سینیٹ میں شریف فیملی کی سزاؤ ں کو سیاسی مخالفت قرار دینے پر ہنگامہ

سینیٹ میں شریف فیملی کی سزاؤ ں کو سیاسی مخالفت قرار دینے پر ہنگامہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے اراکین کے مابین نیب سے سزا یافتہ کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کو دی جانیو الی سزاؤں پر سینٹ اجلاس کے دوران شدید جھڑپ ، پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اراکین نے کرپشن کیسز میں گرفتاری کو سیاسی مخالفت قرار دینے کے مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کے بیانات کو مسترد جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے اگلے عام انتخابات پر گہرے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ڈکٹیشن کمیشن اور ایم کیو ایم کے اراکین نے انجینئرڈ الیکشن قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو درپیش صورتحال مکافات عمل قرار دیدیا ۔ سوموار کے روز سینٹ اجلاس کے د وران نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ملک میں ایسے حالا ت پیدا کئے جا رہے ہیں جس سے ایک مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے ، مسلم لیگ ن کے سینیٹر چوہدری تنویر خان کو سینٹ اجلاس میں شرکت سے روکا گیا اس صورتحال کوبھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا میرے خلاف 3تھانوں میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کیلئے سب کچھ کیا جا رہا ہے اگر الیکشن کے دوران دفعہ 144نافذ ہو جائے تو ہم الیکشن مہم کس طرح چلائیں گے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کسی بھی مجرم کو تحفظ دینا بھی جرم ہے اگر عدالت نے ایک شخص کو مجرم قرار دیا ہے تو اس کو تحفظ نہیں دینا چاہیے ۔ ایک مجرم کو ریلی نکالنے کی اجازت کیوں دی گئی ،نگران حکومت ایک پارٹی کے مجرموں کو کھلی چھٹی دے ر ہی ہے، کیپٹن (ر) صفدر نے بی اے نہیں کیا مگر اس کو جیل میں اے کلاس دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق غنی نے کہا اگر ملک میں صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہوئے، بیلٹ بکس کا تقدس پامال کیا گیا تو پاکستان کی سلامتی پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہونگے ،الیکشن کمیشن کو یہ ضمانت دینی ہو گی کوئی بھی ادارہ پس پردہ رہ کر انتخابات کو ہائی جیک کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ملکی سیاست میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اس سے سیاستدان بدنام اور سیاست کا وقار خاک میں مل گیا ہے۔ پانامہ نیب اور بینکوں سے قرضے لیکر معا ف کرانیوالے کسی صورت معافی کے حقدار نہیں ، ان کابلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے، کسی ایک فرد کیخلاف نہیں ۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا نیب پورے ملک میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور عہدیداروں کیخلاف مقدمات قائم کر رہی ہے ان حالات کا نوٹس لینا چاہیے ۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا جو لوگ ظلم کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں ان پر مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔ کیا الیکشن کے دنوں میں دفعہ144کا نفاذ ہو سکتا ہے۔ مخصوص افراد کو جیپ کا نشان کیوں دیا جا رہا ہے اس کو بھی دیکھنا ہو گا۔ صرف ایک شخص کو کیوں دبایا جا رہا ہے، وہ جو مکے دکھاتا ہے اس کیخلاف بھی کارروائی کریں۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا حیرت اور افسوس کا مقام ہے نگران حکومت جن مقاصد کیلئے بنائی جاتی ہے وہ مقاصد پورے نہیں کر رہی ہے۔انتخابات ہائی جیک کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ایسے حالات میں سینٹ کو جاگنا ہو گا ورنہ سینٹ کوتاریخ معاف نہیں کرے گی۔ نواز شریف کو سزا بد عنوانی کی نہیں بلکہ 25تاریخ کے انتخابات میں ہروانے کیلئے دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینٹ کا حالیہ اجلاس 25جولائی تک جاری رہے اور معاملات کیلئے پورے ہاؤس کی کمیٹی بنائی جائے۔سینیٹر رحمن ملک نے کہا نیکٹا نے سیاستدانوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہ نشانے پر ہیں۔ نگران حکومت اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ پارٹی کے سربراہ محفوظ رہیں گے۔ پارٹی سربراہوں کو خصوصی سکیورٹی دی جائے اور اگر کسی بھی صوبے میں کچھ ہوا تو چیف سیکرٹری ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس اس کے ذمہ دار ہونگے۔ تحریک طالبان پاکستان کے بعد ایک دوسرا خطرہ داعش کی صورت میں ہمار ے سروں پر منڈلا رہا ہے ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا اور تمام سیاسی جماعتوں کو مسائل سے نمٹنے کیلئے متحد ہونا ہو گا۔ خودکش حملے کرنیوالے کہیں باہر سے نہیں بلکہ ہمارے اندر ہی سے نکلتے ہیں، ہمیں یہ صورتحال بھی دیکھنا ہوگی ۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاملک میں تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور ان کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ایوان میں بیٹھ کر کرپشن کا دفاع کریں گے تو اس کے غلط نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمیں قانون کا ساتھ دینا ہو گا، ہم قانون بنانے والے ہیں توڑنے والے نہیں ۔ کسی جرم میں سزا ہونا کوئی سیاسی دشمنی نہیں ۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا غیر جمہوری قوتیں الیکشن پر اثر انداز ہو رہی اور نگران حکومت ، الیکشن کمیشن ، میڈیا اورنیب کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔ عدالتوں کے نام پر سیاست ہو رہی ہے۔انتخابات کا حق عوام کو حاصل ہے اور کسی ادارے کو اس کا حق نہیں ۔ الیکشن کمیشن مکمل طور پر با اختیار ہے ۔ حلقہ بندیوں میں بہت زیادہ خلاف ورزیاں کی گئی ۔ اس طرح الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی بعض سیاسی جماعتوں کے امیدوار خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ، اس کی جانب داری پر عوام حساب لیں گے ۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل نے کہا ملک کی تاریخ گواہ ہے الیکشن کمیشن کو ہمیشہ ڈکٹیشن پر چلایا گیا بنگلہ دیش انہی اداروں کی وجہ سے بنا ، ہم ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ،سیاسی جماعتوں نے ہی ملک بنایا ہے ۔ایم کیو ایم کے بیرسٹر سیف نے کہا اگر کسی کو بھی یہ غلط فہمی ہے کہ آنیوالے انتخابات صاف اور شفاف ہیں تو اس کو اپنی غلط فہمی دور کرنی چاہیے ،آنیوا لے انتخابات

انجینئرڈ ہیں اور کون یہ سب کچھ کر رہا ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ تمام سیاستدان بھی موجودہ حالات کے برابر کے شریک ہیں اور ہر سیاسی جماعت نے اپنے دور میں دوسرے سیاستدانوں کو دیوار سے لگایا ہے ۔ہم اس ایوان میں حلف لیکر آئے ہیں ہمیں انصاف سے کام لیکر اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔ کسی نے مذہب اور کسی نے قومیت کے نام پر ملک کو بیچا ہے۔اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے انتخابات شفاف ہوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں ماحول ملے۔ نیکٹا کی رپورٹ کا بھی ایوان کو نوٹس لینا چاہیے موجودہ صورتحال تشویشناک ہے ۔ عام انتخابات میں 156کے قریب امیدواروں کا تعلق کالعدم اور انتہا پسند تنظیموں سے ہے اور فورتھ شیڈول سے نام نکلوا کر انہیں انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی ہے، اگر یہ صورتحال رہی تو ہم کس طرح پاکستان کی سرزمین کو دہشتگردی سے پاک کریں گے۔ الیکشن کمیشن کو اس صورتحال کا نوٹس لینا اور ہر ادارے کو اپنی حدود کے اندر کام کرنا چاہیے ۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا شریف خاندان پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی ، ان کو ایون فیلڈ خریدنے کا ثبوت پیش نہ ہونے پر سزا دی گئی ہے اور یہ صورتحال ان تمام افراد کیلئے ہے جنہیں ان کے دادا یا نانا نے جائیداد دی ہے۔قبل ازیں ایوان بالا میں سود کے خاتمے اور حج ، زکوٰۃ و عشر سے متعلقہ فنڈز کو شرعی اصولوں کے تحت سرمایہ کاری میں لانے کی قراردادیں متفقہ طورپر منظور کرلی گئیں ، قراردادیں تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فرازاور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈی والا نے پیش کیں، جماعت اسلامی اور جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں نے اس کی حمایت کی۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ آخر