الیکشن کمیشن نے رویہ نہ بد لا تواحتجاج کرینگے : اے پی سی

الیکشن کمیشن نے رویہ نہ بد لا تواحتجاج کرینگے : اے پی سی

کراچی (این این آئی) الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) سندھ کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شامل سیاسی جماعتوں نے قرار دادوں کے ذریعے سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آزادی کے ساتھ الیکشن مہم چلانے دی جائے، چہیتوں کو سہولتیں دینے کے بجائے سب کو برابر کی حیثیت دی جائے، آزاد امیدوار کے کردار کو واضح کیا جائے ، ضابطہ اخلاق میں ترامیم کرکے غلطیوں کو دور کیا جائے،شفاف انتخابات کے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں، الیکشن کمیشن نے جھنڈوں ، بینروں کا جو سائز سیاسی جماعتوں کے دیا ہے اس کے مطابق جھنڈے اور بینرز بنائے جارہے ہیں لیکن متعلقہ سیاسی جماعتوں سے بات کئے بغیر جھنڈے اور بینرز اتارے جارہے ہیں، پولیس اور دیگر اداروں کو ہدایت کی جائے کہ پہلے متعلقہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے پھر جھنڈے اور بینرز اتارے جائیں، الیکشن کمیشن نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو تمام جماعتیں مرکزی قیادت کی مشاورت سے احتجاج کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔اس کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے مشترکہ طور پر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کریں گے۔پیر کو مسلم لیگ ن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن اسمبلی معین پیرزادہ، وقار شاہ، پیپلز پارٹی کے سعید غنی ، تاج حیدر، راشد ربانی ، وقار مہدی،جماعت اسلامی کے مسلم پرویز، عارف شاہ، اے این پی کے سندھ کے صدر شاہی سید، جمعیت علمائے اسلام کے اسلم غوری، جے یو پی کے مستقیم نورانی، نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ ن کے رہنماں رانا مشہود، سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ، سلیم ضیاء، خواجہ طارق نذیر، اور دیگر نے شرکت کی، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود نے اے پی سی کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اے پی سی میں شرکت کرنے والے تمام جماعتوں کو ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ہماری دعوت پر شرکت کی اس اے پی سی چہیتی سیاسی جماعتوں نے شرکت نہیں کی جن پر الیکشن کمیشن پر ضابطہ اخلاق بھی لاگو نہیں انھوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو من مانیاں نہیں کرنے دیں گے الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے حوالے سے جو ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کو دیا ہے اس کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں پرعملددرآمد کیا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ چہیتی جماعتوں کے ساتھ رویہ کچھ ہے اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ کچھ الیکشن کمیشن نے اپنے رویئے کو تبدیل نہیں کیا تو پھر ہم مرکزی سطح پر احتجاجی اقدامات کریں گے۔ اگر الیکشن کا ماحول اور فضانہیں ہوگی تو آنے والے الیکشن پر سوالیہ نشان ہوگا۔

اے پی سی

مزید : صفحہ آخر