جعلی ڈگری ، دیوان عاشق بخاری الیکشن لڑنے کیلئے نااہل

جعلی ڈگری ، دیوان عاشق بخاری الیکشن لڑنے کیلئے نااہل

جلال پور پیر والہ (نامہ نگار) سپریم کورٹ نے بھی این اے 159 سے امیدوار دیوان عاشق بخاری کی جعلی ڈگری معاملہ پر الیکشن لڑنے

(بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

کے لیے نااہلی کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا، سوموار کو چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نمبر1 نے دیوان عاشق بخاری کی طرف سے ڈاکٹر بابر اعوان کی دائرہ کردہ پٹیشن پر بحث کی سماعت کی۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 29 ستمبر 2014 ء کو الیکشن ٹریبونل نے جعلی تعلیمی ڈگری کے معاملہ پر آئین کی دفعہ 62(1) ایف کے تحت نااہلی کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح طور پر اُسی منعقد شدہ الیکشن کے لیے نااہل ہونے کے الفاظ بھی استعمال کیے تھے جس کی بنأ پر حالیہ الیکشن میں 19 جون کو ریٹرننگ آفیسر نے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے دیوان عاشق بخاری کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئیے تھے لیکن بعد ازاں الیکشن اپیلیٹ اتھارٹی اور لاہور ہائی کورٹ نے دیوان عاشق بخاری کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں الیکشن کے لیے ناہل قرار دے دیا تھا سپریم کورٹ کے روبرو دیوان عاشق بخاری کے وکلا کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے بعض فیصلوں کے حوالے بھی دئیے گئے جن میں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ایسے امیدواروں کو اہل قرار دیا گیا ، لیکن سوموار کو سپریم کورٹ نے دیوان عاشق بخاری کے حق میں دئیے گئے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن اپیلیٹ اتھارٹی اور لاہور ہائیکورٹ کے جاری کر دہ فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے دیوان عاشق بخاری کی پٹیشن خارج کر دی۔یاد رہے کہ این اے 159 میں دیوان عاشق بخاری نے اپنے متبادل کے طور پر اپنے بیٹے دیوان ذوالقرنین بخاری کے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہوئے ہیں جن کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر کی حیثیت سے انتخابی نشان بھی جاری ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی اطلاع ملنے کے بعد دیوان گروپ نے دیوان ذوالقرنین بخاری کی انتخابی مہم میں تیزی لانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کے تحت مختلف ٹیمیں بنا کر روزانہ متعدد کارنر میٹنگز منعقد کرتے ہوئے ووٹرز سے رابطے بڑھائے جائیں گے۔

دیوان عاشق

مزید : ملتان صفحہ آخر