احتساب عدالت کی شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی مدت میں چوتھی بار توسیع کی درخواست

احتساب عدالت کی شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی مدت میں چوتھی بار توسیع کی ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،این این آئی)احتساب عدالت نے شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی مدت میں چوتھی بار توسیع کی درخواست کردی۔احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی مدت میں توسیع کی درخواست کردی۔ ذرائع کے مطابق احتساب عدالت کے جج نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنادیا ہے، تاہم عزیزیہ، فلیگ شپ اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز زیر التواء ہیں۔جج محمد بشیر نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ ٹرائل کی مدت کا بیشتر وقت ایون فیلڈ ریفرنس میں صرف ہوگیا جس کی وجہ سے باقی کیسز پر سماعت مکمل نہ ہو سکی، باقی تین ریفرنسز کو نمٹانے کے لئے مدت میں مزید توسیع دی جائے۔سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیکر نیب کو شریف خاندان کے خلاف مقدمات درج کرنے اور 6 ماہ میں ان کیسز کا فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کے ٹرائل کا آغاز 14 ستمبر 2017 کو ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی تین بار احتساب عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی کارروائی مکمل کرنے کی ڈیڈلائن میں توسیع کرچکی ہے۔

خط

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے دیگر 2 ریفرنسز کی سماعت پر اعتراض اٹھا دیا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران پاناما واجد ضیاء بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔آج نواز شریف کے وکیل نے واجد ضیاء پر جرح جاری رکھنی تھی، تاہم سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے جج محمد بشیر کی جانب سے باقی دو ریفرنسز کی سماعت کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کیس سن ہی نہیں سکتے۔خواجہ حارث کا موقف تھا کہ چونکہ جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ دے چکے ہیں، لہٰذا مناسب یہی ہے کہ وہ دیگر 2 ریفرنسز (العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ) کی سماعت نہ کریں۔جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ 'سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی (10 جولائی کی) مدت بھی ختم ہو رہی ہے، اس سے متعلق خط لکھنا بھی میرا کام ہے، لہذا بہتر یہی ہے کہ اس خط میں یہ ساری باتیں لکھ دی جائیں'۔جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ 'مناسب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو خط میں آپ ان باتوں کا حوالہ بھی دے دیں'۔خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ 'سپریم کورٹ سے ہدایات ملنے کے بعد ہی مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے'۔ساتھ ہی انہوں نے کہا، 'ہم تو چاہتے تھے کہ تمام ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ کر دیں'۔سماعت کے دوران خواجہ حارث نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز جمعہ (13 جولائی) کو لندن سے واپس پاکستان آرہے ہیں، لہذا پیر (16 جولائی) تک سماعت ملتوی کردیں۔تاہم عدالت نے سماعت 12 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی۔

اعتراض

مزید : کراچی صفحہ اول