سمٹ بینک منی لانڈرنگ کیس نے ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کر دیا

سمٹ بینک منی لانڈرنگ کیس نے ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کر دیا

کراچی (رپورٹ/غلام مرتضیٰ/ندیم آرائیں ) سمٹ بینک منی لانڈرنگ کیس نے ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کردیا ،شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام مرکزی ملزمان کی فہرست میں آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی سیاسی سرگرمیاں ماند پڑگئیں ،سابق صدر مملکت سمیت 7افراد کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد اہم گرفتاریوں کا امکان ہے ۔انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق سمٹ بینک کے سابق صدر حسین لوائی کی گرفتاری نے ایک نیا پینڈورا بکس کھول دیا ہے ۔ایف آئی اے کی جانب سے اب تک کی جانے والی تحقیقات میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں اور بینک کے ذریعہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حسین لوائی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب پوری قوم کی نظریں اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب تھیں جہاں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ان کے خاندان کے خلاف ایوان فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا جانا تھا ۔میاں نواز شریف کی گرفتاری اور حسین لوائی کی گرفتاری نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق بینکوں کے ذریعہ منی لانڈرنگ کی ابتدائی تحقیقات 2010 میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پری شروع کی، 4 اکاونٹس کی نشاندہی ہوئی، بعدازاں 29 اکاونٹس کا پتا چلا جن میں سے 16 سمٹ بینک، 8 سلک بینک اور 5 یو بی ایل کے اکاونٹ تھے، یہ اکاونٹس 7 لوگوں سے متعلق تھے جن سے 35 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، طارق سلطان کے نام پر 5 اور ارم عقیل کے نام پر دو اکاونٹس ہیں۔ یہ دونوں افراد ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، محمد اشرف کے نام پر ایک ذاتی اور 4 لاجسٹک ٹریڈ کے اکاؤنٹس ہیں، محمد عمیر بیرون ملک ہیں اور ان کا ایک ذاتی اور 6 اکاؤنٹس حمیرا اسپورٹس کے نام پر ہیں، عدنان جاوید کے 3 اکاونٹس لکی انٹرنیشنل کے نام پر ہیں، قاسم علی کے تین اکاؤنٹس رائل انٹرنیشنل کے نام سے ہیں، محمد اشرف سمیت 6 افراد نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے، سمٹ بینک کے عدیل ارشد کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کا کہا گیا ہے، ہم ان تمام افراد کو طلب کررہے ہیں۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ناصر عبداللہ کے سمٹ بینک اکاؤنٹ میں 24 لاکھ 90 ہزار روپے منتقل ہوئے تھے۔ 7 کروڑ روپے انصاری شوگر مل کو گئے، اومنی کو 50 لاکھ، پاک ایتھانول کو ڈیڑھ کروڑ، چمبڑ شوگر 20 کروڑ، اینگرو فارم کو 57 لاکھ روپے گئے، اسکے علاوہ (سابق صدر آصف علی زرداری کے) زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ڈیڑھ کروڑ روپے گئے، 35 ارب روپے سمٹ بینک سے نکالے جا چکے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ حسین لوائی سمیت 32 افراد بینامی اکاؤنٹس میں 30 ارب روپے سے زائد کی ترسیلات میں ملوث ہیں۔ایف آئی اے نے مقدمے میں بینک فراڈ اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی مختلف دفعات شامل کی ہیں۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض اکاؤنٹس 2014 میں چند ماہ کے لیے کھولے گئے، اکاؤنٹس کی تحقیقات 2015 میں شروع ہوئیں تاہم ٹھوس ثبوت نہ ملنے کے باعث تحقیقات میں پیش شرفت سست روی کا شکار تھیں۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تمام بے نامی اکاونٹ بیس سے چالیس ہزار تنخواہ کے حامل افراد کے نام پر کھلوائے گئے تھے، ان کے جعلی دستخط کئے گئے، جب ان کے بیانات قلمبند کئے گئے تو انہوں نے ایسے کسی بینک اکاونٹ ہی سے انکار کیا۔ان اکاونٹس میں نقد اور چیک کی صورت میں رقم نکالی اور جمع کروائی جاتی رہی، بعض اکاونٹس میں پانچ کروڑ روپے سے زائد کی رقم ایک ہی وقت میں جمع کروائی گئی جس سے تحقیقاتی ایجنسی کو شبہ ہوا اور اسی نکتے پر کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔منی لانڈرنگ کے اس بڑے اسیکنڈل میں ایف آئی اے نے حسین لوائی سمیت 32 افراد کو نوٹسز جاری کیے تھے جن میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کئے جانے والوں میں سے کچھ افراد بعض سیاسی شخصیات کے فرنٹ مین بتائے جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے ایف آئی اے کو ان مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی۔ایف آئی اے نے جن 7 افراد کے نام پر اکاؤنٹ کھولے گئے تھے ان میں یک خاتون سمیت 4 افراد کے مجسٹریٹ کے سامنے بیان قلم بند کرلیے ہیں۔بعد ازاں ایف آئی اے نے سمٹ بینک کے مینیجر کو طلب کیا جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ جعلی اکاؤنٹ سمٹ بینک کے اس وقت کے صدر حسین لوائی کے کہنے پر کھولے تھے۔دوسری جانب ایف آئی اے نے عبوری طور پر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت 7 افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیئے ہیں۔ایف آئی اے حکام نے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔اسٹاپ لسٹ میں شامل افراد بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔ جن دیگر 7 افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالے گئے ہیں ان میں چیئرمین سمٹ بینک نصیرعبداللہ لوتھا، ایجی مجید، انور مجید، نازلی مجید، اقبال خان نوری مصطفیٰ ذوالقرنین اور علی کمال مجید شامل ہیں۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت اسٹاپ لسٹ میں شامل افراد بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔ذرائع کے مطابق نصیر عبداللہ اور انور مجید آصف زرداری کے قریبی دوست اور بزنس پارٹنر بھی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حکم پر عارضی طور پر اسٹاپ لسٹ بنائی ہے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق کمیٹی کے اجلاس تک یہ افراد اسٹاپ لسٹ میں شامل رہیں گے اور کمیٹی کی منظوری کے بعد ان کینام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی منظوری سے اسٹاپ لسٹ ایسے افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو فوری طور پر قانون کو مطلوب ہوں اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنا لازمی ہو۔

Back to Conversion Tool

 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...