آزادکشمیر گڈگورننس برائے نام،سرکاری محکموں میں سفارش عام

آزادکشمیر گڈگورننس برائے نام،سرکاری محکموں میں سفارش عام

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزاد کشمیر میں گڈگورننس برائے نام، سرکاری محکموں میں سفارش، اقرباء پروری رشوت عام، آسامیاں مشتہر کیے جانے سے قبل ہی من پسند افراد کی تقرریوں کے لیے نام چٹ کی بنیاد پر فائنل کیے جانے لگے۔اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ملازمت کے لیے مطلوبہ اہلیت پوری کرنے والے بے سہارا امیدواران کی حق تلفی کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں بھاری سفارش،رشوت،سیاسی جماعت سے وابستگی اور ووٹ بنک کو ملامت کے لیے معیار بنا کر میرٹ کا قتل عام کیا جانے لگا۔سرکاری محکموں میں مختلف کیڈر کی خالی آسامیوں کو مشتہر کرنے سے قبل ہی تقرریوں کے لیے نام فائنل کر دیئے جاتے ہیں۔اشتہار محض دکھاوا بن گئے۔مختلف محکموں میں میرٹ کو پامال کرنے کا سلسلہ موجودہ حکومت کے اڑھائی سالہ دور اقتدار میں ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عروج پر ہے۔مختلف محکموں میں آسامیاں تخلیق ہونے کے فوری بعد سفارشی افراد کی عارضی طور پر مختلف کیڈر کی پوسٹوں پر تعینات کرنے کے بعد آسامیاں مشتہر کر کے تعلیم یافتہ افراد سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اور متعدد محکمے درخواستوں کے ہمراہ امیدوران سے ایک ہزار سے دو ہزار تک کے بنک ڈرافٹ بھی وصول کرتے ہیں۔ ان امیدواران سے ٹیسٹ انٹرویو برائے لیے جانے کے بعد اسی امیدوار کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے جو بھاری سفارش رکھتا ہو۔سرکاری ملازمتوں کے دروازے عام لوگوں پر بند کر دیئے گئے ہیں۔سفارش، رشوت، اقرباء پروری، سیاسی جماعت سے وابستگی اور برادری ازم کی انتہاء آزاد کشمیر میں گڈگورننس کے نعروں اور اعلانات کی نفی کرنے لگی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر