وسیع تر مفاد کی خاطر قیوم حسام سے اتحاد کیا ،وقار احمد خان

وسیع تر مفاد کی خاطر قیوم حسام سے اتحاد کیا ،وقار احمد خان

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ) این اے 38 سے آزاد امیدوار سینیٹروقار احمد خان نے حسب روایت اپنے انتخابی پینل میں شامل پی کے 97 کے آزاد امیدوار سہیل راجپوت کو دھتکار کے پی کے 97 ہی میں سے پیپلپز پارٹی کے ٹکٹ ہو لڈر ملک قیوم حسام کے ساتھ اتحاد کر کے اپنے تمام حامیوں کو مایوس کر دیا،اپنی رہائش گاہ پر ملک قیوم کے ساتھ مشترکہ پریس سے خطاب کرتے ہوئے وقار احمدخان نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے وسیع تر مفاد میں قیوم حسام سے اتحاد کر کے یہاں سے موروثی سیاست کے خاتمہ اور اس خطہ میں ترقی کے عمل کو ہموار بنانے کی منصوبہ بندی کریں گے، ملک قیوم حسام نے بھی وقار خان کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اپنی پارٹی اور دوستوں سے تفصلی مشاورت کے بعد خطہ کے وسیع تر مفاد میں وقارخان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تا کہ اہل ڈیرہ کو تازہ دم اور مخلص قیادت مل سکے۔ آزاد امیدوار وقار احمد خان اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر قیوم حسام کے درمیان غیر فطری انداز میں سامنے آنے والے اتحاد پہ این اے 38 سے پیپلز پارٹی کے علامتی امیدوار فیصل کریم کنڈی نے محتاط رد عمل دیا،جس سے ظاہرہوتا ہے کہ اس اتحاد کو پیپلزپارٹی کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔تاہم وقار کی بے وفائی کے زخم خوردہ سہیل راجپوت پریس کانفرنس میں بلک بلک کے رو پڑے انہوں نے کہا کہ وقار احمد خان کی خواہش پہ ان سے اتحاد کیا اور انکی پروجیکشن اور انتخابی مہم پہ کروڑوں روپے خرچ کئے،سہیل راجپوت نے کہا کہ وقار کا اس وقت ساتھ دیا جب اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا تاہم وقار خان نے مجھ جیسے مخلص دوست کو دھوکہ دے کر اپنی ساکھ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مفادکو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،جو شخص اپنے انتخابی اتحادی کے ساتھ وفا نہیں کی وہ اپنے ووٹرز کیسے وفا کر سکتا ہے، رات گئے سہیل راجپوت کے حامیوں نے بھاٹیہ بازار ، محلہ دیوان صاحب، لمبی گلی،مجاہد نگر اور چھوٹابازار سے وقار خان کے بینرز اور پوسٹرز اتار دئیے اور ان کے پینا فلیکس پر سیاہی پھینک کے اپنی نفرت کا اظہار کیا،راجپوت نے یہ بھی بتایا کہ وقار خان نے انہیں بلا کر درخواست کی کہ وہ شکست سے خوفزدہ ہیں اور الیکشن میں تیسری پوزیشن بھی نہیں لے سکتے،اسلئے قیوم حسام سے اتحاد پہ مجبور ہیں،انہون نے کہا کہ الیکشن کی فتح و شکست سے قطع نظر وقار خان نے اخلاقی ساکھ تباہ کر کے اپنی سیاست کو موت کے گھات اتار دیا۔بلا شبہ وقاراحمد خان عین بیج دریا میں گھوڑے بدلنے کے عادی ہیں اور اسی تلون مزاجی کے باعث انہیں ہر انتخابی معرکہ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب انتخابی مہم کے بام عروج پر انہوں نے اپنے پینل میں شامل انتہائی مخلص امیدوار کا ہاتھ جھٹک کے اپنی سیاسی ساکھ کو تباہ اور شہر کی ایک منظم برادری کواپنا حریف بنا لیا۔پی پی پی کے ملک قیوم حسام ،جسے وقار سے اتحاد سے قبل پی ٹی آئی کے علی امین کے مقابلہ میں مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا،کی اس اچانک قلا بازی نے بھی اسے نا قابل تلافی سیاسی نقصان پہنچایا،غلط وقت پہ چند پیسوں کے عوض وفاداریاں بدل کے اس نے سیاسی ساکھ اور مخلص دوستوں کی حمایت گنوادی۔وقار احمد خان کی اس سیاسی چال نے نہ صرف پی کے 97 میں سہیل راجپوت کو تباہ کیا بلکہ سٹی ٹو کے مضبوط امیدوار سمیع اللہ علیزئی کے ساتھ اتحاد کے رشتوں کو مشبہ بنا دیا۔وقار خان نے فیصل کنڈی کو سٹی ٹو میں اپنے پینل کے آزاد امیدوار سمیع علیزئی کے مقابل درپردہ پی پی پی کے نامزد امیدوار احمد کنڈی کی حمایت کا دلایا ہو گا، وقار کی ٹامکٹیوں نے اپنی تو لٹیا ڈبوئی ہی تھی لیکن اپنے ساتھ دوستوں کی دوسروں سیاست بھی برباد کر ڈالی،چنانچہ اب این اے 38 سے مولانافضل الرحمن کی کامیابی یقینی نظر آنے لگی ہے اور پی کے 97 سے علی امین گنڈہ پور زیادہ مضبوط ہو کر ابھرے ہیں اب سٹی ون میں شاید علی امین کا مقابلہ جے یو آئی کے ملک مشتاق ڈار کے ساتھ ہو گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...