مقررہ اوقات میں مریضوں کو طبی سہولیات بلا تعطل یقینی بنائیں ،رضا اسلم

مقررہ اوقات میں مریضوں کو طبی سہولیات بلا تعطل یقینی بنائیں ،رضا اسلم

سوا ت(بیورورپورٹ)ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم نے ضلع بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کے حکام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں مریضوں کو طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائیں بصورت دیگر کسی بھی کوتاہی کا پوری سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیا جائے گا اور ذمہ داران کی اتنی سخت سرزنش کی جائے گی کہ وہ دوسروں کیلئے بھی باعث عبرت بنیں وہ اپنے دفتر گلکدہ سیدو شریف میں نوازشریف کڈنی ہسپتال کے مسائل سے متعلق انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے واضح رہے کہ سنگوٹہ میں حکومت پنجاب کے تعاون سے قائم اس ہسپتال میں چند روز قبل ڈائیلسز یونٹ کی بندش کی وجہ سے مریضوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر ان کے لواحقین نے احتجاج کیاتھا اور اس کا کمشنر ملاکنڈڈویژن اور ڈی سی سوات نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری کاروائی کی ہدایت کر دی مسئلے کے حل کے لیے کمشنر مالاکنڈ ڈویژن سید ظہیرالاسلام شاہ نے کڈنی ہسپتال کے ایم ایس کو اپنے دفتر طلب کرلیاجنکے مطابق ڈائیلسز یونٹ بجلی کی لوڈشیڈنگ اورجنریٹر کے تیل کے پیسے ختم ہونے کی وجہ سے بند کیا گیا تھا کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے فوری طور پر واپڈا حکام کو ہدایت کرکے ہسپتال میں اضافی لوڈشیڈنگ فوری طور پر بند کرائی جبکہ ناگزیر لوڈ شیڈنگ کی صورت میں جنریٹر کو چالو رکھنے کیلئے تیل اور فنڈز کا مستقل بندوبست کرنے کی غرض سے ایک انتظامی کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا کمیٹی کے ممبران میں ایم ایس کڈنی ہسپتال ڈاکٹر محمد ایوب اور فنانس و پلاننگ آفیسر شامل تھے ڈپٹی کمشنر سوات کی مریضوں کے ورثاء سے ملاقات اور یقین دہانی پر احتجاج بھی ختم ہو گیااور ہسپتال میں ڈائیلسز کا کام دوبارہ شروع ہو گیا ثاقب رضا اسلم نے کڈنی ہسپتال کے مالی امور کو بہتر بنانے کی ہدایت کی اور اس مقصد کیلئے موقع پر کاروائی بھی عمل میں لائی گئی ہسپتال انتظامیہ نے آئندہ اسطرح کے ناخوشگوار واقعات کا اعادہ نہ ہونے کا یقین دلایا تاہم ڈی سی سوات نے محکمہ صحت اور طبی مراکز کو فعال بنانے کیلئے پوری تندہی سے مشترکہ اور مربوط کوششیں کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ حکام و عوام آئندہ اسطرح کی کسی بھی شکایت کی صورت میں ان سے بروقت رابطہ کریں جس پر فوری ایکشن لیا جائے گاجبکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال کے ذمہ داران کو نتائج بھی بھگتنا ہونگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر