خواجہ حارث کاایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت کے جج بشیر پر اعتراض ، اب شریف خاندان کے خلاف باقی ریفرنسز کی سماعت کون کرے گا ؟ سپریم کورٹ نے واضح اعلان کر دیا

خواجہ حارث کاایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت کے جج بشیر پر ...
خواجہ حارث کاایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت کے جج بشیر پر اعتراض ، اب شریف خاندان کے خلاف باقی ریفرنسز کی سماعت کون کرے گا ؟ سپریم کورٹ نے واضح اعلان کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کیلئے احتساب عدالت کو مزید چھ ہفتوں کو وقت دیدیاہے ، خواجہ حارث کے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد جج بشیر پر دیگر ریفرنس سننے سے متعلق اعتراض پرکیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن کا کہناتھا کہ فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس ،ایون فیلڈ ریفرنس سے مختلف ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہناتھا کہ کیس میرٹ کی بنیاد پر چل رہاہے، ہم لکھ دیں گے کہ تعصب کے بغیر دیگر ریفرنسز سنے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی درخواست پر چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اظہار الحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی جس دوران شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث کا کہناتھا کہ تینوں ریفرنسز میں شواہد اور گواہان ایک جیسے ہیں،انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جج دیگر ریفرنسز نہیں سن سکتا،جج صاحب ایون فیلڈ ریفرنس کافیصلہ دے چکے،تینوں ریفرنسز میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں،پہلے بھی درخواست کی تھی کہ تینوں ریفرنسز کا ایک فیصلہ ہونا چاہیے ،تینوں ریفرنسز میں شواہد ایک جیسے ہیں۔ جس پر جسٹس اظہار الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں ٹرانزیکشنز ایک دوسرے سے نہیں ملتیں،دونوں کیسز ایک دوسرے سے نہیں ملتے ، ہمیں نہیں لگتا کہ کیس تعصب کی بنیاد پر سنا جائےگا۔چیف جسٹس کا کہناتھا کہ کیس میرٹ کی بنیاد پر چل رہاہے، ہم لکھ دیں گے کہ تعصب کے بغیر دیگر ریفرنسز سنے جائیں۔

چیف جسٹس کا کہناتھا کہ نیب نے 4ہفتے مانگے،آپ نے 6ہفتے مانگے ہم آپ کو 6ہفتے دے رہے ہیں،ہمیں یقین ہے خواجہ حارث دیے گئے وقت میں کارروائی مکمل کریں گے۔چیف جسٹس نے خواجہ حارث کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا اب آپ کے میرے ساتھ تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔

مزید : قومی