نواز شریف ہیرو بنیں گے یا زیرو؟؟؟

نواز شریف ہیرو بنیں گے یا زیرو؟؟؟
نواز شریف ہیرو بنیں گے یا زیرو؟؟؟

احتساب عدالت سے سزا پانے والے میاں نوازشریف اور مریم نواز نے جمعہ تیرہ جولائی کو وطن واپسی کا اعلان کر دیاہے ۔ پہلے اسلام آباد آنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر پارٹی سے مشاورت کرنے کے بعد لاہور آنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ جو عوامی پذیرائی لاہور میں حاصل ہو سکتی ہے وہ اسلام آباد میں ممکن نہیں تھی۔ 

دوسری طرف ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتاری نے بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیپٹن صفدر کو جس طرح ریلی میں شرکت کرنے اور خطاب کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا وہ نگران حکومت کی کمزوریوں کو اجاگر کرنے کے لیئے کافی ہے۔ بظاہر کیپٹن صفدر اتنے بڑے قد و کاٹھ کی سیاسی شخصیت نہیں ہیں انکی پہلی اور آخری سیاسی شناخت بھی میاں نواز شریف سے رشتہ داری کی وجہ سے ہے۔

میاں نواز شریف کا استقبال شہباز لیگ کے لئیے بھی بڑا امتحان ہوگا کیونکہ میاں نواز شریف کی ساری کشتیاں جل چکی ہیں اور انکے پاس اب کھونے کے لئیے کچھ نہیں ہے اس لیئے انکا بیانیہ بہت جارحانہ ہوگا اور وہ چاہیں گے احتجاجی سیاست کو اسکی انتہا تک لے کر جائیں۔ دوسری طرف شہبازشریف کو پہلی بار موقع مل رہا ہے کہ وہ وفاق کی سیاست کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کی شیروانی پہن سکتے تھے اسی لیئے انہوں نے اپنا بیانیہ بہت مصالحانہ رکھا ہے اور خلائی مخلوق پر بھی کسی قسم کی تنقید کرنے سے اجتناب کیا ہے۔

مگر شہبازشریف کے ساتھ مسئلہ یہ رہا کہ وہ پنجاب میں انتظامی طور پر تو بہت ایکٹو رہے مگر سیاسی طور پر انکو وہ عوامی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی جو نواز شریف کو حاصل ہے۔تاہم ملین ڈالر کا سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا نواز شریف اور مریم نواز کو وطن واپسی پر ائرپورٹ پر فوراً گرفتار کیا جائے گا یا انہیں بھی عوامی استقبال اور خطابات کو موقع دے کر ہیرو بنایا جائے گا۔

سزا پر عملدرآمد اور ہائی کورٹ اپیل میں جانا تو بعد کی بات ہے اگر اس عوامی احتجاج کے دوران خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آگیا تو نگران حکومت کے بروقت اور شفاف انتخابات کہاں کھڑے ہونگے۔اگر جون 2014 میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے جہاز کا رخ موڑا جا سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنا کر جہاز کو اسلام آباد کے بجائے لاہور میں اتارا جا سکتا ہے تو کیا یہی عمل نواز شریف کے ساتھ بھی ممکن ہے یا انکو احتجاج کے لئیے کھلا میدان دے دیا جائے گا۔

نوازشریف کی وطن واپسی اور گرفتاری کے درمیان وقفہ جتنا زیادہ ہوگا نگران حکومت کے لیئے مسائل اتنے بڑھیں گے کیونکہ نگران حکومت کی پہلی ترجیح بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے جو کہ سیکورٹی فورسز کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے اگر سیکورٹی فورسز۔ نوازشریف کی آمد ا احتجاجی معاملات کو دیکھنے میں لگ جائے گی تو انتخابی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی ریٹنگ کے چکر میں زیرو کو ہیرو بنانے میں کمال رکھتا ہے کہیں ایسا نہ ہومیاں صاحب منظر پر جو آئیں تو انتخابات پس منظر میں چلے جائیں۔

میاں صاحب اور مریم نواز نے قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انکے استقبال کے لئے ضرور پہنچے۔ میاں صاحب ایک معصومانہ سوال ہے ۔کیا آپکے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز بھی اس موقع پر موجود ہونگے یا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں بیٹھ کر ٹی وی چینلز دیکھ کر قوم کا حوصلہ بڑھائیں گے۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن بات محترمہ کلثوم نواز کی علالت کی ہے کیونکہ شریف فیملی اس سے متعلق عوام کو کسی قسم کی واضح آگاہی دینے سے انکاری ہے۔ اگر میاں صاحب کلثوم نواز کی بیماری کو بھی سیاست کے لئیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ امر انتہائی افسوسناک ہوگا اس حوالے سے جو مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں وہ اتنی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

ن لیگ کا احتجاج ش لیگ کو کدھر لے جائے گا۔ کیا ریاست اپنی رٹ منوا لے گی اور نیب میاں نوازشریف اور مریم نواز کو ائیرپورٹ پر ہی گرفتار کر لے گا یا عوامی احتجاج میں شریک ہونے کا موقع دے کر ہیرو بنائے گا۔

اگر ن لیگ کے بیانیہ کو پذیرائی مل گئی تو ش لیگ کے شہبازشریف کے پاس کیا آپشن ہونگے ۔کیا وہ اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہونگے یا کوئی الگ لائن لیں گے، 13 جولائی کی رات تک بہت سی باتوں سے پردہ اٹھ جائے گا اور زیرو کو ہیرو بنانے والے پس پردہ کردار بھی آشکار ہوجائیں گے۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...