فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر473

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر473
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر473

جن موسیقاروں نے راگ راگنیوں کو اپنی موسیقی کی بنیاد بنایا وہ بے حد کامیاب رہے۔ راگ درباری ‘ میاں کی ٹوڈی ‘ خیال ٹھمری اور موسیقاروں کے پسندیدہ راگ رہے ہیں۔ آج کی جدید مغربی انداز کی موسیقی کیونکہ لوک دھنوں اور صدہاسالوں سے مقبول راگ راگنیوں سے محروم ہے اسی لیے بے جان اور بے اثر ہے۔ کوئی مقبول ترین گانا بھی چند ماہ تک ٹی وی اورویڈیو کے سہارے قبول عام حاصل کرتا ہے مگر اس کے بول سننے والوں کو پھر بھی یاد نہیں ہوتے۔ چند مہینوں بعد لوگ اسے بھول جاتے ہیں لیکن 1942ء اور اس سے بھی پہلے راگوں میں ترتیب دیے ہوئے فلمی نغمات آج بھی لوگوں کو ازبر ہیں۔ یہ دراصل راگوں اور لوک دھنوں کی بدولت ہے مگر افسوس کہ مغرب کی اندھا دھند تقلید کے جوش میں ہم اپنی جڑوں سے جدا ہر کر رہ گئے ہیں اور وہی شعر ہم پر صادق آتا ہے کہ ۔۔۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ اھر کے رہے

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر472پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پچھلی صدی نے فنون لطیفہ کی ہر صنف میں بے شمار صاحب فن لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔ علم و ادب اور فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں درجنوں ایسے قد آور لوگ موجود تھے۔ جن کا مثل آج ایک بھی نظر نہیں آتا۔ یہ دو ربڑے اور گوناگوں لب ولہجے اور انداز کے شاعروں کا دور تھا۔ نامور اور صفِ اول کے شعراء درجنوں کی تعداد میں تھے جن کے سامنے آج کے بڑے بھی بونے نظر آتے ہیں۔

سردار جعفری بھی ایک ایسا ہی نام ہیں۔کہتے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے سرخیلوں میں شامل تھے اور عملی طور پر بھی وہ اس تحریک اور سوشلزم کی ترویج مین حصہ لیتے رہے لیکن انہوں نے اپنی شاعری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ وہ ایک بے بہا اور بے مثال شاعر تھے۔ ان کے ہم عصروں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے پورے ختم ہوجائیں مگر ان کی گنتی ختم نہ ہو لیکن وہ ایسا دور تھا کہ ہر صاحب ہنر اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نمایاں ہو کر خود کو تسلیم کر الیتا تھا۔

علی سردار جعفری کا زمانہ 70سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ اس دوران میں انہوں نے ترقی پسند تحریک اور کمیونسٹ رجحانات رکھنے کے جرم میں جیلیں بھی کاٹیں، فاقے بھی کیے، ہر طرح کے دکھ اٹھائے مگر اپنے نظریات سے جنبش نہیں کی۔ وہ ان ترقی پسند اور اشتراکی شعراء اور شخصیات میں تھے جنہوں نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بھی اپنے نظریات کو تبدیلکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس اعتبار سے وہ ایک راسخ العقیدہ اشتراکی تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ بیسویں صدی کی ترقی پسند تحریک میں سب سے زیادہ قد آور اور ممتاز ترین شخصیت تھے تو غلط نہ ہوگا۔

علی سردار جعفری بھی عجیب گوناگوں طبیعت کے مالک تھے۔ اشتراکی ‘ عملی کمیونسٹ ‘ ترقی پسند ادبی تحریک کے پیش رو ‘ اس کے باوجود وہ ایک زندہ دل اور خوبصورت شخصیت اور رومانی شاعر بھی تھے۔ بذاتِ خود وہ اپنے اشعار کی مانند خوبصورت اور دلکش تھے ۔ نکلتا ہوا قد ‘ منتاسب اعضاء ‘ چہرے کے نقش و نگار ایسے کہ کسی فلم کے ہیروبن سکتے تھے۔ گھنے بال ‘ بڑی بڑی آنکھیں ‘ کھلتی ہوئی رنگت اور اس پر ان کا طرز گفتگو۔ وہ لوگوں کو مسحور کرنے والی شخصیت تھے اور ہر ملاقاتی کا دل موہ لیتے تھے۔ ان سب مصروفیات سے وقت نکال کر انہوں نے رومانی شاعری بھی کی یہاں تک کہ فلمی نغمہ نگاری سے بھی باز نہ رہے۔ ان کے لکھے ہوئے فلمی نغمات اپنی شعریت ‘ نغمگی اور خوشبو کے اعتبار سے ان کی اپنی ذات کی طرح منفرد اور نمایاں ہیں۔

پہلے تو سردار جعفری کا تعارف کرادیاجائے کیونکہ نئی پود کی اکثریت شاید ان سے واقف بھی نہ ہو۔ اس کی ایک وجہ تو مقبولِ عام سرگرمیوں سے ان کا پرہیز کرنا تھا۔ مثلاً انہوں نے بہت کم فلمی گیت لکھے حالانکہ ان کی بہت مانگ تھی پھر ستم یہ ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے جس کی وجہ سے فنکاروں اور تخلیق کاروں کی آمدورفت بہت کم رہی پھر یہ حدامتیاز بھی قائم ہوگئی کہ وہاں کے شاعر اور ادیب بھارتی جرائد میں اور پاکستانی شاعرو ادیب پاکستانی جریدوں میں لکھنے لگے۔ کتابوں اور رسائل کے آزادانہ باہمی تبادلے کی وجہ سے بھی پاکستان کی نئی پود ایسے ایسے قابل اور تخلیق لوگوں سے ناآشنا رہی جن کی اردو ادب اور شاعری کے لیے ناقابل فراموش خدمات ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...