’’ اب ہم نوازشریف کے ساتھ عدالت جائیں گے اور ۔ ۔ ۔‘‘ بلوچستان کے وکلاء نے تہلکہ خیز اعلان کردیا، مشکلات میں گھرے نوازشریف کیلئے بالآخر خوشخبری آگئی

’’ اب ہم نوازشریف کے ساتھ عدالت جائیں گے اور ۔ ۔ ۔‘‘ بلوچستان کے وکلاء نے ...
’’ اب ہم نوازشریف کے ساتھ عدالت جائیں گے اور ۔ ۔ ۔‘‘ بلوچستان کے وکلاء نے تہلکہ خیز اعلان کردیا، مشکلات میں گھرے نوازشریف کیلئے بالآخر خوشخبری آگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد  (ڈیلی پاکستان آن لائن ) بلوچستان کے وکلاء نے نوازشریف کیساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے وکلاء کا ایک وفد سماعت کے موقع پر نوازشریف کیساتھ بھیجنے کا اعلان کردیا، عدالتی فیصلہ غلطیوں سے بھرپور ہے ، فیصلہ میں لکھا گیا کہ کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی لیکن پھر 10 سال سزا بھی سنادی گئی ، پونڈز میں جرمانہ کیاگیا اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں متبادل بھی نہیں بتایاگیا، ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف نوازشریف کی اپیل لازمی منظور کرلے گی ۔یہ باتیں عدلیہ بحالی تحریک کے سرگرم رہنماء اور سینئروکیل علی احمد کرد نے کیں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہاکہ میں نوازشریف کی وکالت نہیں کروں گا لیکن میں اور بلوچستان کے وکیلوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نوازشریف کی مظلومیت، ان کی سچائی کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے عدالتی کارروائی کے موقع پر جائیں گے اور ایک وفد کی صورت میں پیش ہوں گے ۔ فلیٹس سامنے آنے اور پھر ثابت کرنے میں ناکام رہنے کے باوجود کونسی مظلومیت پر سوال کے جواب میں علی احمد کرد کاکہناتھاکہ ’174صفحوں کافیصلہ لکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قانونی لحاظ سے بہت بہترین فیصلہ ہے،  وہ عدلیہ جو خود مانتی ہے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ۔ جب کرپشن ہی ثابت نہیں ہوئی تو آپ کس بنیاد پر اس کو 10سال کی سزا دیتے ہیں، جج صاحب کی قابلیت کا آپ اندازہ لگائیں کہ جرمانہ بھی پاؤنڈز میں کیا ہے، دنیا میں سات سے آٹھ ایسے ملک ہیں جس میں پاؤنڈ ز میں کرنسی استعمال ہورہی ہے ۔ بشیر صاحب سے یہ پوچھا جائے کہ نواز شریف سے آپ کونسا پاؤنڈ جرمانے میں لیں گے سوڈان والایا مصری پاؤنڈ, لبنان والا یا برطانوی پاؤنڈ ؟؟؟‘۔

علی احمد کرد نے بتایاکہ محمد بشیر صاحب کے  فیصلے میں بے تحاشہ قانونی نقائص اور سکم موجود ہیں ، پاکستانی عدالت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی غیرملکی کرنسی میں جرمانہ عائد کرے، پاؤنڈ کیساتھ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کس ملک کا پاؤنڈ ہوگا یعنی برٹش پاؤنڈ وغیرہ ، دوسرا یہ کہ ہماری تمام عدالت جب جرمانے کی بھی سزا سناتی ہیں تو ساتھ یہ بھی جملہ لکھا جاتا ہے کہ اگر جرمانے ادا نہ کیا گیا تو اس صورت میں اتنی مزید سزا کاٹنا پڑے گی ، یہ فیصلہ ہرلحاظ سے نقائص سے بھرا ہے، میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ کیس جیسے ہی ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے گیا تو  ایک دو سماعتوں کے دوران ہی اپیل منظور کرلی جائے گی ۔ 

مزید : قومی