چلتی گاڑی سے چھلانگ مارنے کے بعد شوہر نے اپنی بیگم کے خلاف مقدمہ کردیا، مگر کیوں؟ ایسی لڑائی تاریخ میں کبھی کسی میاں بیوی کے درمیان نہ ہوئی ہوگی

چلتی گاڑی سے چھلانگ مارنے کے بعد شوہر نے اپنی بیگم کے خلاف مقدمہ کردیا، مگر ...
چلتی گاڑی سے چھلانگ مارنے کے بعد شوہر نے اپنی بیگم کے خلاف مقدمہ کردیا، مگر کیوں؟ ایسی لڑائی تاریخ میں کبھی کسی میاں بیوی کے درمیان نہ ہوئی ہوگی

سڈنی (نیوز ڈیسک) میاں بیوی کی لڑائی ہر زمانے اور ہر علاقے میں پائی جانے والی حقیقت ہے لیکن شاید تاریخ میں کسی میاں بیوی کے درمیاں لڑائی کا ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ہو گا جو گزشتہ دنوں ایک آسٹریلوی جوڑے کے درمیاں پیش آ گیا۔برائن لیم اور انکائنگ چو نامی یہ جوڑا باہر کھانا کھانے کے بعد گھر واپس آ رہے تھے کہ ان کے درمیاں لڑائی ہو گئی اور برائن نے مشتعل ہو کر چلتی گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی۔ظاہر ہے کہ اس حرکت کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا، لیکن عجب بات یہ ہوئی کہ چند دن بعد وہ شکایت لے کر پولیس کے پاس جا پہنچا اور اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ بھی درج کروا دیا۔

ویب سائٹ abc.net.au کے مطابق برائن نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بیوی کی نظر آرہا تھا کہ وہ غصے میں آ کر گاڑی سے باہر چھلانگ لگا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے گاڑی کی بریک نہیں لگائی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر اس کی بیوی بریک لگا دیتی تو اس پہنچنے والا نقصان بہت کم ہوتا۔

عدالت کے لئے بھی یہ مقدمہ اتنا سادہ ثابت ناہوا۔ جج کو فیصلے کے لئے بائیومکینکل انجینئرنگ کے ماہرین سے رہنمائی لینی پڑی تا کہ معلوم ہو سکے کہ بریک لگانے کی صورت میں صورتحال کیا ہو سکتی تھی۔ ماہرین نے رائے دی کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا گاڑی 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ گاڑی میں اس جوڑے کے دو کمسن بچے بھی موجود تھے۔ اگر اس حالت میں انکائنگ ایمرجنسی بریک لگاتی تو اس کے بچوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا جبکہ سڑک پر کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا تھا۔ 

ان آراء کی روشنی میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ انکائنگ اس بات میں حق بجانب تھی کہ اس نے اچانک بریک نہیں لگائی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی نارمل شخص سے ایسے فعل کی توقع نہیں کی جا سکتی جس کا ارتکاب برائن نے کیا، لہٰذا وہ کسی قسم کے ہرجانے کا حقدار نہیں ہے۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...