حکومت وڈیو کے فرانزک آڈٹ سے پیچھے ہٹ گئی؟

حکومت وڈیو کے فرانزک آڈٹ سے پیچھے ہٹ گئی؟

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے جج کی وڈیو پر عدلیہ خود کارروائی کرے، عدالتیں مکمل فرانزک آڈٹ کا حکم دیں، ہر سہولت دیں گے۔حکومت کو وڈیو معاملے پر پارٹی نہیں بننا چاہئے، عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے اسے مبینہ وڈیو کا نوٹس لینا چاہئے، وزیراعظم نے حکومت کے ترجمانوں کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

جج کی وڈیو ہفتے کے روز مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں عام کی تھی جس کے ساتھ ہی اس پر تبصروں اورتجزیوں کا ایک نہ تھمنے والا طوفان آگیا، وڈیو کو جعلی قرار دیا گیا اور حکومت کے ایک سے زیادہ ترجمانوں نے بار بار اعلان کیا کہ وڈیو کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا، لیکن وزیراعظم نے ان سب اعلانات کے برعکس موقف اختیار کر لیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام کے تمام سرکاری ترجمان اس ضمن میں جو کچھ بھی کہہ رہے تھے وہ یا تو حکومت کا موقف نہیں تھا اور ترجمانوں کی اپنی رائے تھی، یا پھر دو دن کے واقعات کے بعد حکومتی موقف میں تبدیلی آگئی، ویسے بھی لگتا ہے ہر ترجمانوں نے جوش جذبات میں اپنا اپنا ہی موقف پیش کرنا شروع کردیا اور یوں حکومت کا کوئی طے شدہ موقف سامنے نہ آسکا، اب وزیراعظم نے اپنے آپ کو اس وڈیو معاملے سے الگ کرکے بال عدلیہ کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔ دیکھیں وہاں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ ویسے اگر اس سارے معاملے کی تحقیقات عدلیہ کرائے یا حکومت، معاملے کی تہہ تک پہنچنا بہت ضروری ہوگیاہے۔

جج ارشد ملک نے یہ تو کہا ہے کہ وڈیو میں جعل سازی کرکے مختلف اوقات میں ہونے والی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، لیکن وڈیو بنانے والے کے ساتھ اپنے تعلقات سے انکار نہیں کیا، جج صاحب اب یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالتی نظام اجازت دے تو پریس کانفرنس کرسکتا ہوں، وہ چونکہ خود جج ہیں، قانون کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، شب و روز قانون اور انصاف کی گتھیاں سلجھاتے ہیں، گناہ گاروں کو سزائیں دیتے ہیں، بے گناہوں کو رہا کرتے ہیں۔ اس لئے وہ بہتر جانتے ہوں گے کہ عدالتی نظام ان جیسے کسی جج کو پریس کانفرنس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں، لیکن ان کے لئے ایک راستہ ہمیشہ سے کھلا ہے اور آج بھی ہے کہ وہ اپنے منصب سے مستعفی ہوکر جتنی چاہیں پریس کانفرنسیں کریں، اگر ان کے مخالفین ان کے خلاف وڈیو لاسکتے ہیں تو ان کے پاس بھی تو کہنے کے لئے بہت کچھ ہوگا۔ اس لئے یہ وقت ہے کہ وہ اپنے عدالتی کیرئر کی بجائے یہ دیکھیں کہ تاریخ انہیں کس طرح یاد رکھے گی، وہ تاریخ میں سرخرو ہونا چاہیں گے یا ایک سرکاری منصب سے چمٹے رہنا ان کی ترجیح ہوگی۔

ان پر جو الزام لگا اس کی وہ تحریری وضاحت ایک پریس ریلیز کی شکل میں کر چکے ہیں، جو اخبارات میں چھپ چکی اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی نشر ہوگئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ پریس ریلیز تو تحریری شکل میں سامنے تھی اسے تو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ممکن نہ تھا۔ البتہ خبریں بنانے والے فقروں کی ترتیب کو آگے پیچھے کر لیتے ہیں اور اہم تر بات کو نمایاں کرنے کیلئے ایسا کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر انہیں گلہ ہے کہ ان کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تو اس کا فوری حل تو یہ ہے کہ وہ نئی پریس ریلیز جاری کردیں، جس میں توڑے مروڑے الفاظ کی درستی کر دی جائے، کیونکہ اگر وہ ایک پریس ریلیز جاری کرنے کے مجاز تھے تو دوسری کے کیوں نہیں ہوں گے؟ فی الحال اگر وہ کسی وجہ سے براہ راست پریس کانفرنس نہیں کرسکتے تو بھی ان پر اپنا موقف سامنے لانے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔

معاملے کا بہترین حل تو یہی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ وزیراعظم کی تجویز پر خود ہی تحقیقات کا آغاز کردے اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ وڈیو سامنے لانے والی مریم نواز تو کہہ رہی ہیں کہ حکومت پہلے ہی وڈیو کا فرانزک آڈٹ کرا چکی ہے جس کی رپورٹ یہ ہے کہ وڈیو بالکل درست ہے، اگر اس دعوے میں مبالغہ یا غلط بیانی نہیں ہے تو پھر اس نتیجے میں پہنچا جاسکتا ہے کہ حکومت وڈیو فرانزک کے بعد اس سے پیچھے ہٹی ہے، ورنہ دو روز تک تو بار بار کہا گیا کہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا۔ اچانک موقف بدلنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے، مریم نواز کے اس الزام کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے ویسے کہا جا رہا ہے کہ جرمنی کے ایک ادارے سے وڈیو کا فرانزک آڈٹ پہلے ہی کرایا جا چکا ہے جس نے اس کی تصدیق کردی ہے۔ اس لئے یہ اور بھی ضروری ہو چکا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں اس معاملے کی تحقیقات کے آغاز کا حکم دیں اور اس سے قبل اگر ممکن ہو تو جج ارشد ملک کو فرائض کی ادائیگی سے روک دیا جائے، تاکہ وہ معاملات پر اثرانداز نہ ہوں، کیونکہ ان کی عدالت میں ایسے مزید مقدمات بھی زیرسماعت ہوں گے جن میں ملوث لوگ اس وڈیو کے حوالے سے ان کے عدالتی منصب پر سوال اٹھا سکتے ہیں، انسانوں کی قسمتوں کے فیصلے کرنیوالوں کا کردار ہر لحاظ سے روشن اور چمکدار ہونا چاہئے۔ اگر اس پر چھینٹے پڑ جائیں یا شکوک و شبہات کے دھبے لگ جائیں تو ان کے فیصلوں پر بھلے عمل درآمد ہو جائے، اور لوگ پھانسیوں پر بھی جھول جائیں، لیکن قوموں کا اجتماعی ضمیر ایسے فیصلوں کو قبول نہیں کرتا اور کبھی کبھار تو ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ فیصلے کرنے والے جج خود بقائمی ہوش وحواس یہ بھی لکھ کر ریکارڈ پر لے آتے ہیں کہ انہوں نے فلاں فیصلہ دباؤ کے تحت کیا تھا۔

جو وڈیو زیر بحث ہے اس کا سارا شور ابھی تک صرف میڈیا اور اخبارات تک محدود ہے، حکومت مخالف سیاستدان اس کا ذکر کر رہے ہیں اور سرکاری ترجمان جواب دے رہے ہیں، بالواسطہ طور پرانہوں نے جج کی ترجمانی کا کام سنبھالا ہواہے جس کے وہ مجاز ہیں یا نہیں وہ خود بہتر جانتے ہوں گے، تاہم جج صاحب کو جواب دینے سے کسی نے نہیں روکا ہوا۔ بہتر ہے وہ خو د خم ٹھونک کر سامنے آئیں اور اپنا موقف ڈٹ کر پیش کریں، کیونکہ ان کے اپنے بقول وہ کوئی دباؤ قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سے بھی ملاقات کی ہے وہاں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا ہوگا لیکن جب تک یہ وڈیو کسی عدالتی فورم پر پیش نہیں کی جاتی یہ اصلی ہو یا نقلی یا ایڈٹ شدہ، اس کے کوئی قانونی اثرات مرتب نہیں ہوسکتے۔ اس لئے انتظار کرنا چاہئے کہ یہ کب کسی عدالت میں پیش ہوتی ہے یا پھر اعلیٰ عدالتیں وزیراعظم کی پیشکش کے جواب میں کیا اقدامات کرتی ہیں، یہ معاملہ اب عوام کی عدالت میں بھی ہے اور محض الزام تراشیوں یا جوابی الزام تراشیوں کے ذریعے اس پر مٹی نہیں ڈالی جاسکتی، اب اس کو دفن کرنے کے لئے بھی تو کچھ سلیقہ درکار ہوگا کیا اس کا کہیں وجود ہے؟

کپتان کا جارحانہ دفاع

مزید : رائے /اداریہ