کپتان کا جارحانہ دفاع

کپتان کا جارحانہ دفاع

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد ٹولیوں میں واپس آئے اور اپنے عذر بھی پیش کر رہے ہیں، اس ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کراچی آئے اور ایک پریس کانفرنس کی اس میں انہوں نے شرمندگی کا اظہار کرنے کی بجائے جارحانہ انداز میں دفاع کیا اور کہا ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی اور ٹورنامنٹ میں پانچویں پوزیشن حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے اپنی کپتانی کے حوالے سے بھی باغیانہ موقف اختیار کیا جس سے ان خبروں کی تصدیق ہوتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ سرفراز احمد کہتے ہیں کہ وہ کپتانی کیوں چھوڑیں ان کو بورڈ نے نامزد کیا اور بورڈ ہی فیصلے کا مجاز ہے۔ یوں وہ مستقبل میں بھی کپتان ہی رہنا چاہتے ہیں۔ یہ موقف اختیار کرتے وقت وہ بھول گئے کہ ان کو ورلڈکپ تک کے لئے کپتان مقرر کیا گیا تھا اور اب ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم کا سفر اختتام پذیر ہو چکا اور وہ واپس آ چکے ہیں،لہٰذا اب وہ کپتان نہیں ہیں اور آئندہ کے لئے بورڈ ہی فیصلہ کرے گا یہ درست ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی طرف سے پہلے بتا دیا گیا کہ معمول کے مطابق ٹیم کی واپسی کے بعد کارکردگی اور نظم و ضبط کا جائزہ لیا جائے گا۔ ورلڈکپ تک چیف کوچ اور دوسرے اہلکاروں سمیت سلیکشن کمیٹی کی مدت بھی پوری ہو چکی۔ شائقین کا مطالبہ ہے کہ بورڈ غلط اقدامات کا جائزہ لے،کارکردگی جانچی جائے اور جواب طلبی کی جائے۔ کوچ مکی آرتھر، دوسرے کوچز اور سلیکشن کمیٹی کے معاہدے بھی ورلڈکپ تک تھے، جو اب از خود ختم بھی ہو چکے ہیں۔ اس لئے ان سب حضرات کی علیحدگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سرفراز احمد کی نہ صرف بطور کپتان کارکردگی بری رہی بلکہ وہ میچوں میں بھی اپناکردار ادا نہ کر سکے، حالت یہ کہ پانچ سو سکور کرنے کا دعویٰ کرنے والے کپتان خود بیٹنگ ہی کے لئے نہ آئے اور مجبوراً ان کو آنا پڑا تو وہ نمبر10پر آئے اور ایک سکور کیا۔ ان کی قیادت پر بھی اعتراض ہیں وہ زیادہ اور مسلسل سیریز ہارنے والے ہیں، ان کو خود ہی ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ