افغانستان: جنگ بندی اور عورتوں و اقلیتوں کا مستقبل

افغانستان: جنگ بندی اور عورتوں و اقلیتوں کا مستقبل
افغانستان: جنگ بندی اور عورتوں و اقلیتوں کا مستقبل

  


گزشتہ اتوار قطر کے دارالحکومت دوھا میں افغان اشرافیہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے۔ افغانستان سے آنے والے 70 سے زائد معزز افراد نے طالبان نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی۔ دو روزہ کانفرنس کی میز بانی قطری اور جرمن حکام نے کی۔ ان افغان ڈیلیگیٹس میں طاقتور اور ایک دوسرے سے دشمنی کی تاریخ رکھنے والی شخصیات بھی شامل تھیں۔ افغانستان و پاکستان بارے جرمنی کے خصوصی نمائندے مارکس پوزل نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو ایک منفرد موقع ملا ہے اور منفرد ذمہ داری ملی ہے کہ آپ جنگ وجدل سے لہو لہان ملک میں جاری جنگ کو مذاکرات سے بدل دیں۔ قطری وزارت خارجہ کے کاؤنٹر ٹیررازم کے خصوصی نمائندے مطلق القھتانی نے کہا کہ ہمیں افغانستان کے مستقبل کا نقشہ ترتیب دینا چاہئے۔

دوھا میں طالبان کے نمائندے سہیل شاہین بھی اس کانفرنس میں موجود تھے۔ دوھا/ قطر میں ایک عرصے سے افغان امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔ طالبان ایک ہی بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ غاصب / حملہ آور غیر ملکی افواج افغانستان سے کب واپس جائیں گی۔ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے بھی طالبان کا یہی موقف تھا کہ افغانستان کا مسئلہ امریکی اتحادی افواج کے افغانستان پر حملہ آور ہونے کے باعث شروع ہوا تھا۔ اس مسئلے کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حملہ آور یہاں سے رخصت ہونے کاٹائم ٹیبل دے، تاکہ امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔ افغانوں کی سینکڑوں نہیں ہزاروں سالہ تاریخ اسی بات کے گرد گھومتی ہے کہ وہ حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے ہیں۔

دوسری طرف دنیا کی سپریم پاور امریکہ ہے جو نہ صرف عالمی معیشت کا انجن ہے۔ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں بھی دنیا کی قیادت کر رہا ہے امریکہ کی حربی و ضربی طاقت کا بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکی طرز حیات بھی دنیا کے لئے کشش رکھتا ہے۔ افغانوں نے امریکہ کے عالمی طاقت ہونے کا بھرم، پاش پاش کر دیا ہے۔ گزرے 18 سالوں میں امریکہ افغانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو رہا ہے۔ طالبان نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ انکے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے۔ امریکہ ہی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے کاوشیں کرتا رہا ہے۔

جدید افغانستان کا ماضی ہی نہیں بلکہ حال بھی پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ گزری نصف صدی سے افغانستان میں وقوع پذیر ہونے والی سرگرمی کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے ستر کی دھائی میں یہاں شروع ہونے والی داخلی آویزش میں پاکستان ایک فریق بنا دیا گیا تھا کنگ ظاہر شاہ کی معزولی اور سردار داؤد کے حکمران بننے سے لے کر انقلاب ثور اور پھر دسمبر 79 میں اشتراکی افواج کے افغانستان میں داخلے تک پاکستان معاملات میں بالواسطہ فریق تھا،پھر جب پاکستان کے جنرل ضیا ء الحق نے افغان عوام کی اشتراکی افواج کے خلاف جدو جہد آزادی کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس طرح پاکستان افغان معاملات میں براہ راست دخیل ہو گیا۔ جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ اگر اشتراکی افغانستان پر قابض ہو گئے اور ان کی یعنی اشتراکی روس کی سرحدات پاکستان سے متصل ہو گئیں تو پھر اشتراکیوں کا اگلا نشانہ پاکستان ہو گا۔ انکی یہ اپروچ روس کی پانچ سو سالہ توسیع پسندانہ تاریخ کے مطالعے کا نچوڑ تھی روسی جہاں بھی گئے انہوں نے وہاں سے اپنی سرحدات کو وسعت دی اسطرح ماسکو وی گاؤں سے ایک وسیع اشتراکی سلطنت وجود میں آئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے اسی اپروچ کے تحت افغان مجاہدین کی اشتراکی افواج کے خلاف مزاحمت کو سپورٹ کیا اور پھر اشتراکی افواج کی واپسی کا تاریخی وقوعہ رونما ہوا۔ اشتراکیوں / روسیوں کی پانچ سو سالہ تاریخ کا یہ پہلا واقع تھا کہ ان کی افواج کسی مقبوضہ ملک سے واپس گئیں پھر ایسی واپسی ہوئی کہ وسیع عریض اشتراکی ریاست 15 ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر عالمی قیادت و سیادت کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔

امریکی نکلنے سے پہلے اس بات کی یقین دھانی چاہتے ہیں کہ یہاں ان کے مفادات محفوظ رہیں گے۔ یہاں اقوام مغرب کے خلاف حکومت قائم نہیں ہو گی۔ عورتوں کے حقوق محفوظ رہیں گے اقلیتوں کو امان نصیب ہو گی اور سب سے اہم ان کے پروردہ، افغان حکمران نئے سیٹ اپ میں بھی شریک اقتدار ہوں گے۔ یہ ساری باتیں جتنی دیکھنے اور سننے میں خوبصورت اور آسان نظر آتی ہیں عملاً انتہائی مشکل ہیں طالبان نے جارح افواج کے خلاف 18 سال تک جدوجہد اسلئے نہیں کی کہ یہاں مغربی تہذیب اور تمدن کو فروغ ملے۔ افغان معاشرہ اپنی ہی روایات کا حامل ہے اور افغان ہزاروں سالوں سے انہی روایات کے امین رہے ہیں،اب امریکی دباؤ یا درخواست کے نتیجے میں وہ اپنی روایات سے انحراف کیسے کریں گے،اس لئے افغان امن مذاکرات کا حال برا ہے۔ مستقبل بھی اچھا دکھائی نہیں دیتا۔باقی حقیقت صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو پتہ ہے۔

مزید : رائے /کالم