بوتل کے جن

بوتل کے جن
بوتل کے جن

  


وفاقی بجٹ آئے تین ہفتے ہو چکے ہیں۔ ان تین ہفتوں میں کئی بار سوچا کہ بجٹ کا پوسٹ مارٹم کیا جائے کیونکہ اس میں بہت سی ایسی چیزیں شامل کی گئی ہیں،جن سے عوام کی اکثریت براہِ راست نہ صرف متاثر ہوگی بلکہ اس کے لئے عزت سے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو تا جائے گا۔ لگتا ہے امریکہ اور آئی ایم ایف نے ارادہ کر لیا ہے کہ مصر کی طرح پاکستانی عوام کی ننگی پیٹھوں پر بھی معاشی کوڑے برسائے جائیں اور شائد اسی لئے انہوں نے مصر میں موجود اپنے عملہ کی پاکستان ٹرانسفر کر دی ہے۔پاکستان کا بجٹ 2019-2020ء کے مضرت رساں اثرات اتنے کثیر الجہت ہیں کہ ان پر بہت توجہ سے باربار لکھنا پڑے گا۔ شدید خواہش کے باوجود یہ کام ابھی تک شروع اِس لئے نہیں کیا جا سکا ہے کہ پچھلے چند ہفتوں سے ملکی سیاست خطرناک موڑ مڑنے کے بعد تیزی سے کھائی کی طرف جا رہی ہے۔ مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس بہت تشویش ناک ہے، جس میں میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی انتہائی ہوش ربا انکشافات کرتے ہوئے ویڈیو دکھائی گئی ہے،

جس سے نہ صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ جج صاحب کے پاس سزا سنانے کے سوا کوئی اور آپشن موجود ہی نہیں تھا، بلکہ عدالتی خود مختاری پر بہت سے سوالیہ نشان بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگوں کو یاد ہو گا کہ 2007ء میں برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ نے پاکستانی عدلیہ کے متعلق ایک سٹوری شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی عدالتوں میں سیاسی مقدمات کے فیصلے ججوں پردباؤ ڈال کر کروائے جاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جج ارشد ملک کی مبینہ وڈیو کے بعد کون کون سے نئے جن بوتل سے باہر آتے ہیں۔ میں بار بار لکھتا رہا کہ پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد، یگانگت اور درگذر سے کام لیتے ہوئے ملک کو آگے لے کر چلنے کی ہے، لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے۔ قوموں کی تاریخ میں حادثات اچانک نہیں ہوتے بلکہ ہرحادثہ کے پیچھے نہ صرف اس کا پس منظر اور عوامل تھے، بلکہ سالہا سال تک ان سے بچنے کے اسباب بھی موجود ہوتے تھے۔ سمجھدار قومیں اپنے آپ کو حادثات سے بچا لیتی ہیں لیکن نادان قومیں ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کی گردان کرتے کرتے حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ سینکڑوں سال پہلے ہونے والے سقوطِ بغداد یا سقوطِ غرناطہ ہوں یا ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والا سقوطِ ڈھاکہ، ہر جگہ دوسروں کی مہارت سے زیادہ اپنی نادانیوں کی فہرست زیادہ طویل تھی،جو قومیں بوتل سے جن نکالنے کے بعد اسے واپس بوتل میں بند نہیں کر پاتیں، وہی قومیں بالآخر فیصلہ کن شکست کھاتی ہیں۔

دُنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں جنوں سے بھری ہوئی بوتل موجود نہ ہو، جو قومیں ترقی کرنا چاہتی ہیں وہ ہر قیمت پر بوتل کا ڈھکن بند رکھتی ہیں تاکہ کوئی جن باہر نکل کر تباہی نہ مچائے۔ بہت سے ملک ایسے ہیں جہاں نہ کبھی بوتل کا ڈھکن کھلا اور نہ جن باہر نکلے۔ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ اگر کسی وجہ سے کسی ملک میں بوتل سے کوئی جن باہر آگیا تو کسی مدبر رہنما یا سٹیٹس مین نے کمال مہارت سے اسے بوتل میں واپس بند کرکے بوتل کا ڈھکن اچھی طرح بند کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤزے تنگ اور ان کی بیگم صاحبہ نے 1966ء میں نہ جانے کس زعم میں ثقافتی انقلاب کا جن بوتل سے باہر نکال دیا جو اس قدر بے قابو ہوا کہ لاکھوں چینیوں کو ہڑپ کر گیا۔ اس موقع پر اپنے دور کے بہت بڑے سٹیٹس مین چین کے وزیراعظم چو این لائی نے اس جن کو بہت مہارت اور محنت سے 1971ء میں ’چار کے ٹولے‘ کو گرفتار کرکے بوتل میں واپس بند کیا اور چین دوبارہ سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا۔ اسی طرح برطانیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انگریز ایک ڈنڈی مار قوم ہے، جہاں جہاں کسی کو آزادی دی تو ڈنڈی ضرور ماری۔

سلطنت برطانیہ نے 1922ء میں جب آئرلینڈ کو آزادی دی تو ایک ڈنڈی یہ ماری کہ چار اضلاع کو شمالی آئرلینڈ کا نام دے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ آئرش پورے ملک کی آزادی مانگتے تھے، اِس لئے شمالی آئرلینڈ والوں نے آئرش ریپبلکن آرمی (آئی آر اے) بنا کر لندن اور برطانیہ کے دوسرے شہروں میں بم دھماکے کرنے شروع کر دیئے۔ایسے ہی ایک دھماکے میں ہندوستان کے آخری وائسرائے اور ملکہ برطانیہ کے قریبی عزیز لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی ہلاک ہوئے۔ جب جن قابو سے باہر ہو گیا اور برطانیہ میں ہونے والے دھماکوں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا گیا تو بالآخر برطانوی حکومت ایک معاہدہ کے ذریعہ 1995ء میں آئرش جن کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے میں کامیاب ہوئی جو ابھی آرام سے اندر بیٹھا ہے۔

امریکہ میں آئین فیڈریشن ہوگا یا کنفیڈریشن، یہ سیاسی جھگڑا خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا۔ شمالی ریاستیں فیڈریشن اور جنوبی ریاستیں کنفیڈریشن کی حامی تھیں۔ ان کی سول وار چار سال جاری رہی،جس میں دونوں طرف سے لڑنے والے لاکھوں لوگ اور شہری ہلاک ہوئے۔ بالآخر ابراہم لنکن فتحیاب ہوا، امریکہ فیڈریشن بنا اور کنفیڈریشن کا جن بوتل میں ایسا بند ہوا کہ ڈیڑھ سو سال سے بند ہے اور اس کے دوبارہ باہر نکلنے کے آثار آنے والے برسوں میں دور دور تک نظر نہیں آتے۔ فرانس میں کئی انقلاب آئے، خانہ جنگیاں ہوئیں، ملک کئی بار تقسیم ہو کر مختلف ہاتھوں میں رہا، آئین بار بار بنا اور ختم ہوا، بالآخر جنرل ڈیگال نے فرانس کو 1955ء میں پانچویں جمہوریہ بناتے ہوئے ہر طرح کے جن بوتل میں بند کر دئیے، جس وقت چینی وزیراعظم چو این لائی ثقافتی انقلاب کا جن بوتل میں بند کر رہے تھے، ہمارے فوجی حکمران اگرتلہ سازش کیس کا جن بوتل سے باہر نکال رہے تھے۔ چین نے ترقی کی طرف سفر شروع کیا اور ہمارے نکالے ہوئے جن نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیئے۔

ہم ماضی سے کوئی سبق سیکھنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ پہلے تو کوئی ایک آدھ جن بوتل سے باہر نکل آتا تھا، لیکن اب کچھ سال سے ہم نے بوتل کا ڈھکنا ہی اتار کر سائڈ پر رکھ دیا ہے۔ اپنی مرضی سے جن اندر باہر آ جا رہے ہیں۔ ابھی حال ہی ہم نے سیاسی انتقاموں والے جن باہر نکالنے شروع کر دئیے ہیں۔ پانامہ لیکس نے جن باہرنکالنے کے لئے سنہری موقع فراہم کیا۔ اپریل 2016ء میں جب ایک جرمن اخبار نے یہ سٹوری بریک کی تھی، تو پاکستان سمیت بہت سے ممالک کے لوگوں کے نام اس میں موجود تھے۔ باقی ملکوں نے اپنے اپنے بوتلوں کے ڈھکن بند کئے کہ مبادا کوئی جن باہر آ جائے۔ ہم نے اسے جن باہر نکالنے کا بہترین موقع سمجھتے ہوئے ایک ایسے وزیراعظم کو نشانہ بنایا جو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت رکھتا تھا۔ ہمارے دوست آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمنڈ ڈیوڈ گن لاگسن کی مثال دینا نہیں بھولتے، جنہوں نے پانامہ لیکس کے بعد استعفیٰ دیا تھا لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ وزیراعظم گن لاگسن کے خلاف پہلے سے ہی تحریک عدم اعتماد پیش ہو نے جا رہی تھی جس میں وزیراعظم موصوف کی شکست یقینی تھی۔

کچھ ان ممالک کی سیاسی روایات اور کچھ آئس لینڈ میں حکومتی پارٹی کو درپیش مشکلات کہ انہوں نے استعفیٰ دے کر گھر جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ استعفیٰ نہ دیتے تو بھی کچھ دِنوں بعد عدم اعتماد کے ذریعے بھیج دئیے جاتے۔ پانامہ لیکس کے بعد پاکستان میں جنوں کے نکلنے کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، نئی حکومت لائی گئی اور اس حکومت نے احتساب کے نام پریکطرفہ کارروائیاں بھی شروع کر دیں۔ جب تک معاملہ سیاسی حدود کے اندر تک رہا اتنا تشویش ناک نہیں تھا جتنا اب اس کے دائرہ کار کو وسیع کر کے کر دیا گیا ہے، جس میں احتساب اور انتقام کو یکجا کرکے بوتل سے نئے نئے جن نکالے جا رہے ہیں۔ اس میں حالیہ ترین اضافہ منشیات کے جن کو بوتل سے باہر نکالنے کا ہے اور رانا ثناء اللہ اس کے پہلے شکار بن چکے ہیں۔

لوگوں کو یاد ہوگا کہ سینیٹر سیف الرحمان جب احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں کر رہے تھے تو انہوں نے آصف علی زرداری کو منشیات کے مقدمہ میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ چودھری شجاعت حسین نے بہت دانشمندی سے اس منصوبہ کو ناکام بنایا تھا، جس کی وجہ سے یہ جن بوتل سے باہر نہیں آ سکا تھا۔ اب اکیس سال بعد بالآخر یہ جن بھی بوتل سے باہر آنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ نے اس جن کو باہر آنے سے روک دیا تھا لیکن موجودہ وزیرداخلہ اسے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور اب یہ جن کس کس کو ہڑپ کرے گا اس کے بارے میں کچھ کہنا ابھی ممکن نہیں ہے، لیکن جن چونکہ بوتل سے باہر آ چکا ہے اِس لئے اب اس کا شکار کوئی بھی بن سکتا ہے۔ مَیں صرف دُعا ہی کر سکتا ہوں کہ ہماری سیاست میں کرپشن اور نااہلی کے جنوں کے ساتھ ساتھ منشیات کا جن زیادہ تباہی نہ مچا سکے اور بہتر ہو گا کہ اجتماعی کوشش کرکے اسے دوبارہ بوتل میں بند کر دیا جائے، کیونکہ یہ تمام جنوں میں سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ اگر خدانخواستہ سیاسی بنیادوں پر رانا ثناء اللہ کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے۔بد قسمتی سے عمران خان ملک کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کرنے والے سیاست دان ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے حالات تباہی کی طرف جا رہے ہیں، کیونکہ مختلف انتقامی جنوں کو بوتل سے نکال دیا گیا ہے۔ ان جنوں کو جو بھی بوتل میں واپس بند کرے گا وہی پاکستان کا ابراہم لنکن،چو این لائی اور چارلس ڈیگال جیسا سٹیٹس مین بنے گا۔

مزید : رائے /کالم