احتساب کی ہلکی پھلکی موسیقی

احتساب کی ہلکی پھلکی موسیقی
احتساب کی ہلکی پھلکی موسیقی

  


کئی ماہ ہو گئے ہیں یہی سننے کو مل رہا ہے کہ ایک بہت بڑے اور سخت احتساب کا جھکڑ چلنے والا ہے، مگر ابھی تک اسے کسی نے احتساب کا سونامی نہیں کہا، وگرنہ اس کا حال بھی تبدیلی کے اس سونامی جیسا ہوتا جو اب قصہ ء پارینہ بن چکا ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ ایساکیا ہوا ہے،جس کی بنیاد پر ہم اس خوش فہمی میں مبتلاہوجائیں کہ بہت بڑے احتساب کی آندھی آنے والی ہے۔ سب کچھ تو اسی طرح چل رہا ہے۔ بس دو شخصیات آئے روز یہ بتاتی رہتی ہیں کہ جنہوں نے کرپشن کی ہے، انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ ایک وزیراعظم عمران خان اور دوسرے چیئرمین احتساب بیورو سابق جسٹس جاوید اقبال ……باتوں سے آگے بات بڑھے تو ہم بھی کہیں کہ واقعی جھکڑ چلنے لگا ہے، یہاں تو گھوم پھر کر وہی چند سیاستدان، چند ماضی کے حکمران نیب کو مطلوب نظر آتے ہیں، باقی تو جیسے پورا ملک دودھ میں نہایا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ نیب نے پورے ملک میں جو اپنے ریجنل دفاتر بنائے ہوئے ہیں، ان کی کارکردگی کیا ہے یا ان کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف سیمینار منعقد کرائیں اور عام آدمی کو،جس کے پاس روزمرہ اخراجات کے لئے بھی مشکل سے وسائل ہوتے ہیں، کرپشن سے انکار کا پیغام دیں۔جو کرپٹ مافیا ہے کیا وہ اس قسم کے سیمیناروں کا محتاج ہے۔ کیا اسے یہ نیکی اور کرپشن سے دوری کی باتیں بتا کر راہ راست پر لایا جا سکتا ہے۔ اس کا تو کڑا احتساب ضروری ہے۔ ملتان میں ایک سے بڑھ کر ایک کرپٹ موجود ہے۔ اپنی آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے والوں کو تو ڈھونڈنا بھی نہیں پڑتا۔ کل کے ککھ پتی آج کے ارب پتی ہیں، ان میں پٹواری سے لے کر بیسویں گریڈ تک کے افسران بھی شامل ہیں، جنہیں ہم نے خود معجزاتی طور پر امیر کبیر ہوتے دیکھا ہے۔ کئی سیاستدان بھی اپنی دنیا بدل چکے ہیں، لیکن نیب ملتان نے کسی ایک کو بھی مثال نہیں بنایا۔ صرف سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نیب کے ریڈار پر ہیں، وہ بھی نیب ملتان نہیں، بلکہ نیب اسلام آباد کے ریفرنس میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔

اگر کوئی کہتا ہے کہ نوازشریف کو سزا، آصف علی زرداری، فریال تالپور، حمزہ شہباز یا خواجہ برادران کی گرفتاریوں سے کرپشن میں کمی آ گئی ہے تو اسے پاگل خانے میں چھوڑ آنا چاہیے۔کرپشن کا بازار تو اسی طرح گرم ہے۔ دفتروں، تھانوں، اراضی سنٹروں، ہسپتالوں حتیٰ کہ تعلیمی محکموں میں بھی جس کا جتنا بس چل رہا ہے، کرپشن کئے جا رہا ہے۔ یہ وہ بدعنوانی ہے،جس کا سانپ براہ راست عوام کو ڈستا ہے۔ اوپر کی سطح پر بدعنوانی تو عوام کی جیبوں پر اتنا اثر نہیں ڈالتی، جتنا یہ نچلی سطح کی کرپشن تباہ کرتی ہے۔ اب نیب کے چیئرمین تو پچھلے چالیس برس کا حساب ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں۔ آج عوام کو ایک کرپٹ اور ظالمانہ نظام سے نجات کون دلائے گا؟ احتساب کا جھکڑ اگر واقعی چلے تو پھر وہ سال و سن نہیں دیکھے گا، نہ ہی بڑی کرپشن یا چھوٹی کرپشن میں کوئی تمیز کر پائے گا، لیکن یہاں تو جھکڑ کی بجائے بس ہلکی پھلکی ہوا چل رہی ہے۔

ایک کرپٹ معاشرے میں احتساب کی جو شدت اور سرعت ہونی چاہیے، وہ بالکل نظر نہیں آ رہی۔ چند ہائی پرفائل کیسوں کی بنیاد پر ملک میں احتساب کا شور مچا ہوا ہے۔ کیا ان سے کرپشن ختم ہو جائے گی۔ یہ نیب اپنے ایسے اعداد و شمار بھی سامنے لائے کہ اس نے اب تک کتنے لوگوں کو سزا دلوائی ہے، کتنے لوگوں سے قومی دولت واپس لی ہے۔ سزا میں صرف نوازشریف کی مثال پیش کی جاتی ہے اور لوٹی دولت کا ذکر آئے تو ڈبل شاہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ڈبل شاہ نے عوام کا پیسہ لوٹا تھا۔ جن لوگوں نے قومی خزانہ لوٹا ہے، اپنے سرکاری اختیارات کو کرپشن کے لئے استعمال کیا ہے، نیب ان کی بھی تو کوئی مثال پیش کرے۔

بس ریفرنس دائر ہو رہے ہیں، تفتیش جاری ہے، پیشیاں چل رہی ہیں اور احتساب کا جھکڑ نہیں، بلکہ چھکڑا چل رہا ہے۔ نیب نے جو خوف و ہراس پھیلایا ہے، اس کا کوئی نتیجہ بھی تو نکلے۔ حکومت کو بس اس بات کی خوشی ہے کہ سیاسی مخالفین کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ یہ بڑی عامیانہ سوچ ہے۔ کیا مقصد صرف چیخیں نکلوانا ہے۔ کیا اس سے ملک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ نیب کے پراسیکیوشن نظام کو بہتر کیا جائے، احتساب عدالتوں کی تعداد بڑھائی جائے اور نیب اپنی تفتیش و تحقیق کا دائرہ وسیع کرے تو شاید یہ احساس ہو کہ ملک میں احساب کی کوئی لہر چل نکلی ہے۔ حالت یہ ہے کہ نیب کی تفتیش برسوں پر محیط ہو جاتی ہے اور جن کے خلاف تحقیق ہو رہی ہو، وہ ایسی مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آ جاتے ہیں کہ نیب کو اپنا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف ایک ادارہ ملک سے کرپشن ختم کر سکتا ہے؟ ادارہ بھی ایسا جس پر ہمیشہ یہ الزام لگتا رہا ہو کہ وہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔سیاسی مقدمے بناتا ہے۔ اس دور میں بھی جب تحریک انصاف کی حکومت نے بے لاگ احتساب کی یقین دہانی کرا رکھی ہے، نیب اس تاثر کو ختم نہیں کر سکاکہ وہ یک طرفہ احتساب کر رہا ہے۔ اس تاثر کو چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی اس بات نے مزید گہرا کر دیا ہے کہ پہلے ماضی کے کرپٹ افراد کا احتساب ہو گا، اسے کیسے منصفانہ احتساب کہا جا سکتا ہے۔ اس کا جواب کوئی دے تو بات ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے بہت کرپشن کی ہے، مان لیتے ہیں، مگر نیب جو مقدمات بناتا ہے، وہ پانی کا بلبلہ کیوں ثابت ہوتے ہیں، ان میں سزائیں کیوں نہیں ہوتیں، مال کیوں برآمد نہیں ہوتا۔ شرجیل میمن سے کیوں کچھ برآمد نہیں ہوتا، کیوں مہینوں بعد وہ ضمانت پر باہر آ جاتا ہے اور نیب اس کار زیاں کا جواب تک نہیں دیتا:

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرہ تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

احتساب کا شور مچانے سے شاید حکومت کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہو، شاید اس کی بُری معاشی کارکردگی سے عوام کی توجہ ہٹ کر احتسابی ڈرامے کی طرف جاتی ہو، لیکن قوم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اربوں روپے کے ریفرنس دائر ہوتے ہیں۔ کیسز بنتے ہیں، مگر قومی خزانے میں ایک ٹکہ بھی نہیں آتا…… یا تو اس احتساب کے نظام میں کوئی خرابی ہے، یا پھر ہمارے نظام انصاف میں کوئی رکاوٹ ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ احتساب کورٹ کی سزاؤں پر اپیلیں لمبے عرصے تک معطل کیوں رہتی ہیں،کیوں ان کی فوری سماعت کرکے فیصلے نہیں سنائے جاتے؟ جب تک ملک کی آخری برُی عدالت کیس کا فیصلہ نہ کرے، احتساب عدالت سے لوٹی گئی دولت واپس لینے کا حکم آ بھی جائے تو اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ اب ایسے میں اگر لوگ یہ خیالی باتیں کرتے ہیں کہ پاکستان میں سعودی عرب جیسا نظام اپنایا جانا چاہیے، جس میں شہزادہ محمد بن سلمان نے تمام لٹیروں کو ایک جگہ بند کر دیا تھا اور انہیں لوٹی دولت واپس کرنے کے لئے چند روز کی مہلت دی تھی، جس پر اربوں ڈالر برآمد ہوئے تھے۔

ایسے لوگوں کو کون سمجھائے کہ پاکستان میں بادشاہت نہیں، جمہوریت ہے۔ آئین ہے، عدالتیں ہیں، قانون کا ایک نظام ہے، جسے جان بوجھ کر کچھوے کی چال جیسا رکھا گیا ہے، تاکہ فوری فیصلے نہ ہو سکیں، اس لئے یہاں احتساب بھی کچھوے کی چال چلتا ہے، جس نے چار کروڑ لوٹے ہوتے ہیں، وہ دس سال بعد اس چار کروڑ سے چار ارب بنانے کے بعد پلی بارگین کرکے چار کروڑ لوٹا دیتا ہے، نیب کی عزت بھی رہ جاتی ہے اور اس دعوے کا بھرم بھی کہ ملک میں احتساب ہو رہا ہے۔یہ ساری داستانِ احتساب مَیں نے اس لئے سنائی ہے کہ وہ لوگ جو اس پروپیگنڈے کی زد میں ہیں کہ ملک میں احتساب کا کوئی جھکڑ چلنے والا ہے، وہ اس خمار و غبار سے نکل آئیں۔ پاناما سکینڈل میں چار سو سے زائد افراد کے نام تھے، وہ کہاں گئے، اب بھی ہزاروں افراد ایسے ہیں، جنہوں نے بدعنوانی سے خود کو خوشحال بنایا ہے، مگر وہ نیب کے ریڈار پر نہیں۔ بس ہلکی پھلکی موسیقی جیسے احتسابی سر بکھرتے رہیں گے،تاکہ قوم مست رہے اور شام کو ٹی وی چینلوں پر بریکنگ نیوز کا انتظار کرے کہ آج کسی بڑی شخصیت کو نیب والے عزت و احترام سے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم