تنگ آمد، بجنگ آمد؟

تنگ آمد، بجنگ آمد؟
تنگ آمد، بجنگ آمد؟

  


ایران کی طرف سے یکے بعد دیگرے بہت سے اشارے مل رہے ہیں کہ اس کی تابِ شکیائی جواب دے رہی ہے۔ خلیج اومان میں دو آئل ٹینکروں پر حملہ کہ جس میں اب تک حملہ آور کی شناخت نہیں ہو سکی، امریکہ کا یہ الزام کہ یہ کرتوت ایران کا ہے اور ایران کا ردعمل کہ یہ میزائل / مارٹر حملہ اس کی طرف سے نہیں کیا گیا، مشکوک سمجھا جا رہا ہے۔ پھر حال ہی میں ایک امریکی ریکی ڈرون(گلوبل ہاک) کا ایرانی ساحلی حدود میں مار گرایا جانا اور پھر اگلے روز ایک ایرانی سپرآئل ٹینکر کا بحیرۂ روم میں مالٹا کے قریب ”گرفتار“ کرکے اسے جبل الطارق کے پانیوں میں لے جایا جانا امریکہ۔ ایران کشیدگی میں ایک نیا اضافہ ہے۔جبرالٹر چونکہ سابق برٹش کالونی اور حال برطانوی زیر اثر ریاست ہے اس لئے ایران کا برطانیہ کو یہ دھمکی دینا کہ یا تو ہمارا ٹینکر واپس کر دو یا تیار ہو جاؤ کہ کسی بھی وقت کوئی برٹش آئل ٹینکر خلیج فارس میں گرفتار کرکے ادلے کا بدلہ لے لیا جائے گا۔……یہ سب اشارے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ ایرانی صبر، جواب دے رہا ہے۔

اس تازہ ترین جھگڑے کی تفصیل یہ ہے کہ چند روز پہلے جبرالٹر میں مقیم برطانوی میرین فورس نے ایک ایرانی ٹینکر کو پکڑ لیا تھا جس میں کروڈ آئل لداہوا تھا۔ ایران اپنا تیل کسی بھی ملک کو فروخت نہیں کر سکتا کہ امریکہ نے اس پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ایرانی ٹینکر تیل لے کر شام جا رہا تھا۔ لیکن یورپی یونین نے امریکہ کے اتباع میں شام پر بھی پابندیاں لگا رکھی ہیں اور برطانیہ چونکہ یورپی یونین (EU) کا ممبر ہے اس لئے اس کا موقف ہے کہ اس نے اگر شام جانے والے آئل ٹینکر کو روکا ہے تو کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ واشنگٹن میں لندن کے اس فیصلے کی پرزور تائید کی جا رہی ہے اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ٹینکر کی اس گرفتاری کی خبر کو ایک ”شاندار خبر“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے تیل کو دمشق (شام) جانے سے اس لئے روکنے کے حق میں ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے ایک غیر قانونی اقدام ہے۔ لیکن یہ امربھی توجہ طلب ہے کہ جب امریکہ نے صدر ٹرمپ کے دور میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کر دیا تھا تو یورپی یونین نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ اس لئے روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ایرانی آئل ٹینکر کو روک کر اپنے پہلے والے موقف کی نفی کی ہے۔

اس آئل ٹینکر کی گرفتاری کا یہ کیس جب جبرالٹر کی سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا تو کورٹ نے دو ہفتوں تک اس ٹینکر کو میرین کی تحویل میں رکھے جانے کا فیصلہ سنایا۔ دوسری طرف سپین نے ایک اور ڈویلپ منٹ کی اور ایرانی ٹینکر کی اس گرفتاری کو خلافِ قانون قرار دیا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ جبرالٹر کے اردگرد کا بحری علاقہ تو اس کی مِلک ہے، جبرالٹر کی نہیں۔ جبرالٹر کا صرف زمینی علاقہ برطانیہ کے کنٹرول میں ہے اس لئے یورپی یونین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی ایرانی ٹینکر کو ہمارے پانیوں میں روک کر اس کو اپنی تحویل میں رکھے۔

اس سپر آئل ٹینکر کا نام گریس۔ ون (Grace-1) ہے اور اس پر تین لاکھ ٹن تیل لدا ہوا ہے۔ اس کا عملہ 28 افراد (آفیسرز اور سیلرز) پر مشتمل ہے جس میں انڈیا، پاکستان اور یوکرین کے اہلکار شامل ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان بھی اس تنازعے کا ایک بالواسطہ فریق اور سٹیک ہولڈر ہے۔ برطانوی حکومت نے اپنے میرین کی کارروائی کی حمائت کی ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو ایک بدترین بحری قذاقی کا نام دیا ہے۔

جنرل محسن رضاعی ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سابق کمانڈر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گریس۔ ون کو جلد ’رہا‘ نہ کیا گیا تو ایران کسی بھی برٹش ٹینکر کو گرفتار کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایک ایرانی عسکری رہنما کی طرف سے برطانیہ کو یہ دھمکی خالی از خطر نہیں۔ بظاہر یہ معاملہ ایک معمولی تنازعہ معلوم ہوتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی جنگیں، معمولی معمولی وجوہات کے باعث شروع ہوئیں اور پھر سالہا سال تک کشتوں کے پشتے لگتے رہے۔ دنیا میں آج تک جتنی بھی بڑی جنگیں ہوئیں ان کا آغاز نہایت معمولی واقعے سے ہوا۔ اسی طرح ہم آئے روز میڈیا پر یہ خبریں سنتے اور دیکھتے رہتے ہیں کہ ایک معمولی سے خاندانی یا کسی متفرق تنازعے کے باعث طرفین کے درجنوں افراد موت کے گھاٹ اتر گئے یا بچوں کی معمولی تو تو میں میں سے بات بڑھ کر ایک خونریز لڑائی میں تبدیل ہو گئی…… یہی حال اقوام کا بھی ہے…… یہاں بھی کسی معمولی تنازعے کی چنگاری کبھی کبھی ایسے بھڑکتی ہے کہ جنگل کا جنگل اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔

امریکہ ایک جدید جوہری قوت اور دنیا کی واحد سپرپاور ہے۔ ایران اس کے مقابلے میں ایک غیر جوہری ملک ہے جس کے پاس روائتی جنگ و جدل کا ساز و سامان بھی مقابلتاً اثر انگیزی کے اس معیار و مقدار کا حامل نہیں جو امریکہ اور اس کے قریب ترین حلیف برطانیہ کا ہے۔ بے شک روس اور چین ایران کی حمایت کرتے ہیں لیکن اسے سپورٹ کی وہ معاہداتی اور اداراتی قوت حاصل نہیں جو برطانیہ کو ہے کہ جو ناٹو اور یورپی یونین کا ممبر ہے۔ جنگوں کی تاریخ میں آج تک دوسری عالمی جنگ سے زیادہ خونریز اور طویل جنگ دنیا میں نہیں ہوئی۔طویل تر جنگیں تو اور بھی تھیں مثلاً یورپ کی 30سالہ یا ہفت سالہ جنگیں وغیرہ لیکن ان میں قتل و غارت گری کا وہ پیمانہ نہیں تھا جو اس عالمی جنگ میں دیکھنے کو ملا۔ یہ ایک ٹوٹل وار تھی جس میں جنگ کی چاروں سروسز (آرمی، نیوی، ائر فورس اور میرین) نے حصہ لیا۔ اس سے دنیا کا ہر شخص، ہر کاروبار اور ہر شعبہ متاثر ہوا۔ اس جنگ میں 61 ممالک شریک ہوئے اور دنیا کی تین چوتھائی آبادی (1.7ارب نفوس) برسرِ پیکار رہی، 5کروڑ لوگ مارے گئے اور کئی کروڑ زخمی ہوئے۔ آپ اگر کتابوں میں اس کی وجوہات پڑھیں گے تو یہ درجنوں صفحات پر پھیلی ہوں گی لیکن اس بارود میں پہلی چنگاری نازی جرمنی کی طرف سی پھینکی گئی۔

جرمنی اس سے 21برس پہلے ایک اور طویل جنگ سے گزر چکا تھا جس کو پہلی عالمی جنگ کا نام دیا جاتا ہے لیکن یہ نام دوسری عالمی جنگ کے بعد وضع کیا گیا کیونکہ پہلی جنگ کا دورانیہ 4برس تھا اور دوسری کا 6برس…… اس لئے دوسری جنگ سے پہلے، پہلی جنگ کو ”گریٹ وار“ کہا جاتا تھا، پہلی عالمی جنگ نہیں۔

اس گریٹ وار (1914-18ء) میں جرمنی کو شکست ہو گئی تھی اور اتحادیوں کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ اتحادیوں میں (دوسری عالمی جنگ کی طرح) اس جنگ میں بھی برطانیہ، فرانس اور امریکہ شامل تھے۔ جنگ کے اختتام پر معائدہ ورسیلز کی رو سے جو 1919ء میں تکمیل پذیر ہوا، جرمنی کو شرمناک شرائط پر صلح کرنا پڑی۔ اس کا بہت سا علاقہ غصب کر لیا گیا، اس کی فوج توڑ دی گئی اور اس پر اتنا بھاری تاوانِ جنگ عائد کر دیا گیا کہ وہ آئندہ 100برس تک بھی اس کی اقساط ادا نہیں کر سکتا تھا۔

لیکن پھر ایک ایسا شخص اٹھا جس نے اس شکست خوردہ اور قعرِ مذلت میں گری جرمن قوم کو جھنجھوڑ کر بیدارکر دیا، اسے پھر سے مسلح کیا، نئی افواج کھڑی کیں اور قوم سے وعدہ کیا کہ وہ جرمنی کی عظمت رفتہ کو ایک بار پھر زندہ کرے گا……پہلی عالمی جنگ کے اس ریٹائرڈ لانس نائیک کا نام اوڈلف ہٹلر تھا جسے جرمن قوم نے ووٹ دے کر اپنا چانسلر منتخب کیا!……ہٹلر نے صرف 6سال (1933ء تا 1939ء) میں جرمنی کو یورپ کی ایک طاقتور قوم بنا دیا…… یکم ستمبر 1939ء کو جمعہ کا دن تھا کہ علی الصبح 5بجے جرمن افواج، پولینڈ پر حملہ آور ہوئیں۔ اس حملے کی کوئی فوری وجہ نہیں تھی۔ اگر آپ کو ندی کنارے پانی پینے والی بھیڑ اور بھیڑیئے کی کہانی یاد ہو تو ہٹلر (بھیڑیا) نے پولینڈ (بھیڑ) پر الزام لگایا کہ ”تم میرے پینے کے پانی کو گدلا کر رہی ہو“۔

پولینڈ اور برطانیہ کے درمیان معاہدہ تھا کہ وہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ چنانچہ 3ستمبر 1939ء کو برطانوی وزیراعظم چیمبرلین نے پولینڈ کی حمائت میں جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا…… اس کی بعد کی تاریخ دلچسپ اور عبرتناک بھی ہے اور سبق آموز بھی!

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

جو جنگ یکم ستمبر 1939ء کو ایک معمولی سی بات پر شروع ہوئی تھی وہ پورے چھ سال بعد جاپان پر جوہری حملے،اس کی تباہی اور آدھی دنیاکی بربادی پر منتج ہوئی۔

آج ایران کو امریکہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا ملک ہے اور برطانیہ سے بھی عسکری قوت کے اعتبار سے کمزور نظر آتا ہے۔لیکن اگر کل کلاں یہ جنگ شروع ہو گئی تو ایران کی بے بسی اور کمزوری بھی اسی بلی کی مانند ہوگی جو اپنی جان خطرے میں دیکھ کر حملہ آور چیتے پر ٹوٹ پڑتی ہے اور پنجہ مار کر اس کی آنکھیں نکال دیتی ہے:

نہ بینی کہ چوں گربہ عاجز شود

برآرد ز چنگال، چشمِ پلنگ

دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں صرف جرمنی اور پولینڈ ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ لیکن دو دن بعد برطانیہ اور فرانس اپنے کمزور حلیف پولینڈ کے حمائتی بن گئے اور اٹلی کا مسولینی، جرمنی کے ہٹلر کا طرفدار بن گیا……اس طرح اول الذکر اتحادی اور ثانی الذکر محوری کہلائے۔

اگر کل کلاں ایران، کسی برطانوی آئل ٹینکر کو روک کر اس پر قبضہ کر لیتا ہے تو امریکہ اور دوسرے یورپین ممالک فوراً اس کے اتحادی بن کر میدانِ جنگ میں کود جائیں گے…… لیکن ایسے میں کیا ایران اکیلا رہ جائے گا؟…… یہ ایک بڑا اور 6ملین ڈالر کا سوال ہے…… آج کا ایران نہ تو افغانستان ہے، نہ عراق، نہ لیبیا اور نہ شام کہ جن پر امریکیوں اور ناٹو نے حملے کرکے برباد کر ڈالا تھا۔ ایران جوہری قوت تو نہیں، البتہ جوہری قوتوں کے حصار میں گھرا ہوا ملک ہے۔ اس خطے میں اسرائیل اور امریکہ کی جوہری قوت، ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے ناٹو کے اتحادی (برطانیہ، فرانس وغیرہ) ایسے چیتے ہیں جو ایرانی بلی کو عاجز کئے دیتے ہیں اور مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنی جان بچانے کا بندوبست کرے۔

1980ء کے عشرے کی ایران۔ عراق جنگ میں امریکہ جو عراق کا پشتیبان تھا اس نے دیکھ لیا تھا کہ ایران کی نژادِ نو جذبہء شہادت سے کیسی سرشار ہے۔ اس جنگ کا یہ پہلو ابھی تک امریکیوں کے سوا باقی دنیا کو کم کم معلوم ہے۔ یہ ایرانی نسل نہ صرف اب جوان ہو چکی ہے بلکہ جوانِ رعنا بن کر ملک کے دفاع میں جان کی بازی لگانے کو تیار ہے۔ میں نے اپنے کسی حالیہ کالم میں لکھا ہے کہ امریکہ کو اس حقیقت کا عرفان ہو چکا ہے کہ آج کا ایران گزرے کل کے ایران سے کہیں زیادہ پُرعزم ہے اور ایران کا IRGC، اس کے ارتش (ریگولر آرمی) سے کہیں زیادہ منہ زور اور عسکری ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکا ہے……

1930ء کے عشرے میں شکست خوردہ جرمنی، انتقام کی آگ میں جل رہا تھا اس لئے اس نے پورے 5،6برس تک تمام دنیا کو جنگ و جدال کی بھٹی میں ڈالے رکھا۔ لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہٹلر تنگ آ کر جنگ کی طرف گیا تھا۔اور آج ایران بھی اگر ”تنگ آمد بجنگ آمد“ کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے تو اس میں قصور، ایران کا نہیں، امریکیوں کا ہے۔ اگر محسن رضا عی کی دھمکی کو ایران کی طرف سے عملی جامہ پہنانا پڑا اور آبنائے ہرمز میں کسی برٹش آئل ٹینکر کو گرفتار کرکے حساب برابر کرنا پڑا تو تیسری عالمی جنگ اگر شروع نہ بھی ہو سکی تو دوسری عالمی جنگ کی پرچھائیں ضرور نظر آنا شروع ہو جائیں گی…… اس کشیدہ صورتِ حال میں دنیا خاموش ہے!…… خدا کرے یہ خاموشی نہ ٹوٹے!!

مزید : رائے /کالم