بگ ایونٹ اور بگ تھری

بگ ایونٹ اور بگ تھری
 بگ ایونٹ اور بگ تھری

  


کرکٹ ورلڈ کپ اپنی تمام تر رعنائیوں کے بعد اختتام کی جانب گامزن ہے۔ہوسکتا ہے کہ رات تک پہلا سیمی فائنل انڈیا کے نام بھی ہو چکا ہو ،لیکن ایک بات تو طے ہے کہ انڈیا کی باندی آئی سی سی نے پاکستان کو باہر کرنے اور اپنی تین ٹیموں یعنی بگ تھری کو اس ایونٹ کے فائنل تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس پورے ایونٹ کے تمام میچز کے بعد بگ تھری کے بڑے میچز تو اب انہی ٹیموں کے مابین شروع ہو ئے ہیں جو بگ تھری کہلاتی ہیں اور ان تینوں ٹیموں کا آئی سی سی میں اثرو رسوخ بھی باقی تمام ٹیموں سے زیادہ ہے۔کل ہونے والے دوسرے سیمی فائنل میں جیت چاہے انگلینڈ کی ہو یا آسٹریلیا کی، جیتنا تو بگ تھری نے ہی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ آئی سی سی اپنی من مانی کرتی نظر آتی ہے، لیکن کرکٹ میں چلتی ان تینوں ممالک کی ہی ہے۔اب یہ بات تو دیگر ٹیموں کو بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جتنا اثرو رسوخ ان ٹیموں کا ہے،باقی ٹیمیں تو ان کے آگے ہاتھ پھیلانے کے قابل بھی نہیں رہتیں یا پھر انہیں رہنے نہیں دیا جاتا۔جو بھی ہے اس پورے ایونٹ میں آئی سی سی کا کردار بہت مشکوک نظر آتا ہے کیونکہ اتنے بڑے ادارے کو شاید ان تین ٹیموں نے ہائی جیک کر رکھا ہے کیونکہ ان ہی کی چلتی ہے۔ٹیسٹ،ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ان تینوں فارمیٹس میں بھی زیادہ تر میچز انہی ٹیموں کو دیئے جاتے ہیں۔باقیوں کو وہ میچز ملتے ہیں جو ان سے شاید کھیلے بھی نہیں جاتے۔

یہاں ایک بات کرنا بہت ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں اب تک جتنی ھکومتیں آئیں ہیں ان میں سے کسی نے سپورٹس و تعلیم کے ساتھ اپنی ثقافت پر کبھی توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی،حالانکہ ہمارے ملک کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان خود بھی ایک سپورٹس مین رہے ہیں قوم کو ان سے امیدیں بھی بہت زیادہ ہیں، لیکن انہوں نے بھی ابھی تک اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی۔کیوں نہیں دی اس کا جواب وہ خود بہتر طور پر دے سکتے ہیں، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اگر وہ اس جانب اپنی توجہ کر لیں تو شاید اسی کے ذریعے ہم دنیا میں چھا سکتے ہیں۔

اس کی ایک بہت بڑی مثال ہمارا پڑوسی ملک انڈیا ہے جو غربت میں شاید ہم سے بھی بہت آگے ہے لیکن کھیلوں کے میدانوں،تعلیم اور ثقافتی لحاظ سے ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔انہوں نے اپنی ثقافت،سپورٹس اورتعلیم میں ایسی اصلاحات کی ہیں کہ آج دنیا بھر میں ان کے نام کا بول بالا ہے جبکہ ہمارے ملک میں کھیلوں کے میدان سونے،سینما ہال ویران اور تعلیمی سینٹرز پر اعلیٰ میعار کی تعلیم نہ ہونے کے باعث ہمارے کروڑوں ہنر مند،طالبعلم اور کھلاڑی آج دیار غیرمیں بیٹھ کر اپنی عزت کا جنازہ نکال رہے ہیں۔الغرض جو بھی ہے کم از کم موجودہ حکومت کو چاہیے کہ کھیلوں کے میدانوں کوسونا ہونے سے بچایا جائے اور ملک کو عالمی سطح پر ایسے اجاگر کیا جائے کہ ہر کوئی اس کا نیا چہرہ دیکھ کر یہاں آنے،رہنے،کھیلنے اورکام کرنے کی لگن میں مگن نظر آئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم