حماد اظہر کو ریونیو ڈویژن کا قلمدان سونپنا حفیظ شیخ پر عدم اعتماد

حماد اظہر کو ریونیو ڈویژن کا قلمدان سونپنا حفیظ شیخ پر عدم اعتماد

 تجزیہ؛۔ ایثار رانا

وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے ریونیو ڈویژن کا قلمدان واپس لے لیا اور ابھرتے نوجوان کھلاڑی حماد اظہر کو ذمہ داریاں سونپ دیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال موجود نہیں جس میں وزیر خزانہ یا مشیر خزانہ کے پاس ریونیو ڈویڑن کااختیار نہ رہا ہو۔ اب نئے فیصلے کے تحت ملک بھر میں ٹیکس کولیکشن کی ذمہ داری حماد اظہر کے کاندھوں پر ہوگی۔ میں  وزیراعظم کے اس اقدام کو ہر لحاظ سے مشیر خزانہ پر عدم اعتماد قرار دوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان اور قوم نے جو خواب دیکھے تھے وہ اقتدار ملنے کے بعد ایک ایک کرکے چکنا چور ہوئے۔ عمران خان ایک ایک کرکے تمام امور پر کمپرومائز کرتے چلے گئے۔ ایک کمپرو مائز حفیظ شیخ اور رضا باقر کی تقرری تھی۔ میری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم اقتصادی امور پر مکمل عبور نہ رکھنے کے باوجود آئی ایم ایف کے عہدیداروں کی پاکستان کے اہم مالیاتی عہدوں پر خوش نہیں ہیں، لیکن وہ آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف، امریکہ اور "فنانشل ہٹ مین" کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں اسد عمر کی قربانی دینی پڑی۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ سے حکومت کی سبکی ہوئی جس میں کہا گیا کہ حکومت نے قومی اسمبلی میں جھوٹ بولا کہ وہ 5 سو ارب کے ٹیکس لگا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 7 سو ارب سے زائد کے ٹیکس لگانے جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی ایم ایف ہماری سانسوں کی گنتی کرنے میں بھی مختار ہوچکی ہے، لیکن اطلاعات  یہی ہیں کہ عمران خان آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے خوش ہیں نہ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ حماد اظہر نے بجٹ کی تیاری میں انتہائی لگن اور محنت سے اپنا کردار ادا کیا۔ وہ اس دھرتی کا بیٹا ہے۔ کہتے ہیں کہ اپنا مارے بھی تو چھا?ں میں ڈال دیتا ہے۔ حماد اظہر پاکستانی ہیں، ان کی وطن سے کمٹمنٹ کسی بھی شک و شبے  سے بالاتر ہے۔ اللہ انہیں اسد عمر جیسے انجام سے بچائے۔

 تجزیہ: ایثار رانا

مزید : تجزیہ