این آر اوکرکے ملک سے غداری کبھی نہیں کروں گا ، وزیر اعظم عمران خان

این آر اوکرکے ملک سے غداری کبھی نہیں کروں گا ، وزیر اعظم عمران خان
این آر اوکرکے ملک سے غداری کبھی نہیں کروں گا ، وزیر اعظم عمران خان

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اپوزیشن میرے تین لفظ میرے منہ سے سننا چاہتی ہے، وہ ہیں این آر او لیکن میں یہ کبھی نہیں کروں گا کیونکہ میں اللہ کوجواب دہ ہوں اور این آر او کرکے ملک سے غداری کبھی نہیں کروں گا۔کراچی میں بزنس مین کمیونٹی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قرضوں سے نکلنے کیلئے بزنس انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا، ہم نے اپنے خرچے کم کئے ہیں ، پاک فوج نے پہلی دفعہ اپنے خرچے کم کئے ہیں، امریکہ جارہا ہوں کوشش ہوگی کم سے کم خرچہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک گھر مقروض ہوتاہے تو جن لوگوں نے اس گھر پر ڈاکے مارے ہوں اور چوری کی ہو تو پھر وہ گھر ان لوگوں کو سزا دیتاہے تاکہ پھر کوئی ایسے نہ کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس میں کرپشن ، چوری اور منی لانڈرنگ کررہے ہیں ، یاد رکھیں جب تک ان کوسزائیں نہیں ملیں گی ، کرپشن ختم نہیں ہوگی اور ملک آگے نہیں بڑھے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آگے کا سوچیں لیکن چائنہ میں جودنیا کی سب سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے ، اس نے پچھلے سال میں سوا چارسو لوگوں کو جو وزراءاور بیورو کریٹ ہیں ان کوجیلوں میں ڈالا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پیچھے نہ مڑ کر دیکھیں ،یہ ملک سے غداری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جومرضی کریں ، پہلے دن سے ان کی جانب سے افراتفری پھیلائی ہوئی ہے ، یہ تین لفظ میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں وہ ہیں این آر او لیکن میں یہ کبھی نہیں کروں گا کیونکہ میں اللہ کوجواب دہ ہوں اور این آر او کرکے ملک سے غداری کبھی نہیں کروں گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج جو مہنگائی ہے یہ اس مشرف کے این آر او کی وجہ سے جو ان کے ساتھ کیا تھا اور اس کے نتیجے میں ملک پر قرضہ چھ ہزار ارب سے بڑھ کر تیس ہزار ارب روپے ہوگیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بزنس مین طبقے سے ملا ہوں ہم اس کوسہولیات دیں گے ۔ہمارا ملک دنیا کی زبردست لوکیشن پر واقع ہے ، ایک طرف چائنہ اور دوسری جانب وسط ایشیاءہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر کمیونٹی کے کچھ لوگ ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہتے ، اگر ایسے نہیں ہوگا تو ہماری انڈسٹری پر بوجھ بڑھ جائیگا ، اس سے انڈسٹری نیچے آتی جائیگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس اکٹھا نہیں ہوگا کہ تو ہم نوٹ چھاپیں گے جس سے مہنگائی ہوتی جائیگی ، اس لئے ہماری کوشش یہ ہے کہ سارے لوگ ٹیکس میں اپناحصہ دیں، پاکستان میں صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں ، ہم اس طرح آگے نہیں نکل سکتے ، میری آپ سب سے اپیل ہے کہ ٹیکس دیں ، اتنی بڑی آبادی تھوڑا تھوڑا ٹیکس بھی دیگی تو بہت زیادہ ٹیکس اکٹھا ہوجائیگا ، ہم ساڑھے پانچ ہزار ارب ٹیکس چھوڑ کر آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس بھی اکٹھا کرسکتے ہیں۔یہ وقت ہے کہ اپنا مائنڈ سیٹ بدلیں اور ٹیکس دیں۔ ان کا کہناہے کہ یہ پہلی حکومت آئی ہے جس میں حکمران کا کوئی کاروبارنہیں ہے ، کوئی انڈسٹری نہیں ہے ، آصف زرداری نے دبئی کے 48دورے کئے یہ لوگ کیا لینے باہر جاتے ہیں ؟ اس لئے کہ ان کابیرون ملک کاروبار ہے اور ان کے اثاثے ملک سے باہر پڑے ہیں لیکن لوگ جانتے ہیں کہ میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور میرا سب کچھ ملک میں پڑا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ جوکرپشن کے مقدمات ہیں یہ ان دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر بنائے ہوئے ہیں ، یہ کیس بنا کررکھ دیئے گئے کہ نہ ہم تمہیں پکڑیں گے اور نہ تم ہمیں پکڑنا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کواس سطح پر لوٹا گیاہے کہ پہلے دن ہی ان کی جانب سے شور مچادیا گیا اور تقریر نہیں کرنے دی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ڈرے ہوئے ہیں، ان کو پتہ ہے کہ ہر روز کچھ نہ کچھ ان کا سامنا آرہاہے ، ابھی تو ان کے اپنے مقدمات بنائے ہوئے ہیں ، ابھی توہمارے بنائے ہوئے کیسز سامنے نہیں آئے ، ان کو پتہ ہے کہ حکومت کوپتہ چلتا جارہاہے ، اس لئے جلدی سے حکومت گرادو ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ فضل الرحمان نے توکہہ دیا کہ ہم اس وقت اکٹھے ہونگے جب سب جیل میں ہونگے ۔اس نے ٹھیک کہاہے ، ان کوڈر لگا ہوا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں جوجو ملک بھی غریب ہیں ، اس میں آصف زرداری اور نواز شریف اوپر بیٹھے ہوئے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی