شارجہ کے امیر نے اپنے دو نوجوان بیٹے برطانیہ بھیجے لیکن دونوں کی جوانی میں ہی موت ہوگئی، غم بھری داستان آپ بھی جانئے

شارجہ کے امیر نے اپنے دو نوجوان بیٹے برطانیہ بھیجے لیکن دونوں کی جوانی میں ہی ...
شارجہ کے امیر نے اپنے دو نوجوان بیٹے برطانیہ بھیجے لیکن دونوں کی جوانی میں ہی موت ہوگئی، غم بھری داستان آپ بھی جانئے

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں شارجہ کے امیر شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کے 39سالہ بیٹے کی لندن میں موت واقع ہو گئی تھی جس کی میت شارجہ لا کر تدفین کی جا چکی ہے۔ ڈیلی میل نے اپنی ایک رپورٹ میں شارجہ کے امیر کی ایسی غم کی داستان بیان کی ہے کہ ہر سننے والا افسردہ ہو جائے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ شارجہ کے امیر نے اپنے بیٹوں میں سے دو کو برطانیہ بھیجا مگر ان دونوں کی لاشیں واپس شارجہ پہنچیں۔1999ءمیں شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کے پہلے بیٹے شیخ محمد کی موت صرف24سال کی عمر میں ہو گئی تھی۔ انہیں بھی شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے برطانیہ بھیجا تھا اور وہ وہاں سسیکس میں واقع اپنے 30لاکھ پاﺅنڈ مالیت کے گھر میں رہائش پذیر تھے، جہاں سے ایک روز ان کی لاش برآمد ہوئی۔ اسی طرح گزشتہ دنوں شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کے دوسرے بیٹے شیخ خالد بن سلطان القاسمی کی 39سال کی عمر میں موت ہو گئی اور ان کی لاش ان کے لندن میں واقع پینٹ ہاﺅس سے برآمد ہوئی۔ شیخ خالد بن سلطان القاسمی کے بارے میں مغربی میڈیا میں رپورٹس آ رہی ہیں کہ وہ اپنے پینٹ ہاﺅس میں ایسی پارٹیاں منعقد کرتے تھے جن میں منشیات کا بے دریغ استعمال کیا جاتا تھا۔ اس رات بھی ان کے پینٹ ہاﺅس پر ایک پارٹی برپا تھی جس میں خود شیخ خالد بن سلطان القاسمی نے بھی منشیات کا بہت زیادہ استعمال کیا جو مبینہ طور پر ان کی موت کی وجہ بن گیا۔

مزید : برطانیہ