ہمیں جینے دیں!

 ہمیں جینے دیں!
 ہمیں جینے دیں!

  


اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں اورسابق وزیراعظم نوازشریف پابندسلاسل ہیں،احتساب سب کا ہورہاہے اورزرداری کی بھی باری آچکی ہے،سوشل میڈیاپرنون لیگ اورتحریک انصاف کے کارکن ایک دوسرے کوخوب لتاڑرہے ہیں،فوٹوشاپ کے ماہرنت نئی تصویریں بناکرخوب وائرل کررہے ہیں،ملکی سیاسی ماحول خوب گرم ہے مگرسوال یہ ہے کہ کیاروٹی پکانے کیلئے غریب کاتوابھی گرم ہے یاپھرگیس بندہے اورچولہاٹھنڈاہے؟سیاست اپنی جگہ مگرغریب(ویسے آج کل انتہائی امیرلوگوں کے علاوہ سبھی غریب ہی ہیں) کوان سب باتوں سے کیالینادینا؟دیہاڑی داربندے کوروزانہ دیہاڑٰی چاہیے ، غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے کوبروقت تنخواہ کی ضرورت ہے اوربیروزگاروں کی ایک فوج ظفرموج ہے جوسورج طلوع ہونے کیساتھ ہی اللہ کانام لے کر گھرسے نکلتی ہیں کہ آج توانہیں کہیں نہ کہیں سے روزگارمل ہی جائے گا،زیادہ ترتعدادتوایسے ہی لوگوں کی ہے جوبادل نخواستہ مایوس ہی لوٹتے ہیں،مجھے اس بات کااندازہ اس سے بھی زیادہ ہے کہ میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ مجھے بیروزگاروں کی فکرزیادہ لگی رہتی ہے،کوشش ہوتی ہے کہ کہیں کسی کے لیے آسانی پیداکی جائے اورچنداچھے دوستوں کی وجہ سےاس میں کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی کونوکری دلوانے میں کامیابی بھی ہوجاتی ہے۔چندروزقبل لاہورپریس کلب میں کافی عرصے بعدچکرلگاتوایک پرانے کولیگ سے ملاقات ہوگئی،پوچھنے پربتانے لگے کہ’’ کیاکرناہے جناب، ہمیں توصحافت کے علاوہ آتابھی کچھ نہیں،یہی کرناہے،پہلے ایک ادارے میں کام کرتے تھے،وہاں صورتحال خراب ہوئی تواب ترلہ منت کرکے ایک اورجگہ کام کررہے ہیں کہ اورکچھ نہیں تووقت گزاری کیساتھ ساتھ کچن توچلتارہےگا‘‘اسی طرح میرے ایک اور جاننے والے شخص کے دوست کاایک بیٹانیافارغ التحصیل ہواتوانہوں نے رابطہ کیاکہ بچہ پڑھنے لکھنے سے فارغ ہوگیاہے،اب اس کی نوکری کابندوبست کریں،ہزارکوشش کے بعدایک ادارے میں ایک دوست نے حامی بھرلی کہ لڑکے کورکھ لیتے ہیں، میں نے پوچھا تنخواہ کتنی دیں گے؟ کہنے لگے کہ بھائی شکرکرومفت میں رکھ رہے ہیں‘یہی جواب اس فارغ التحصیل لڑکے کودیاتوبڑا مایوس ہوامگراس کے باوجوداس نے’’ فی سبیل اللہ‘‘ کام کرنے کی حامی بھرلی ،اب اللہ کاشکرہے کہ وہ بغیرتنخواہ کے ’’برسرروزگار‘‘ہے،دیکھتے ہیں کہ اس میں کب تک مفت کا کام کرنے کی ہمت ہے ،ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔ لوگ دربدرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں،سارا دن سڑکوں کی خاک چھاننے کے بعدبھی کہیں سے کسی کوحوصلہ افزاصورتحال نظر نہیں آتی،یہ مجھے نظرآرہاہے،آپ بھی دیکھ رہے ہیں،آپ کوکیالگتاہے کہ حکام اس بات سے بے خبرہیں؟سوال یہ ہے کہ اگرانہیں سب خبرہے توپھرکچھ کرتے کیوں نہیں؟میرے نزدیک مسئلہ ترجیحات کاہے،کون سامسئلہ کتنااہم ہےاوراگراسے بروقت حل نہ کیاتواس کے نتائج کیاہوں گے؟شایداس احساس کی کمی ہے،پچھلے دورحکومت میں اکثرمیری تحریروں میں یہی نشاندہی ہوتی تھی کہ میاں شہبازشریف کام دن رات کرتے ہیں مگرترجیحات میں سرفہرست ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے زیادہ اہم کچھ دوسرے کام بھی ہیں،دعوے اپنی جگہ مگرسابق حکومت نے صحت کوترجیح اتنی نہیں دی جتنی ملنی چاہیے تھی،سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کوہمیشہ مسائل رہے،تعلیم پرضرورت کے مطابق توجہ نہ دی گئی،غریب پریشان ہی رہاکہ بچے کوپڑھانے کے لیے جیب میں پیسے کہاں سے آئیں گے ،روزگارپیداکرنے کے لیے جتناکام ہوناچاہیے تھا اس تناسب سے نہیں ہوسکا،آبادی بڑھتی گئی اورروزگارکےاُتنے مواقع نہ پیداہوسکے،سڑکیں خوب بنائی گئیں اورپنجاب کے اندرلاہورکوسڑکوں کے حوالے سے بہترین بنادیا،ہسپتالوں میں مریضوں کارش کم نہ ہوسکا جس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے شہروں کے ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی تھی اورہے،بنیادی مراکزصحت کی عمارتیں بھوت بنگلوں کامنظرپیش کرتی رہیں اورکررہی ہیں جس کی وجہ سے پرائیویٹ ہسپتالوں اوراتائیوں نے عوام کی خوب کھال اتاری اوراتار رہے ہیں،بے بس عوام شفاکیلئے تب بھی بڑے شہروں کارخ کرتے تھے اوراب بھی یہی آسرا ہے،مرتے مرتے لاہورپہنچ جاتے ہیں،اگرشفاہوئی توہنسی خوشی واپس چلے گئے اوراگریہاں بھی مسیحانہ ملاتوپھرلاشیں واپس لے جاتے ہیں ۔ہم پھراُسی پوائنٹ پرواپس آتے ہیں کہ ترجیحات کااںتخاب درست نہ کیاگیا،سابق دور کوسامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات کابھی جائزہ لے لیں کہ ترجیحات کیا ہیں،بعض کام تو ایسے کیے جارہے ہیں کہ جن سے ٹینشن بڑھ رہی ہے،مہنگائی اوربیروزگاری کاعفریت غریبوں کوکھانے کیلئے آنکھیں پھاڑپھاڑکردیکھ رہاہے،پکی نوکری یعنی سرکاری ملازمت کرنے والے تواس حوالے سےخاصے پُرسکون ہیں کہ ہرماہ تنخواہ اکاؤنٹ میں ہوتی ہے مگرپرائیویٹ اداروں کے ملازم ہرپل جیتے اورہرپل مرتے نظرآتے ہیں،دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں کے ملازمین وینٹی لیٹرپرہیں،ڈاؤن سائزنگ،ادارے بنداورتنخواہوں میں تاخیرکی سرپرہروقت لٹکتی تلوار نے’’ماڑے بندے‘‘ کوجیتے جی مار کررکھ دیاہے،یہ مجھے نظرآرہاہے کیاحکومت کونظرنہیں آرہاہے؟اگرآرہاہے توپھرکچھ کرتی کیوں نہیں؟عوام وزیراعظم سے سوال کرتی ہے کہ چوروں کو پکڑنے کاآپ نے وعدہ کیاہوگا،ہم نے نہیں کیا،نوازشریف،زرداری اورسب ٹولے کوسبق سکھانے کاآپ نے عزم کیاہوگاہم نے نہیں،تبدیلی کانعرہ سن کرہم مثبت تبدیلی سمجھ رہے تھےیہ سبز باغ بھی آپ نے دکھائے تھے ہم نے نہیں۔عوام صرف ایک ہی بات کرتے ہیں کہ جناب مہنگائی سے ہماری جان چھڑائیں،بیروزگاروں کوروزگاردیں،جوادارے ہزاروں چولہے جلانے کاسبب ہٰیں انہیں اس طرح مجبورنہ کردیں کہ پھروہ ملازمین کوگھربھیج دیں،لوگ کہتے ہیں کہ’’ اُنہیں‘‘ کوئی پرواہ نہیں، سب کی خبرلیں گے مگرہمیں جینے دیں۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں،عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، https://www.facebook.com/munazer.ali)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ