صفا و مروہ

صفا و مروہ

  

ہر طواف کے ساتھ دونوں کی سعی لازم قرار دی گئی

قرآن مجید میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ”بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانات سے ہیں،پس جو کوئی خانہ کعبہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو خوشی سے کوئی نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر دان،جاننے والاہے۔“اسلام نے حج کو قائم رکھا اور اس کے خاص طریقے ارشاد فرمائے اور ہر طواف کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی لازم قرار دے دی۔ صفا اورمروہ دو چھوٹی پہاڑیاں رہ گئی ہیں۔لیکن ایک زمانے میں یہ جگہ سطح زمین تک گہری تھی۔ درمیان میں ایک ٹیکری سی تھی جس پر بیت اللہ شریف تھا۔ اس کے گرداگرد بھی گھاٹی تھی اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی گھاٹی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور حضرت حاجرہ ؓ کو وہاں چھوڑ کر واپس آئے تو پانی کا جو مشکیزہ انھیں دے کر آئے تھے،وہ ختم ہو گیا۔ ننھے اسمٰعیل علیہ السلام جب پیاس سے بہت بے تاب ہوئے تو مائی صاحبہ انھیں زمین پر لٹا کر ان پہاڑیوں پر چڑھیں کہ کہیں کوئی پرندہ اُڑتا نظر آئے، کہیں کوئی انسان نظر آئے،کوئی جانور نظر آئے۔ صحرا میں کسی پرندے کا یا جانور کا نظر آنا اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ یہاں کہیں پانی ہے۔ جہاں تک حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نظر آتے،وہ مڑ کر دیکھتی جاتی تھیں۔ جب وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتے تو دوڑ لگا کر اوپر پہنچتیں اورواپسی پر بھی اسی طرح اترتیں حتیٰ کہ پھر اسمٰعیل علیہ السلام نظروں کے سامنے آجاتے۔صفا پر کچھ نظر نہیں آیا تو وادی میں اتر کر دوسری پہاڑی پر چڑھنا شروع کیا۔ اس میں بھی جہاں تک حضرت (اسمٰعیل علیہ السلام)پہ نظر پڑی، آرام سے چلتیں اور جب بچہ نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہو بھاگ کر اوپر پہنچتیں۔ اس طرح ان کے سات چکر لگے لیکن کہیں کوئی پانی کے آثار نظر نہ آئے۔ساتویں دفعہ جب اتر رہی تھیں تو انھوں نے دیکھا کہ جہاں اسمٰعیل علیہ السلام ایڑیاں رگڑ رہے تھے، وہاں سے پانی کا چشمہ ابل رہا تھا۔ آپ بھاگ کر وہاں پہنچیں۔ پانی چونکہ زور سے ابل رہا تھا اور اس نے بہنا شروع کر دیا تھا،اس کے گردا گرد ریت کی ریت بنانے کی کوش کی لیکن پانی جب ریت کے اوپر سے نکل کر بہنے لگا تو سختی سے حکم دیا؛زم زم!ٹھہر جا، رک جا تو تب سے مقدس پانی کا نام زم زم ہے، آب زم زم کہا جاتا ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ زم زم پیو جتنی پیاس ہے بلکہ پیٹ بھر کے پیو جتنا پی سکتے ہو،اتنا پیو اس لیے کہ اس میں ہر مرض کی شفا ہے۔جیسا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا وہ حق ہے کہ اس میں ہر مرض کی دوا موجود ہے، واقعی موجود ہے۔ محض پانی بھی ہو،اس میں کچھ بھی نہ ہو تو بھی وہ ہر مرض کی شفا ہے لیکن اللہ کی شان ہے کہ آپ زم زم میں یہ شفا پہلے سے تھی یا حضور ﷺ کے فرمانے سے اس میں آگئی، اس میں ہر مرض کی دوا واقعی موجود ہے۔

اللہ کریم کو حضرت حاجرہ کی یہ دوڑ،ان کا پہاڑوں پر بے تابی سے چڑھنا اوراس میں بھروسہ اللہ ہی پہ رکھنا بہت پسند آیا۔دنیا عالم اسباب ہے۔انھوں نے بھاگ دوڑتو شروع کی،اسباب تو اختیار کیے لیکن اعتماد اسباب پہ نہیں تھا،اللہ ہی پر تھا کہ کہیں کوئی سبب پیدا فرمادیں۔انھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک ایسے لق و دق صحرا میں چھوڑ گئے جہاں آبادی کے کوئی آثار نہیں تھے اور کوئی چیز وہاں اگتی بھی نہیں تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جاتے ہوئے واپسی پہ جو دعا کی تھی وہ قرآن کریم میں موجود ہے جس میں انھوں نے عرض کیا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی ذرع اے ”اللہ میں اپنے بیوی بچے کو ایسی وادی میں چھوڑے جا رہا ہوں جہاں زراعت نام کی کوئی چیز نہیں ہے“ بواد غیر ذی زرع جس میں کوئی زراعت نہیں ہوتی،جس میں زندگی کے اسباب موجود نہیں ہیں،بظاہرکوئی ایسا سبب نہیں جو زندہ انسان کی ضروت پورا کرے۔نہ کوئی درخت ہے،نہ پھل ہے،نہ کھیتی ہے،نہ سبزہ ہے،نہ پانی ہے،کچھ بھی نہیں۔بوادغیر ذی زرعوہاں کوئی چیز نہیں اگتی۔آدمی اس صورت حال کا قیاس کرے کہ ایک خاتون ہو،عمررسیدہ ہو، چاند سا بیٹا پاس ہو اور ویرانہ ہی ویرانہ ہو۔خود بیت اللہ شریف بھی تو اس وقت نہیں تھا۔طوفان نوح علیہ السلام میں بیت اللہ شریف بھی ختم ہو گیا تھا۔جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کی بنیادوں کی نشان دہی کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے مل کر تعمیر فرمایا۔بے قراری کی حالت میں حضرت حاجرہ کا دوڑنا اللہ کو اتنا پسند آیا کہ حج میں وہ دوڑ بھی ارکانِ حج میں شامل فرمادی، عمرے میں بھی شامل فرمادی۔کوئی نفلی طواف بھی کرتا ہے تو اسے سعی کرنا پڑتی ہے،ان پہاڑوں پہ بھی دوڑنا، چڑھنا اورچلنا پڑتا ہے۔ جہاں سے چل کر جاتا ہے وہاں سے بیت اللہ کی طرف نظر تھی اور جس مائی صاحبہ دوڑ کر گزریں، وہاں ہر سعی کرنے والے کے لیے دوڑنے کا حکم ہے۔ یہ ادا اللہ کریم کو ایسی پسند آئی کہ تب سے لے کر قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے اللہ کریم نے سے ضروری قرار دے دیا اور خود آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ نے بھی سعی فرمائی۔مشرکین مکہ کو یہ بھی اعتراض ہوتا تھا کہ ہم بھی حج کرتے ہیں، حج تو بیت اللہ کا ہے، یہ پہاڑوں پر دوڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا:ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ یہ صفا و مروہ اللہ کے دین کی یاد گاریں ہیں۔پہاڑ گواہ ہیں کہ کسی نے بے قرار ہو کر اپنے اللہ کو پکارا۔یہ یادگار ہیں اس بات کی کہ اللہ کے بندے کو اس قدر اسباب دنیا اختیار کرنا ضروری ہے جتنے وسائل مہیا ہو سکیں۔ اب وہ عمر رسیدہ خاتون تھیں۔پھول سا بچہ پاس تھا۔ زیادہ دور نہیں جاسکتی تھیں،اٹھا کر بھی نہیں جاسکتی تھیں،چھوڑ کر بھی نہیں جاسکتی تھیں تو انھوں نے مناسب سمجھا کہ یہ تو میری رسائی میں ہے کہ پہاڑ پر چڑھ کر اندازہ لگاؤں کہ کہیں کوئی پانی یا زندگی کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔اس بے تابی اور بے قراری میں ان کا دوڑنا اللہ کریم کو اتنا پسند آیا کہ ان کے صدقے، ان کے طفیل آب زم زم بھی عطا کر دیا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آب شفا کے طور پر جاری و ساری ہے۔ وہی دوڑ بیت اللہ میں ہر آنے والے کے لیے اللہ نے پسند فرمائی کہ وہاں بے قرار ہو کر دوڑے،خانہ پر ی نہ کرے۔ اسی بے تابی کے ساتھ قرب الٰہی کی تلاش میں، رحمت الٰہی کی تلاش میں اسی طرح دوڑے۔فرمایا ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پہ کفار اعتراض کریں، یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں،اللہ کے شعائر ہیں،یادگار ہیں کسی کی بے قراریوں کی جو اللہ کے لیے تھیں۔انتہائی مشکل حالات میں بھی جنھیں اللہ ہی پر بھروسہ تھا یہ ان کی یادگار ہیں،لہٰذا:آئندہ کے لیے جو بھی بیت اللہ کا حج کرے گا یا عمرہ کرے گا، وہ ان پہاڑیوں پر بھی دوڑے۔ ایسا کرنا بھی حج کا حصہ ہے،رکن ہے اوراسے ان پہاڑیوں پر بھی دوڑنا ہے۔ اور جو کوئی بھی نیکی میں زیادہ کوشش کرتا ہے، جو کوئی بھی دین پر عمل کرنے خلوص دل سے، اپنی ساری قوت کے ساتھ محنت کرتا ہے تو اللہ شکر گزار بندوں کے شکر کو قبول کرنے والا بھی ہے اور وہ علیم بھی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کس درد کے ساتھ بھاگ رہا ہے،کون رسم پوری کر رہاہے،کون دکھاوے کے لیے اورکون دردِ دل کے ساتھ، دل کی گہرائیوں کے ساتھ میری رضا کی طلب میں سرگرداں ہے۔وہ جانتا بھی ہے، وہ علیم بھی ہے اور روہ شکرگزار بندوں کے شکر کو قبول کر والا بھی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -