یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں بھرتیوں سے متعلق ریکارڈ طلب

  یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں بھرتیوں سے متعلق ریکارڈ طلب

  

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی آف ملاکن ڈ میں بھرتیوں سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرلیاگزشتہ روز جسٹس اکرام اللہ خان کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے ملاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر گل زمان کی بطوروی سی تعیناتی کے خلاف دائررٹ پر سماعت کی درخواست گزار علی زمان ایڈوکیٹ کی جانب سے سینئروکیل ملک اجمل خان عدالت میں پیش ہوئے درخواست گزارکے مطابق ملاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر گل زمان کی تعیناتی مبینہ طور پر میرٹ کے برعکس ہوئی اور جب انہیں وی سی لیا گیا تو وہ اسوقت ایسوسی ایٹ پروفیسر تھے انکی بطور اسسٹنٹ پروفیسرتقرری 2010میں ہوئی اور19جولائی 2012میں ایسوسی ایٹ پروفیسربنے جبکہ 26اکتوبر2017کو انہیں وی سی ملاکنڈ یونیورسٹی تعینات کردیا گیا حالانکہ وی سی کی آسامی کیلئے کئی سینئراوراہل امیدوار بھی میدان میں تھے جن میں پروفیسر ڈاکٹر رحمت علی خان جو83نمبرکیساتھ میرٹ پر ٹاپ پر تھے اورسوات یونیورسٹی کیلئے بھی بطوروی سی زیرغورتھے دوسرے نمبر پر پروفیسر ڈاکٹر جہان بخت 78نمبرجبکہ گریڈ 22کے ڈاکٹر حامد اللہ شاہ(Meritorious Professor) 78نمبرکیساتھ بتدریج دوسرے نمبر پر تھے اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر محمد رسول جان سابق وی سی پشاوریونیورسٹی 73نمبرکیساتھ تیسرے نمبر پر تھے تاہم اسوقت سرچ کمیٹی نے دیگرامیدواروں کیساتھ ڈاکٹر گل زمان کی بھی بطور وی سی سفارش کی اورمبینہ طورپرانہیں لسٹ میں ٹاپ پر رکھا حالانکہ سینئرپروفیسرزکی موجودگی کے باوجود انہیں نظرانداز کرکے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو وائس چانسلر لیا گیا ملک اجمل خان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وائس چانسلر کے عہدے کیلئے بحیثیت پروفیسر 15سال تجربہ لازمی ہوتا ہے جو موجودہ وی سی کی اب تک پوری نہیں ہوئی انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی میں مبینہ طور پر بھرتیاں بھی میرٹ کے خلا ف ہوئی ہیں انہوں نے بتایا کہ بھرتیوں سے متعلق اشتہار، شارٹ لسٹڈامیدواروں وغیرہ سے متعلق ریکارڈ یونیورسٹی سے مانگا گیا تاہم تقریبا ایک سال سے ریکارڈ نہیں دیاجارہا ہے لہذا عدالت حکم دے تاکہ ریکارڈ پیش کیاجاسکے عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملاکنڈ یونیورسٹی انتظامیہ سے 21جولائی تک تمام ریکارڈ طلب

مزید :

پشاورصفحہ آخر -