اوورسیز پاکستانیوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روارکھا گیا، پی پی پی

  اوورسیز پاکستانیوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روارکھا گیا، پی پی پی

  

پشاو (سٹی رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے رہنماوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے واٹس ایپ پر صوبہ چل رہا ہے،قبائلی اضلاع حکومت کی نا اہلی کے کے نظر ہوتے جا رہے ہیں جبکہ سازش کے تحت قبائلیوں لو لڑایا جا رہا ہے،کے پی میں سات ساے سے تحریک انصاف کی حکومت ہے تاہم حالات بد تر ہوگئے ہیں،اورسیز پر انتہائی ظلم ہو رہا ہے 500کی ٹکٹ 1200درہم سے زائد کر دی گئی خاص کر پختون اورسیز مشکلات کا شکار ہے،ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا برا حال ہے ان خیالات کا ظہار پاکستان پیپلز پارٹی کی سنیٹرروبینہ خالد،سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی اور رہنما ڈاکٹر امجد نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں کیا،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے صوبے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ متوازن نہیں یہ ڈانواڈول بجٹ ہے۔جنگ کی حالت میں ایسا نا کام بجٹ پیش کیا رہنماوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے چئیر مین نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے بیان دیا،ایک باوردی شخص سیاسی بیان کیسے دے سکتا ہے جبکہ کورونا میں این ڈی ایم اے کی ناکامی چھپانے کیلئے ایسا بیان دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے واٹس پر یہ صوبہ چل رہا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا آج تک ایک کرنٹ افیئر پروگرام میں بات کرنے سے قاصر رہا۔رہنماوں کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع حکومت کے نا اہلی کے نظر ہونے لگی جہاں سازش کے تحت قوموں کو لڑایا جا رہا ہے جبکہ قبائلی اضلاع میں طلبہ کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں انہوں نے کہا کہ اگر امن قائم ہو چکا ہے تو وزیرستا ن کے آئی ڈی پیز بنوں میں کیوں ہیں اور انکو غیر معاری خواراک دی جا رہی پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے مزید کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی پر 2الزامات لگائے جس نے چیئرمین کے نام سے غلط بیان دیا انکے وزیر اعظم کو اپنے نام کے ساتھ نیازی لکھوانے میں مسلہ ہے جبکہ بلاول کو زرداری پر فخر ہے،تحریک انصاف کی حکومت گرین پاسپورٹ کو کیسے عزت دینگے انہوں نے تو پی ائی اے کو گرادیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نیازی قوم کے خلاف نہیں, ایک نیازی نے ہتھیار ڈالے تھے, موجودہ بھی کہیں فرار نہ ہوجائیجبکہعجیب بات ہے سیاستدانوں کو بھی خاکی لفافے ملنا شرو ع ہو گئے اگر جی آئی ٹی کا بڑا شوق ہے تو آپ بنائیں نا, ایس پی داوڑ کی جے آئی ٹی کہاں ہے اور وہ ساہیوال کی جے آئی ٹی کہاں ہے،پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے کہا کہ عمران خان اور وزراء اپنے شہید وزراء کے لیے جے آئی ٹی بنوائیں, اسرار گنڈہ پور کے لواحقین کے الزامات ہیں ان پر,اسکے علاوہ بی آر ٹی, مالم جبہ سکینڈل, پشاور کی خوبصورتی, اور اب تو سوات سکینڈل آنے والا ہے جبکہ سوات ایکسپریس وے پر ناقص مٹیریل استعمال ہوا,اور ہم جس سکینڈل کی بات کریں, یہ سپریم کورٹ کے پیچھے چھپ جاتے ہیں, انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا ایک ممبر ہے جسکا نام بھی نہیں لینا چاہتے،: یہ رکن قومی اسمبلی کسی مسخرے سے کم نہیں ہے، ان لوگوں نے سیاست کو گالی بنا کر رکھ دیا ہے،بدتحزیب لوگ ہیں یہ, نوید قمر جیسی شخصیت کو مجبور کردیا غصے میں بولنے پرجبکہ ریاست مدینہ کے دعوے کرنے والے پہلے اسلامی قانون لے کر آئیں انہوں نے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو کے ملک پر بہت احسانات ہیں, ہائرایجوکیشن کمیشن بھٹو صاحب کا تحفہ ہے بالخصوص غریب کے بچوں کے لیے جبکہ تعلیم اور صحت دونوں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں, انہوں نے کہا کہ نوید قمر کا ری ایکشن پورے پاکستان کے لوگوں کا ری ایکشن ہوگاجبکہ 2008 سے لیکر 2013 تک مخلوط حکومت تھے صوبے میں،: اس دور کے ہیلتھ منسٹر پیپلز پارٹی کے ظاہر علی شاہ تھے اور مولوی جی ہسپتال بھی انہوں نے اپنے کھاتے میں ڈال دیا جبکہ دوسروں کی محنت پر تختی لگانے والے مزید جھوٹ نہیں بول سکتے, عوام جان چکی ہے انہوں نے کہا کہ اوورسیز کے ساتھ موجودہ حکومت نے سوتیلی ماں سے بھی برا سلوک کیا لیکن جھوٹ کی عمر تھوڑی ہوتی ہے, اسکے پاوں نہیں ہوتے اور مسخرے وزیر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں رہنماوں کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت 7 سال میں صوبے میں ایک بھی بڑا ہسپتال نہیں بنایا جاسکاجبکہ: بچوں کی شرح اموات پر سندھ کو ٹارگٹ کرنے والے یو ایس ایڈ کی رپورٹ دیکھیں,،یو ایس ایڈ رپورٹ کے مطابق کے پی بچوں کی شرح اموات میں سب سے آگے ہیجبکہ پولیو کے سب سے زیادہ کیسز کے پی سے رپورٹ ہورہے ہیں اور ایم ٹی آئیز میں تمام بھرتیوں بارے رپورٹ چھپا دی گئی, یہ غیر قانونی تھیں جبکہ ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز تحلیل کرنے کا حکم دیا تھا, آج تک عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے کہا کہ ڈی آئی خان کے بے او جی کے سینیئر پر ایف آئی آر ہے گاڑی چوری کی,انہوں نے کہا کہ 7 سال میں ایک لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ نہیں لگوا سکے یہ تبدیلی سرکار تاہم یہ لوگ کس منہ سے سندھ کے صحت نظام کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ کورونا کے خلاف سندھ حکومت کے اقدامات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے گئے ہیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -