تعلیمی ادارے…… جلد بازی میں فیصلے نہ کریں

تعلیمی ادارے…… جلد بازی میں فیصلے نہ کریں

  

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مُلک بھر کے تعلیمی ادارے ستمبر کے پہلے ہفتے میں کھولنے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی صدارت میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی آن لائن کانفرنس میں ہونے والے فیصلے کی حتمی منظوری این سی او سی کے اجلاس میں دی جائے گی، جو جمعرات کو ہونے والا تھا،اجلاس میں تعلیمی ادارے نئے داخلوں اور تعمیر و مرمت کے لئے 15جولائی سے کھولنے پر اتفاق کیا گیا، کانفرنس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے، تمام صوبوں نے اپنی آرا پیش کیں اور سخت احتیاطی تدابیر(ایس او پیز) کے ساتھ تعلیمی اداروں میں پروفیشنل امتحانات کی اجازت دینے کی تجاویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔ یکم ستمبر سے پہلے دو اجلاس منعقد کئے جائیں گے، جن میں اِس حوالے سے مزید تجاویز طے کی جائیں گی،تعلیمی ادارے کورونا کی وبا کی وجہ سے بند کئے گئے تھے،اس کے بعد گرمیوں کی تعطیلات شروع ہو گئیں، جن کی وجہ سے تعلیمی ادارے اب تک بند ہیں۔

جب یہ سطور رقم کی جا رہی ہیں یہ معلوم نہیں کہ وزرائے تعلیم کانفرنس کی سفارشات پر این سی او سی کے اجلاس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے، بظاہر تو امکان یہی ہے کہ اِن سفارشات پر صاد کر لیا جائے گا اور تعلیمی ادارے ستمبر سے کھولنے کی اجازت دے دی جائے گی اس کے لئے سخت ایس او پیز بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے اور جامعات سے اِس ضمن میں تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں،لیکن اس اجازت کے بعض پہلو ایسے ہیں جن پر مزید غور کی ضرورت ہے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کے سلسلے میں جو تجربات سامنے آئے ہیں ان کی روشنی ہی میں کوئی لائحہ عمل طے ہونا چاہئے،تعلیمی ادارے کھولنے کا جو فیصلہ کیا گیا وہ پرائمری سکولوں سے یونیورسٹیوں تک پر لاگو ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ایس او پیز جو بھی بنا لئے جائیں، کیا پرائمری کلاسوں کے طلباء و طالبات سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ان پر عملدرآمد کریں گے اور دو فٹ کے سماجی فاصلے کی شرط کا لحاظ رکھیں گے،جہاں اچھے خاصے سیانے بیانے لوگ احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں لاپروائی برتتے ہوں وہاں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے کس طرح ان ایس او پیز پر عمل کریں گے،جنہیں پوری طرح یہ شعور بھی نہیں کہ کورونا کیا بَلا ہے اور اس نے پوری دُنیا میں کیا قیامت ڈھا رکھی ہے،ویسے بھی کلاس روموں میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بچے بٹھائے جاتے ہیں،جس کمرے میں بمشکل تیس پینتیس طلباء بیٹھنے چاہئیں وہاں سو سو تک بچے بیٹھتے ہیں اگر دو فٹ فاصلے پر عمل ہو گا تو تیس بچوں والے کلاس روم میں تو15 بچوں سے زیادہ نہیں بٹھائے جا سکتے۔اس سلسلے میں کوئی ایس او پیز بنا بھی لئے جائیں تو اُن پر عملدرآمد ایک مشکل مرحلہ ہو گا،بچوں کو سمجھانا ایک الگ مسئلہ ہو گا،دُنیا کے کئی ممالک میں اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایک دن میں 30،40 فیصد طلباء بلائے جاتے ہیں اور باقی طلباء چھٹی پر ہوتے ہیں،پھر اگلے دِن اتنی ہی تعداد میں طلباء بُلا لئے جاتے ہیں اور دوسروں کو چھٹی دے دی جاتی ہے۔ یوں سماجی فاصلے پر عملدرآمد ہوتا ہے اس طرح عملاً ہر بچہ ہفتے میں دو تین دن سے زیادہ سکول نہیں جا رہا یہ اُن ممالک میں ہو رہا ہے،جو کورونا کی قیامت خیزیوں سے گذر کر اب بہتر حالت میں ہیں اور وہاں کے سائنس دانوں اور میڈیکل پروفیشنلز کا خیال ہے کہ کورونا کی وبا چوٹی تک پہنچ کر واپس جا چکی،اِس لئے پورے معاشرے کو آہستہ آہستہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولا جا رہا ہے،جو احتیاطیں کی جا رہی ہیں ان میں اب بھی کوتاہی نہیں ہو رہی اور اگر کسی سکول میں دو بچے بھی کورونا سے متاثر ہوں تو دوبارہ سکول بند کر دیا جاتا ہے،دُنیا کے اِن تجربات کی روشنی میں ہمیں بھی کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہئے،جو محفوظ بھی ہو اور تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا جا سکے۔کہا جا رہا ہے کہ اگست میں کورونا کی وبا بڑھے گی ایسے میں ستمبر میں سکول کھولنے کے فیصلے میں بظاہر کوئی حکمت نظر نہیں آتی۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کو اگرچہ سکول کھولنے کی زیادہ جلدی ہے اور اُنہیں بچوں کی تعلیم کی فکر بھی لاحق ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سکول ستمبر سے پہلے ہی کھل جائیں،لیکن اُن سے بھی ہمدردانہ گذارش کی جا سکتی ہے کہ وہ بچوں کی صحت کو مقدم رکھیں، چند مزید ہفتوں کی تاخیر گوارا کر لینے سے اگر بچوں کی صحت کا تحفظ ہوتا ہے تو یہ کڑوی گولی نِگل لینے میں کوئی حرج نہیں،اِس وقت مُلک میں کورونا مریضوں کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار کے ہندسے کے قریب ہے،ان میں بچوں کی تعداد اگر بہت معمولی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ سکول بند ہیں اور بچوں کا باہمی میل جول ختم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بچے بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوتے۔یہ پہلو اطمینان بخش ہے کہ بروقت سکول بند ہونے سے بچے متاثر نہیں ہوئے۔اگرچہ ان کی تعلیم کا حرج ضرور ہوا،لیکن آن لائن تعلیم سے یہ کمی کسی حد تک پوری کرنے کی کوشش کی گئی،جو اب بھی جاری رکھی جا سکتی ہے تاہم جہاں انٹرنیٹ کی سہولت عام نہیں ہے وہاں تعلیمی اداروں کے30فیصد ہوسٹل کھولنے اور وہاں آن لائن اجتماعی تعلیم کی جو تجویز سامنے آئی ہے اس پر اگر عمل ہو جائے تو انٹرنیٹ سے محروم علاقوں کے طلبا بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اِس وقت یونیورسٹیوں کی بندش ہی سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے،جامعات کا مالی بحران بھی تعلیم کے راستے کی بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، کالج اور یونیورسٹیاں اگر کھل بھی جائیں اور طلباء کلاسوں میں آنا شروع بھی ہو جائیں تو مالی بحران سے تعلیم کا جو ہر ج ہو گا اس کے ازالے کی بھی کوئی صورت ہونی چاہئے،اِس وقت انجینئرنگ کی تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ یو ای ٹی جس مالی بحران کا شکار ہے اس میں یہ خبریں آ رہی ہیں کہ وائس چانسلر سمیت ٹیچنگ سٹاف کی تنخواہیں کم کی جا رہی ہیں، حکومت کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،لیکن انجینئرنگ کی سب سے بڑی یونیورسٹی کا اگر یہ حال ہے تو اس سے حکومت کے دعوے کی صحت مشکوک ہو جاتی ہے،جن اساتذہ کی تنخواہیں کم ہو جائیں گی کیا وہ اطمینان کے ساتھ تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھ پائیں گے؟وہ تو ہر وقت اپنے ذاتی مسائل ہی میں اُلجھے رہیں گے،اِس لئے یونیورسٹی کے مالی بحران کے حل پر بھی توجہ دینی چاہئے۔یہ معاملہ صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے۔پشاور یونیورسی کے وائس چانسلر نے جنوری میں جب ابھی کورونا پاکستان میں نہیں آیا تھا صوبائی حکومت کو خط لکھا تھا، جس میں پشاور یونیورسٹی کے مالی بحران کی طرف حکومت کی توجہ دلائی گئی تھی، خط میں خبردار کر دیا گیا تھا کہ فروری میں یونیورسٹی اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکے گی۔معلوم نہیں کہ اس وقت وہاں کیا پوزیشن ہے اور ملازمین کو تنخواہیں ملی ہیں یا نہیں،لیکن یہ تو واضح ہے کہ یونیورسٹی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے یہ تو صرف دو یونیورسٹیوں کی مثالیں ہیں،مجموعی طور پر ہر صوبے کی یونیورسٹیاں کسی نہ کسی انداز میں مالی مشکلات سے دوچار ہیں، یونیورسٹیاں کھل گئیں تو یہ مسائل زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آ جائیں گے۔عین ممکن ہے طلبا و طالبات بھی اپنے اساتذہ کی حمایت میں میدان میں آ جائیں،اِس لئے یہ ضروری ہے کہ یونیورسٹیاں کھولنے سے پہلے نہ صرف کورونا کے پھیلاؤ کو پیش ِ نظر رکھا جائے،بلکہ یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ مالی بحران سے دوچار یونیورسٹیوں میں تعلیم کا مستقبل کیا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -