کراچی! ایک اور پانچ منزلہ بلڈنگ گر گئی

کراچی! ایک اور پانچ منزلہ بلڈنگ گر گئی

  

کراچی میں ایک حادثہ پیش آیا اور ایک پانچ منزلہ عمارت گر گئی۔شکر ہوا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کہ انتظامیہ نے مخدوش عمارت کو ایک ہی روز پہلے خالی کر ا لیا تھا، تاہم مکینوں کا سامان ابھی نہیں نکالا جا سکا تھا، چھوٹے فلیٹوں پر مشتمل اِس عمارت کے مکین ایک ہی لمحے میں آسمان سے زمین پر آ گرے کہ ان کی جمع پونجی ملبے کے ڈھیر میں دب گئی۔ مکینوں کی آہ و زاری سے دِل تڑپ گئے جو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ آسمان تلے آ گئے۔ان میں سے اکثریت کے پاس ملکیت تھی اور کچھ خاندان کرائے پر بھی تھے۔ کراچی میں عمارت گرنے کا یہ پہلا حادثہ نہیں،اس سے پہلے متعدد عمارتیں گر چکیں اور درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، حال ہی میں گرنے والی ایک بلڈنگ کے ملبے تلے20 سے زیادہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے،انتظامیہ کی طرف سے اب تک کوئی کارروائی سامنے نہیں آ سکی، کراچی فلیٹوں کا شہر ہے، یہاں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے افراد انہی فلیٹوں میں گذارا کرتے ہیں۔بلڈر ز مافیا، متعلقہ حکام کے ساتھ ساز باز کر کے نہ صرف بلڈنگز قوانین کی خلاف ورزی کرتا اور دو منزلوں کی منظوری کو پانچ تک لے جاتا ہے اورعام طور پر چار سے زیادہ منزلوں پر مشتمل یہ بلڈنگز ہیں۔ بلڈرز حضرات میٹریل بھی پورا اور صحیح استعمال نہیں کرتے اور یہ سب ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ بلڈرز کو ناقص میٹریل کے ساتھ اونچی اونچی عمارتیں بنانے پر اللہ کا خوف بھی نہیں آتا اور نہ ہی حکام تعمیر کے وقت پوری توجہ دیتے ہیں،ان کی وجہ سے ایسی مخدوش عمارتیں کھڑی ہو جاتی ہیں، تعمیراتی مافیا عمارت بنا کرضرورت مندوں سے رقوم اکٹھی کر کے الگ ہو جاتا ہے، بعد میں ایسی ہی عمارتیں گر کر جانی و مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔یہ حکومت کی بھی کمزوری ہے کہ وہ اس جان لیوا سلسلے کو رکوانے میں ناکام ہے اور متعلقہ ادارے مال بنا کر تکمیل کرا دیتے ہیں۔ اب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، ہونا تو یہ چاہئے کہ تفصیلی سروے اور جانچ پڑتال کے بعد عمارتیں مخدوش قرار دے کر خالی کرائی جائیں (جیسا گزشتہ روز گرنے والی بلڈنگ کے حوالے سے کیا گیا) اور متعلقہ بلڈرز اور سرکاری اہلکاروں کو کٹہرے میں لا کر ان سے نقصان کی تلافی کرائی جائے اور جو لوگ دب کر مرے ان کی موت کے حوالے سے قتل کے مقدمات درج کر کے ان کو گرفتار کیا جائے،جب تک سخت سزائیں نہ دی گئیں یہ مافیا باز نہیں آئے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -