کورونا سے روایات تبدیل، بدرالاسلام بٹ کی رخصتی!

کورونا سے روایات تبدیل، بدرالاسلام بٹ کی رخصتی!
کورونا سے روایات تبدیل، بدرالاسلام بٹ کی رخصتی!

  

ہمارے دوست، محلے دار، دانشور منور بیگ مرزا کا فون تھا، خیال رہا، سیر کے لئے نہیں جاتے، اِس لئے خیر خیریت کے لئے ہو گا،اس ظالم کورونا نے ہماری سیر صبح کی محفل تو کیا، ناشتہ تقریب بھی ختم کر دی ہوئی ہے،اس سے رانا حنیف کو پریشانی ہوتی ہے جو ناشتہ کے لئے متحرک رہتے تھے،لیکن جب مرزا منور بولے، تو اطلاع صدمے والی تھی۔ انہوں نے دریافت کیا،آپ بدرالاسلام بٹ کو تو جانتے ہیں، اب یہ بھی کوئی سوال تھا،بٹ صاحب کو نہ جاننے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہو سکتی،جب جواب میں اقرار کیا تو وہ بولے!ان کا انتقال ہو گیا، زبردست جھٹکا لگا کہ بدقسمتی سے حالات کے گرداب نے میل ملاقات تو رہی ایک طرف، ایک دوسرے کے حالات جاننے سے بھی عاری ہو چکے ہوئے ہیں۔بہرحال انہوں نے مزید تفصیل بتائی کہ بٹ صاحب(مرحوم) اپنے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر نجم بٹ کے ہاں تھے، اور نمازِ جنازہ جہانزیب بلاک میں ہو گی،ہم نے سوچا کہ یہ درست ہے کہ بدرالاسلام بٹ جہانزیب بلاک ہی میں رہتے تھے، ہم نے بھی فیس بُک اکاؤنٹ پر ان کے انتقال پُرملال کی اطلاع تحریر کر دی اور نمازِ جنازہ کے لئے جہانزیب بلاک ہی تحریر کیا،لیکن تھوڑی دیر کے بعد مرزا منور حسین بیگ نے پھر فون کیا اور بتایا کہ مرحوم کے صاحبزادے نے ایک بار پھر مقامِ نماز تبدیل کر دیا اور اب نمازِ عصر کے بعد نمازِ جنازہ کالج بلاک کی گراؤنڈ ہی میں ہو گی،جہاں خود ڈاکٹر نجم کی رہائش ہے اس تبدیلی کی اطلاع کے بعد پھر سے سوشل میڈیا ہی پر وضاحتی تحریر جاری کی اور کوشش کی کہ زیادہ احباب تک پہنچ سکے، اس مشق سے ہمارے دفتر کا کام بھی متاثر ہوا۔

ہم پہلے بھی گذارش کر چکے اور اب پھر عرض کرتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے ہم اپنے گھر تک محدود ہیں،اسے آپ خود پر عائد ذاتی قرنطینہ ہی تصور کر لیں کہ ہم جیسے لوگوں کے لئے ہدایات سخت ہیں،چنانچہ گو مگو کی کفیت میں مبتلا ہو گئے کہ کیا کِیا جائے۔بدرالاسلام بٹ(مرحوم) سے تعلقات دیرینہ کا تقاضہ یہی تھا کہ ان کی آخری رسم میں شرکت ضرور کی جائے۔یوں بھی ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے جو مشق کی تھی، اس کے نتیجے میں احباب کی آمد متوقع تھی، اب ہماری خود ساختہ تنہائی پر بدرالاسلام بٹ کے ساتھ طویل رفاقت اور دوستوں کی آمد اور ان سے ملاقات کی توقع نے فیصلہ کر دیا کہ زیادہ احتیاط کے ساتھ شرکت ضرور کی جائے،چنانچہ مرزا منور بیگ صاحب کی ذاتی مصروفیت کے باعث برخوردار عاصم چودھری کو فون کیا اور اُسے اس کے دفتر سے بلایا،اب ہم نے یہ اہتمام کیا کہ صاحبزادے کی طرف سے نئے اور درست ماڈل کا لایا ماسک نکالا، جو ابھی تک جوں کا توں پڑا تھا، اس کے بعد تھوڑا جلدی وضو کر کے عصر کی نماز گھر پر ہی ادا کر لی، دھلی شلوار قمیض نکالی، سینی ٹائزر لیا اور بازوؤں پر اچھی طرح لگا لیا، پھر ہم دونوں باپ بیٹا کالج بلاک پہنچے تو مسجد میں عصر کی نماز کا اہتمام تھا اور تعزیت کے لئے آنے والے بھی جا رہے تھے۔

عاصم چودھری بھی نمازِ عصر کی ادائیگی کے لئے چلا گیا، ہم گاڑی میں بیٹھے رہے کہ نماز پڑھ چکے تھے، عاصم گاڑی سٹارٹ چھوڑ گیا،جس کا اے سی چل رہا تھا۔یوں ہم یہاں بھی قرنطینہ کئے بیٹھے رہے۔ نمازِ عصر کے بعد جنازہ اٹھایا گیا اور ساتھ والی گراؤنڈ میں لے جا کر نماز کا اہتمام ہوا، شرکت کرنے والے حضرات کا تعلق زیادہ تر رشتہ داروں اور صاحبزادوں کے دوستوں سے تھا، ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو ناصر نقوی نظر آ گئے۔انہوں نے بھی ہمیں دیکھ لیا، سلام دُعا ہوئی اور ہم دونوں نے بھی احتیاط کی، سماجی فاصلے کو ایک حد تک برقرار رکھتے ہوئے باتیں کرتے چلے، موضوع میں وفات تو اپنی جگہ، زیادہ تر حلقہ صحافت سے متعلق دوستوں کی غیر حاضری تھی۔ ناصر نقوی ہی نے بتایا کہ ہم دونوں کے علاوہ برادرم عثمان (فوٹو گرافر) ہیں۔باقی اللہ،الہّٰ اور خیر سّلا،یہ بھی تکلیف دہ بات تھی کہ اتنے سینئر اور باوضع صحافی کی وفات پر صحافی ہی غیر حاضر تھے۔یہ امر تکلیف دہ تھا اور ہم اسی حوالے سے بات کرتے رہے۔ ناصر نقوی کے بقول باریاں لگی ہوئی ہیں، آج یہ تو کل کسی اور کی باری ہو گی، جو بھی آیا اُسے جانا تو ہے ہی،لیکن یہ کیا بے حسی ہے کہ مرحوم کے قریبی ”کولیگ“ تک بھی نظر نہیں آئے۔ حاضرین کا تعلق ان کے صاحبزادوں اور رشتہ داروں سے تھا، تاہم یہ امر بڑی حد تک اطمینان بخش تھا کہ آنے والے تعلیم یافتہ تھے اور 99.9فیصد ماسک سے لیس تھے اور کوشش یہ تھی کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔

بدرالاسلام بٹ کے حوالے سے بعد میں بعد میں بات کرتے ہیں، پہلے اس پر دُکھ کا اظہار کر لیں کہ اس وبا نے کس حد تک سماج کو متاثر کیا کہ ایک بزرگ صحافی کے جنازے میں خود ان کے اپنے ساتھی ہی نہیں تھے۔ ہمیں یہ بھی یاد آیا کہ ہم بھی تو خود ساختہ قرنطینہ ہی اختیار کئے ہوئے ہیں اور باہر نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔یہ بٹ(مرحوم) کی کشش ہے کہ ہم نے شرکت کی۔اِس لئے ہم نے دُکھ کے باوجود دوستوں اور ساتھیوں کو معاف کر دیا،لیکن یہ دُکھ ضرور ہے اور رہے گا کہ جو حضرات حال ہی میں دوستوں کے انتقال پر جاتے رہے ہیں وہ بھی نہیں تھے۔شاید مرحوم اب کلب انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئیں گے اور ان کی اولاد میں سے بھی کوئی جرنلسٹ اور پریس کلب کا ممبر نہیں ہے۔تاہم روایات کی تبدیلی کا جو ذکر کیا تو وہ اس سے بھی ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا پر ہماری پوسٹوں کے جواب میں سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے، ان میں سے صرف تعزیت کا اظہار ہی نہیں کیا گیا، بلکہ جو جاننے والے تھے۔ انہوں نے بٹ صاحب کی صفات کا بھی تذکرہ کیا تو یہ طے ہو گیا کہ اس وبا نے سارا سماجی ڈھانچہ ہی تبدیل کر دیا اور اب ہم دُکھ کے بھی ساتھی نہیں رہے،عملی شرکت کی بجائے ای ٹیکنالوجی ہی کا سہارا لے رہے ہیں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہم سب اس ای ٹیکنالوجی کے محتاج ہو گئے، خود کو ہر رشتے سے لاتعلق کر کے یہ رشتہ مضبوط کر لیا ہے۔اس تبدیلی کے باوجود ہم توبہ نہیں کر رہے کہ اللہ ہمیں معاف فرما دے اور اس وبا کا خاتمہ فرمائے کہ شاید اس کے ختم ہونے کے بعد پھر سے رشتے بحال ہو جائیں۔

بات محترم بدرالاسلام بٹ کی ہونا چاہئے، وہ ایک نفیس انسان تھے، کم گو غصہ نہیں کرتے تھے، انتہائی محنتی اور عمدہ لکھنے والے تھے۔امروز میں طویل رفاقت دفتری امور سے ہٹ کر ذاتی سطح پر بھی رہی،ہمیں مرحوم یعقوب بھٹی(فوٹو گرافر) اور دوست ہلال خان(مرحوم) بھی یاد آ رہے ہیں، کہ تنویز زیدی کی رفاقت میں ہلال خان کی فیکٹری کے ڈیرے میں جو محفل سجتی وہ اتنی تاریخی اور یادگار ہے کہ بھلائے نہیں بھولتی،بدرالاسلام بٹ اصلی ترقی پسند تھے، ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں بھی مخلص رہے۔ ایل ایل بی بھی کر رکھی تھی، اسی لئے ہائی کورٹ رپورٹنگ بھی اچھی کی اور یہ ”دی مسلم“ اور کچھ عرصہ ”ڈان“ کے لئے بھی تھی، ان کے ساتھ وابستہ یادیں اتنی کہ کئی صفحے سیاہ کئے جا سکتے ہیں۔ مَیں اپنے صاحبزادے عاصم کی شادی کی دعوت دینے،جہانزیب بلاک ان کی رہائش پر گیا تو دونوں میاں بیوی تھے۔ حال احوال پوچھا تو کہنے لگے۔ ڈاکٹر نجم کا اصرار ہے کہ ہم بڈھے ان کے پاس آ جائیں اور وقت پورا کریں، مگر ہم اس گھر سے جانا نہیں چاہتے، بچے خود ہی یہاں ملنے آتے ہیں تو رونق لگ جاتی ہے، نمازِ جنازہ کے بعد ڈاکٹر نجم کو ڈھونڈھا، تعزیت کی اور پوچھا کہ آپ کے پاس کب آئے تو انہوں نے بتایا کہ تین چار ماہ ہوئے ہوں گے،زیادہ علیل ہوئے تو زبردستی لے کر آیا، بٹ مرحوم نے91سال عمر پائی، اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔

مزید :

رائے -کالم -