صحت کارڈ منصوبہ پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا،مقصود بٹ

صحت کارڈ منصوبہ پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا،مقصود بٹ

  

لاہور(پ ر)حکومت کے مستحق خاندانوں کے لیے جاری کئے گئے صحت کارڈ پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا، وفاقی بجٹ میں صحت کے لیے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو صحت کارڈ سے استفادہ کرنے والے 25 فیصد لوگوں کے لیے بھی ناکافی ہو گا ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی نائب صدر مقصود بٹ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اٹھتر لاکھ صحت کارڈز کا اجراء کیا گیا ہے جن میں سے تقریباً 72 لاکھ گھرانے پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان خاندانوں میں اگر اوسطاً 5 افراد بھی شامل ہوں تو اس سے تقریباً 4 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو یقیناً ایک احسن اقدام ہے لیکن حکومت کی جانب سے بجٹ میں صحت کے لیے مختص کی گئی رقم سے اتنے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔

۔ اگر صحت کارڈ رکھنے والے تمام افراد صحت کی سہولیات سے استفادہ کریں گے تو اس کے لیے تقریباً 5722 ارب روپے درکار ہوں گے جو پاکستان کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ اور اگر صرف 25 فیصد افراد صحت کارڈ سے استفادہ کریں تو اس کے لیے بھی 1430 ارب روپے کی ضرورت ہو گی. جس کو پورا کرنے کے لیے موجودہ 25لاکھ ٹیکس گزاروں پر مزید 57 ہزار روپے فی کس ٹیکس لگانا پڑے گا، جس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ صحت کی سہولیات کے وعدوں کا بھی وہی حال ہو گا جو باقی حکومتی وعدوں اور دعوؤں کا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات شہریوں کا بنیادی حق ہے، اس مد میں مختص کئے گئے فنڈز ناکافی ہیں.

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -