میر شکیل الرحمن کے اہلخانہ کو نیب انکوائری میں شامل نہ کرنے پر درخواست چیئرمین،ڈی جی نیب سے جواب طلب

میر شکیل الرحمن کے اہلخانہ کو نیب انکوائری میں شامل نہ کرنے پر درخواست ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کے اہلخانہ کو نیب انکوائری میں شامل نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پرچیئرمین نیب اور ڈی جی نیب لاہور سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیاہے۔جنگ گروپ کے حریف ایک نجی ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں اسد کھرل اور ظہیرالدین بابر(بابرڈوگرسیکرٹری لاہور پریس کلب)کی طرف سے دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ نیب نے تفتیش میں اہم شواہد کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے، نیب نے عدالت کو نہیں بتایا کہ ملزم میر شکیل الرحمن نے انہی پلاٹوں پر نیشنل بینک سے قرضہ بھی لیا، نیب کے اعلیٰ افسران دانستہ طور پر شریک ملزموں کیخلاف شواہد ریکارڈ پر نہیں لا رہے، نیب کو میر شکیل الرحمن کے بیوی بچوں کے حوالے سے بھی اہم ثبوت دیئے گئے لیکن نیب نے صرف میر شکیل کو ہی گرفتار کیا ہے،پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں میر شکیل کے اہلخانہ کو شامل نہ کرنے سے پراسیکیوشن کا موقف کمزور ہو گا، میر شکیل کی اہلیہ اور بچے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ میں پوری طرح ملوث ہیں،وہ زمین کے اصل مالکان میں شامل ہیں،درخواست گزاراسد کھرل کی طرف سے عدالت کوبتایا گیا کہ وہ پلاٹ الاٹمنٹ کیس کے شکایت کنندہ ہیں،انہوں نے شاہینہ شکیل، میر ابراہیم، میر اسماعیل، عاصمہ اور عائشہ شکیل کوشامل تفتیش کرنے کیلئے چیئرمین نیب کو درخواست بھی دے رکھی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، درخواست میں یہ استدعابھی کی گئی ہے کہ میر شکیل الرحمن سمیت اس کے اہلخانہ کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کاحکم دیاجائے۔

جواب طلب

مزید :

صفحہ آخر -