ای او بی آئی، 108ملین کی اراضی خریداری پر سیکرٹری داخلہ، ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم

ای او بی آئی، 108ملین کی اراضی خریداری پر سیکرٹری داخلہ، ایف آئی اے کو تحقیقات ...

  

ٍٍ اسلام آباد (این این آئی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ای او بی آئی کی 108ملین روپے کی زمین خریداری معاملے پر سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کی ٹیم بنادی جو 16 جولائی تک تحقیقاتی رپورٹ پیش کریگی جبکہ ای او بی آئی کی کی جانب سے شیئر خریدنے سے 4 اعشاریہ 82 ارب روپے کا نقصان ہوا،شیئر خریدتے وقت ضروری تقاضے پورے نہیں کئے گئے،جس کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جس پر کمیٹی نے 7 دنوں میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔ جمعرات کو سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں ای او بی آئی کی 108 ملین روپے کی زمین خریداری کا معاملہ زیر بحث آیا۔اس موقع پر ورکرز ویلفیئر فنڈز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ورکرز ویلفیئر فنڈز کے 20 ارب روپے واپس جمع نہیں کروائے گئے۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ یہ معاملہ -06 2007 کا ہے اور ابھی تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،یہ پیسہ ورکرز ویلفیئر فنڈز کا تھا جو کنسولیڈیٹو فنڈز میں چلا گیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق کمیٹی وزارت خزانہ کو لکھ دے کہ پیسہ واپس ویلفیئر فنڈز کو جمع کروا دیا جائے۔ وزارت خزانہ حکام نے کہاکہ اے جی پی آر کے ساتھ معاملات طے کرلیں،اگر پیسے ویلفیئر فنڈز کے ہیں تو ان کو مل جائینگے۔کمیٹی نے معاملے کی 7 دنوں میں تحقیقات کروا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی نے سیکرٹری خزانہ کو معاملے کے حل کی بھی سفارش کردی۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ کیا یہ پیسہ مارک اپ کیساتھ دیا جائیگا یا اور طریقہ کار اپنایا جائیگا۔اجلاس کے دور ان ای او بی آئی کی جانب سے شیئر خریدنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دور ان انکشاف ہوا کہ ای او بی آئی کی کی جانب سے شیئر خریدنے سے 4 اعشاریہ 82 ارب روپے کا نقصان ہوا۔کمیٹی نے 7 دنوں میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں او پی ایف کی ہاؤسنگ اسکیم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ہاؤسنگ اسکیم کا 2 اعشاریہ 4 ارب روپے کا ٹھیکہ ٹینڈر کے بغیر ایف ڈبلیو او کو دیدیا گیا۔ایف ڈبلیو او یا کسی بھی سنگل پارٹی کو ٹینڈر کے بغیر ٹھیکہ دینا پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے۔ کنوینئر کمیٹی نے کہاکہ وزارت قانون کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر کرپشن ہوئی ہے تو بتائیں۔ ریاض فتیانہ نے کہاکہ وزارت جواب دے کہ کیا ٹینڈر دیتے وقت پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ او پی ایف حکام کے مطابق زمینوں پر قبضے تھے جس کی وجہ سے مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا،کمیٹی نے معاملے کو حل کرنے کیلئے 30 دن کا وقت دیدیا۔

ای او بی آئی

مزید :

صفحہ آخر -