اپوزیشن کی قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، واک آؤٹ

اپوزیشن کی قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، واک آؤٹ

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی اجلاس میں کراچی سٹاک ایکس چینج پر حملے میں شہید سکیورٹی گارڈز کے ورثاء کو امدادی پیکیج کے حوالے سے تحریک انصاف کی نصرت واحد کے توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی خان نے کہا کہ حملے میں تین سکیورٹی گارڈ اور دو پرائیویٹ افراد شہید ہوئے تھے،دہشت گرد سٹاک ایکسچینج پر حملہ کر کے قبضہ کرنا چاہتے تھے،حملہ آور قبضے کے بعد اپنے مطالبات منوانا چاہتے تھے،سکیورٹی گارڈز اور قانون نافذکرنیوالے اداروں کی بروقت کارروائی سے دہشت گردی کا واقعہ ناکام بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ شہید ہونیوالوں کے لواحقین کو گورنر سندھ نے10,10 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا۔ دہشت گردی سے مقابلے میں بچنے والے کو پندرہ لاکھ کا انعام دیا گیا ہے، دہشت گردوں سے مقابلہ کرنیوالے اہلکاروں کو گیارہ پولیس میڈلز،سات قائد اعظم میڈیلز دینے کا اعلان کیا گیا۔یہ اعلان گورنر سندھ نے کیا۔ نجی سکیورٹی کمپنیوں کو بھی اسی طرح کا پیکیج دینا چاہیے اس پر قانون سازی کی ضرورت ہے جن نجی سکیورٹی کمپنیوں کو لائنس دیا گیا ہے، اس پر نظر ثانی کیلئے غور کر رہے ہیں، نجی کمپنیوں کو لائسنس سے پہلے ایسے حادثات میں پیکیج سے مشروط کریں۔سٹاک ایکسچینج انتظامیہ نے بھی معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔دریں اثناء قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر مراد سعید کا اظہار خیال کرتے ہوئے عزیر بلوچ کا 164 کا بیان قومی اسمبلی میں لے آئے۔ انہوں نے کہا عزیر بلوچ نے آصف زرداری کیلئے 14 شوگر ملوں پر قبضے کئے، بھتہ آصف زر د اری اور فرالی تالپور کو جاتا تھا، لوگوں کو قتل کرنے کیلئے پولیس موبائل بھی استعمال کی۔ عزیر بلوچ کہتا ہے 2008 میں جب جیل میں تھا پیپلزپارٹی نے قیدیوں کا سربراہ بنایا، ایک جے آئی ٹی میں ہے کہ قبضہ کیا گیا جبکہ دوسری جے آئی ٹی میں ہے کہ کس کے کہنے پر کیا گیا، عزیر بلوچ نے پولیس مقابلے، اغوا برائے تاوان، تھانوں پر حملوں کا اعتراف کیا۔مراد سعید کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا، پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ صوبیہ سومرو نے ہیڈ فون مارنے کیلئے وفاقی وزیر مراد سعید کی طرف پھینکا لیکن انہیں نہیں لگا جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تو شاہدہ رحمانی نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ ارکان کی گنتی کے بعد کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی کورم پورا ہونے تک موخر کر دی گئی۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا، کے الیکٹرک کیخلاف توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ اس وقت کے الیکٹرک کو ایک سو میگاواٹ بجلی معاہدے سے اضافی دے رہے ہیں، کراچی میں بارش کا پانی کھڑا ہونے سے اموات ہوتی ہیں۔وزیر توانائی کی جانب سے سندھ حکومت پر تنقید پر پیپلز پارٹی ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا۔ اس دوران حکومتی رکن اسلم خان نے زور زور سے پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان کو چپ کرو شرم کرو کی آوازیں دیں تو خواتین ارکان نے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ ڈپٹی سپیکر کی ہدایت پر رکن اسلم خان نے معذرت کرلی۔وفاقی وزیر اسد عمر کی تقریر کے دوران آغا رفیع اللہ نے مداخلت کی تو ڈپٹی سپیکر نے جھاڑ پلا دی اور کہا کہ آپ نے پورے ایوان کو یرغمال بنا رکھا ہے، چپ کریں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر امین الحق نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان منگل کو کے الیکٹرک کیخلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گی۔ عمر ایوب اور اسد عمر نے کہا کراچی کے عوام کے مسائل کا ادارک ہے، کے الیکٹرک کو 200 میگاواٹ مزید بجلی دیں گے، ماضی میں کراچی میں بجلی کی پیداوار کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھا یا گیا۔یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کے الیکٹرک کی ہم نے نجکاری کی۔ عمر ایواب کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے اراکین نے کراچی میں اکثریت حاصل کی، نیپرا میں سندھ کا نمائندہ حکومت سندھ نے نامزد کیا ہے، سندھ حکومت اس کیخلاف ٹھوس کارروائی کرے، نیپرا میں کے الیکٹرک کے معاملے پر کل سماعت ہے، مون سون میں بارشوں سے جو پانی جمع ہوگا اس کا ذمہ دار کون ہے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -