18ویں ترمیم کیخلاف پروپیگنڈا قومی یکجہتی کیخلاف سازش

  18ویں ترمیم کیخلاف پروپیگنڈا قومی یکجہتی کیخلاف سازش

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام کے تحت آل پارٹیز کانفرنس نے 18ویں ترمیم کو آئینِ پاکستان کی روح، ترمیم کیلئے ہونیوالی سازشوں اور پروپیگنڈوں کو قومی یکجہتی کیخلاف سازش قرار دیدیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی سربراہ جمعیت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان تھے۔ اجلاس میں صوبہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے زیر اہتمام ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس 18ویں ترمیم کو آئینِ پاکستا ن کی روح تصور کرتی ہے اور اسلئے اس میں ترمیم کیلئے ہونیوالی سازشوں اور پروپیگنڈوں کو قومی یکجہتی کیخلاف ایک سازش سمجھتی ہے۔ پاکستان جن نا مساعد حالات سے گزررہا ہے ان حالات میں اس ترمیم میں رد و بدل دانشمندی نہیں ہوگی۔لہٰذ آل پارٹیز کانفرنس متفقہ طور پر فیصلہ کرتی ہے کہ 18ویں ترمیم کیخلاف تمام سازشیں ختم کی جائیں اور اس پر من و عن عمل درآمد کیا جائے، بصورت دیگر ترمیم کیخلاف کوئی بھی قدم اٹھایا گیاتو تمام جماعتیں مل کر اسکے تحفظ کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں گی۔اے پی سی یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں جواختیارات اور حقوق مرکز نے صوبوں کو دیئے ہیں،صوبوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان اختیارات کو نچلی سطح تک ضلعی و شہری حکومتوں اوربلدیاتی اداروں کو منتقل کردیں۔ آل پارٹیز یہ سمجھتی ہے موجودہ وفاقی حکومت وفاقی پارلیمانی نظام کی مخالف ا ور اس ترمیم کو ختم کرکے صوبوں کو وفاق کے دستِ نگر کرکے صوبائی خودمختاری پر شپ خون مارنا چاہتی ہے۔آل پارٹیز نے این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں مشترکہ فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ میں آئین پاکستان کی دفعہ 160 کی ذیلی شق نمبر 3 کے مطابق صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد ہے جس میں کسی قسم اور کسی بھی حوالے سے کمی کو قبول نہیں کی جائیگی۔10ویں این ایف سی ایوارڈ میں ہر صوبے کا ٹیکنیکل بورڈ ممبر اس صوبے کا رہائشی ہونا چاہئے لہٰذا ہر صوبے کا ٹیکنیکل بورڈ ممبر اسی صوبے کے گورنر و صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نامزد کیا جائے۔مشترکہ مفادات کونسل (ای سی سی) کا اجلاس ہر 3 ماہ بعد لازمی ہونا چاہیے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تمام آئینی حقوق کے مسائل بروقت حل ہوسکیں۔ آل پارٹیز کانفرنس نے آعادہ کیا کہ ملک کو اس کے حقیقی منتخب پار لیمنٹ، اسمبلیاں اور نمائندے ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں اس لئے پارلیمنٹ کی سپرمیسی کوبرقرار رکھا جائے۔آل پارٹیز کانفرنس نے ملک کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور IMFاور غیر ملکی مالیاتی اداروں کی خواہش پر پاکستان کے عوام اور ملکی معیشت پر ظلم نہ ڈھا ئے۔ پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کی برطرفی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ظالمانہ فیصلہ فی الفور واپس،عدالتی فیصلے کے مطابق معاملے کو کونسل آف کامن انٹرسٹ کے فورم پر حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ محکمہ سیاحت کو ختم اور ملازمین کو برطرف کرنے کے حکم کو غریب ملازمین کا معاشی قتل قراردیا گیا۔آل پارٹیز کانفرنس ملک میں جاری میگا پراجیکٹ یعنی سی پیک (CPEC) میں رکاوٹ ڈالنے کی حکومتی کوششوں کی مذمت کی گئی،منصوبے کو گیم جینجر کا نام دیتے ہوئے اس پر رکاوٹوں کو فی الفور دور کرنے سمیت منصوبے میں تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر حصہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔آل پارٹیز کانفرنس نے کورونا وبا ء کو روکنے،ٹڈی دل کے حملوں کو ناقص انداز میں حل کرنے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ متاثرہ زمینداروں اور کا شتکا روں کو بھی ریلیف پیکج دیا جائے۔پورے ملک میں بالخصوص صوبہ سندھ میں تمام لاپتہ افرادکی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ سیاسی کارکنوں کو اغوا کرکے قتل،جاری غیر آئینی و غیرقا نو نی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی۔آل پارٹیز کانفرنس نے میڈیاچینلز کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقدام حکومت کی تنگ نظری کا ثبوت ہے، ہم میڈیا سے بھرپور یکجہتی کا ا ظہار کرتے ہیں، ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کو مکمل آزاد رکھاجائے۔آل پارٹیز کانفرنس نے قومی ائیر لائن پی آئی اے کی تباہ حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور ا س کے اثاثوں اور ملکیتوں کو فروخت نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔کے الیکٹرک، ہیسکو اور سیپکو کی جانب سے شہر کراچی سمیت صوبہ سندھ کے اندر بد ترین لوڈشیڈنگ کی بھی بھرپور مذمت کی گئی۔آل پارٹیز نے ملک میں ہونیوالی کرپشن خصوصی طور پر چینی، آٹا، ادویات اور پیٹرول پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مافیاز کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا۔

اے پی سی

مزید :

صفحہ اول -