پٹرول بحران، تحقیقات کیلئے اعلٰی سطحی کمیشن بنانے کا فیصلہ

پٹرول بحران، تحقیقات کیلئے اعلٰی سطحی کمیشن بنانے کا فیصلہ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے پٹرول بحران کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمشن بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سے کمشن کے لئے نام طلب کرلئے ہیں،چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کے روبرو پٹرول بحران کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان نے پٹرول بحران کی تحقیقات کے لئے کمشن بنانے کی تجویز دی جسے منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے انہیں کمشن کے لئے نام پیش کرنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس نے خبردارکیاکہ اٹارنی جنرل کی جانب سے کمیشن کے لئے بہترنام پیش نہ کئے گئے توعدالت خودنام تجویز کرے گی، عدالت کو مضبوط لوگ کمیشن میں چاہئیں،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی نے سرکاری ریکارڈ چھپانے کوشش کی تو سخت کارروائی ہوگی، اس حمام میں سب کے کپڑے اتریں گے،یہ حکومت کی بری گورننس کی انتہا ہے،حکومت نے پٹرول بحران کے حوالے سے مطمئن نہ کیا تو اس کی بیڈ گورننس کے حوالے سے تحریری آرڈر میں آبزرویشن دی جائے گی،چیف جسٹس نے قراردیاکہ چیئرپرسن اوگرا نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی،چیئرپرسن اوگرا سیدھا بیان دیں،ورنہ باقی سب بچ جائیں گے اوریہ خودپھنس جائیں گی،لگتا ہے چیئرپرسن اور کچھ لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں،عدالتی حکم پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری،اٹارنی جنرل پاکستان اورچیئرپرسن اوگرا عدالت میں پیش ہوئے،فاضل جج نے ان افسروں کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ لگتاہے پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم بہت بڑا آدمی ہے، 4'4 مرتبہ بلانے پر بھی پیش نہیں ہوتا،یہ وفاقی حکومت کی خراب گورننس نہیں ہے تواورکیاہے،پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم حکومت بھی چلاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی چلاتا ہے،چیف جسٹس نے مزید قراردیا کہ پٹرولیم بحران کے معاملے پر ایسا لگتا ہے کچھ بڑے شامل ہیں،جب تک بحران کے ذمہ دار پکڑے نہیں جائیں گے تب تک بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا،بظاہر لگتا ہے آئل مافیا نے فائدہ اٹھانے کے لیے پٹرول کو شارٹ کیا گیا،حکومت پہلے ہرمہینہ کی یکم تاریخ کو پٹرولیم کی قیمتیں بڑھاتی ہے،گزشتہ ماہ 26 جون کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کہ مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا گیا،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ روسٹرم پرآئیں اور بتائیں کہ بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف آپ نے کیا کارروائی کی؟آپ کو کہا گیا تھا کہ سپیکر سے پوچھ کے بتائیں کہ وہ کمیٹی بنا رہے ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آپ کے حکم پر میں نے اتوار کو سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے سامنے معاملہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،اٹارنی جنرل نے پٹرول بحران کی تحقیقات کے حوالے سے کمشن بنانے سمیت مختلف تجاویز کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت اس میں ردو بدل کرنا چاہے تو کر سکتی ہے میری ذاتی تجاویز عدالت کے سامنے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کمشن کے لئے نام طلب کرلئے،چیف جسٹس نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو روسٹرم پر طلب کرکے کہا کہ آپ کے تحریری جواب میں الفاظ کا گورکھ دھندا نظر آتا ہے،بتایا جائے کہ پٹرولیم بحران پر کب کارروائی شروع ہوئی؟چیف جسٹس نے مذکورہ احکامات کے ساتھ کیس کی مزیدسماعت 16 جولائی تک ملتوی کردی۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -