امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کا نوٹس جمع کرادیا، وائٹ ہاؤس کی تصدیق

  امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کا نوٹس جمع کرادیا، وائٹ ہاؤس کی ...

  

واشنگٹن(آئی این پی) امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پردستبردار ہونے کانوٹس جمع کرا دیا ہے،وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ نوٹس سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کوپہنچا دیا گیا ہے دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ڈبلیوایچ اوسے امریکی دستبرداری کے اقدام پرتنقید کرتے ہوئے اسے حمقانہ عمل ہے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کورونا سے نمٹنے کیلیے عالمی جنگ میں تعاون کررہا ہے جب کہ امریکی صدر اس کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے لیے ایک سال پہلے نوٹس دیاجاتا ہے اور امریکہ 6جولائی2021 تک عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیارنہیں کرسکتا۔امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ڈبلیوایچ اوسیامریکی دستبرداری کیاقدام پرتنقید کرتے ہوئے اسے حمقانہ عمل ہے قرار دیا ہے۔پلوسی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کورونا سے نمٹنے کیلیے عالمی جنگ میں تعاون کررہا ہے جب کہ امریکی صدر اس کوشش کو ناکام بنا رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے30مئی2020 کو عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فنڈز ڈبلیو ایچ او کے بجائے عوامی صحت کے منصوبوں پر لگائیں گے فنڈنگ اب دنیا میں صحیح مقصد کے لیے استعمال ہوگی۔ٹرمپ نے الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت چین کے بہت قریب ہے اور چین کا ڈبلیو ایچ او پر مکمل کنٹرول ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کورونا کے پھیلا ؤسے نمٹنے میں غلطی کی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے ڈبلیو ایچ او پر غلط رپوٹنگ کے لیے دبا ڈالا۔ چین دنیا میں موت اور تباہی پھیلانے کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے عالمی وبا پھیلائی۔امریکہ نے اپریل2020 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے فنڈز روک دیے تھے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے غیرتسلی بخش کام کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کیں۔ امریکہ ڈبلیو ایچ او کو سالانہ 4 سو سے 5 سو ملین ڈالر فراہم کرتا ہے جبکہ چین عالمی ادارہ صحت کو صرف 40 ملین ڈالر دے رہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او چین کے زیادہ قریب ہے جس نے اس کو بارڈر کھلے رکھنے کا غلط مشورہ دیا۔

امریکہ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) عالمی ادارہ صحت نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ اس میں بہت کمیاں اور کوتاہیاں ہیں جو اسے اپنے بنیادی مشن کی تکمیل کرنے نہیں دیتیں۔ اس نے کرونا وائرس کی عالمی وباء کے باے میں دنیا کو بروقت آگاہ کرنے اور اس کے مصائب سے بچانے میں بہت کوتاہی دکھائی۔ یہ تبصرہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واشنگٹن کے فارن سنٹر میں موجود غیر ملکی نامہ نگاروں کے ساتھ ایک خصوصی ٹیلی فون کانفرنس کے دوران کیا۔ ان سے سوال کیا گیا تھاکہ امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے رسمی طور پر نکلنے کا اعلان کر رکھا ہے جو آئندہ سال جولائی سے موثر ہوگا اور اس کے بعد امریکہ عالمی صحت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں کیسے پوری کرے گا۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہمارے پاس اس ادارے سے الگ ہونے کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ اس نے ابھی تک چین سے یہ معلوم کر کے باقی دنیا کو نہیں بتایا کہ یہاں کرونا کا پہلا مریض کہاں سے آیا اور اس ملک میں اس وائرس کا آغاز اور پھیلاؤ کیسے ہوا؟ چین نے واضح طور پر عالمی ادارے کے اصولوں پر عمل نہیں کیا لیکن یہ ادارہ اسے باقاعدہ ذمہ دار ٹھہرانے سے قاصر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ماضی میں امریکہ نے اس ادارے کی اصلاح کرنے کیلئے انتہائی کوشش کی اور ایبولا اور سارس جیسے وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے وافر فنڈ فراہم کئے اور بھر پور تعاون کیا لیکن کرونا وائرس کی دفعہ ڈبلیو ایچ او نے مایوس کن کردار ادا کیا جس کی بناء پر امریکہ کو انتہائی اقدام اٹھانا پڑا۔ قبل ازیں اپنے ابتدائی ریمارکس میں اپنی تازہ خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے چین پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے بتایا کہ چین جب افریقہ اور ایشیا کے ترقیاتی پروگراموں میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو وہ اس کے پردے میں بالواسطہ طور پر اپنا سامان اور مہارت بیچتا ہے اور اس کی ان پروگراموں میں شرکت نہ ہی قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے اور نہ ہی شفاف ہوتی ہے۔ وہ سڑکیں تعمیر کرے، پل بنائے یا دیگر انفراسٹرکچر بنائے تمام منصوبوں میں کمیونسٹ پارٹی کے خفیہ مقاصد شامل ہوتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے 23سال قبل ہانگ کانگ سے جو عہد کیا تھا اب وہ اس کے خلاف اس خطے کے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مغربی چین میں ہم ”اس صدی کا داغ“ دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جارہا ہے امریکہ نے ان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کی اور اب وقت آگیا ہے کہ پوری دنیا اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دے۔

پومپیو

مزید :

صفحہ اول -