پکار 15کو موصول 73فیصد کالزپر مقدمات نہ ہوئے کارروائی، رپورٹ

  پکار 15کو موصول 73فیصد کالزپر مقدمات نہ ہوئے کارروائی، رپورٹ

  

  لاہور(کرائم رپورٹر)شہری مدد کے لیے جائیں تو جائیں کہاں، قتل، ڈکیتی قتل، چوری، راہزنی سمیت دیگر سنگین جرائم کے متعلق پکار ون فائیو پر موصول ہونے والی کالزمیں صرف 27فیصد پر مقدمات درج کئے گئے۔73 فیصد کالزپر نہ کوئی مقدمہ نہ کوئی کاروائی۔ شہریوں کوصرف تسلی دے کر کال نمٹا دی گئیں۔تفصیلات کے مطابق کوئی بھی لڑائی جھگڑا۔حادثہ یا کوئی ایمرجنسی ہوتو فوری طورپر شہری پولیس کومدد کے لیے بلاتے ہین جسکے لیے ایمرجنسی لائن ون فائیو پر کال کی جاتی ہے لیکن شہریوں کی کالزپر کوئی عملدرآمدہوتا یا نہیں یہ بات پولیس کے اپنے اعداد وشمار سے واضح ہورہی ہے۔پکار ون فائیو پر صرف سنگین جرائم کی موصول ہونے والی کالز میں دو ماہ کے ڈیٹا کے مطابق لاہورپولیس کی جانب سے 15 پر موصول ہونے والی کالزپر صرف 28 فیصد مقدمات درج کئے گئے جبکہ 72 فیصد شکایات پر ایف آئی آرز درج ہی نہیں ہوئیں۔ شہر کی 6 ڈویثزنز میں سات ہزار 7 سو پچیس افراد نے دوماہ کے دوران 15 پر کال کی اور صرف دوہزار ایک سو 75 شکایات پر مقدمات درج کیے گئے۔ 5 ہزار پانچ سو پچاس شکایات کو بغیر ایف آئی آرکے نمٹا دیا گیا۔شہر کی ڈویژن کی بات کی جائے تودوماہ کے دوران سٹی ڈویثرن میں 1614 کالز پر 471 مقدمات درج کیے گئے۔

،کینٹ ڈویثرن میں 1435 کالز پر 319 مقدمات درج کیے گئے،سول لائنز ڈویثرن میں 714 کالز پر 214 ایف آئی آرز درج کی گئیں، اقبال ٹاؤن ڈویثرن میں 828 کالز پر 317 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ماڈل ٹاؤن ڈویثرن میں 1413 کالز پر 337 مقدمات درج کیے گئے، صدر ڈویثرن میں 1725 کالز پر 510 ایف آئی آرز رجسٹرڈ کی گئیں۔ پولیس افسران کو سب اچھا کی رپورٹ دینے والے زبانی جمع خرچ کی بجائے اعدادوشمار پرتوجہ دے کر شہرمیں کرائم کنٹرول کرنا ہوگا ورنہ شہریوں کا پولیس پر جو تھوڑا بہت اعتمادہے وہ بھی ختم ہوجائے گا۔

مزید :

علاقائی -