سیکرٹریٹ تقسیم، سرائیکی عوام کو لڑانے کی گہری سازش تیار، غلام فرید کوریجہ

  سیکرٹریٹ تقسیم، سرائیکی عوام کو لڑانے کی گہری سازش تیار، غلام فرید کوریجہ

  

ملتان (نیوز رپورٹر) سرائیکستان صوبہ محاذ کے چیئرمین فرزند کوٹ مٹھن شریف خواجہ غلام فرید کوریجہ نے کہا ہے کہ حال ہی میں حکومت نے سول سیکرٹریٹ کو ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ملتان سرائیکی خطے کا ہی نہیں بلکہ پاک و ہند کی قدیم تاریخ کا حصہ ہے جس کی قدیم تاریخی حیثیت کا اٹلی اور ترکی کی حکومتیں (بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

بھی اعتراف کرچکی ہیں ملتان سرائیکی خطے کا قدیمی تہذیبی مرکز ہے جو جغرافیائی لحاظ سے ساہیوال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک اپنی ثقافتی و تہذیبی یکسانیت رکھتا تھا اور سرائیکی تحریک میں مرکزی کردار ادا کرنے پر پنجاب کی وسعت پسند قوتوں نے دانستہ اس میں شامل 23 اضلاع کی بجائے 11 اضلاع تک محدود کرکے ملتان ڈویڑن کو کمزور کیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان آفس میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سرائیکستان صوبہ محاذ کے دیگر رہنماء سردار شریف خان لاشاری، رانا ذیشان نون، محمد بخش براٹھا، روبینہ بخاری، منظور جتوئی، حاجی اعظم سومرو، عبدالنبی جتوئی اور استاد امین گوپال بھی موجود تھے خواجہ غلام فرید کوریجہ نے کہا کہ ساہیوال سمیت دیگر اضلاع کے سول سیکرٹریٹ لاہور سے منسلک کرنے اور سرائیکی خطے میں سیکرٹریٹ کو تین جگہ تقسیم کرکے عوام کے لیئے مزید پریشانی کا سامان کیا جارہا بلکہ انتشار کی بنیاد رکھ دی گئی ہے سرائیکی عوام کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ عملی طور پر ساہیوال، پاکپتن، میانوالی، جھنگ، لیہ، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت تمام اضلاع ملتان کا حصہ بننا چاہتے تھے جو بعض قوتوں کو گوارہ نہ تھا انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطے کے عوام وہ آئینی حق چاہتے ہیں جو بلوچوں، سندھیوں، پشتونوں اور پنجابیوں کو دیا گیا ہے سرائیکی کسی شہر یا علاقے کے مخالف ہرگز نہیں بلکہ اپنے آئینی حقوق اور خطے کے حوالے سے اپنی شناخت چاہتے ہیں جسے ترکی اور اٹلی کے عوام تو تسلیم کرتے ہیں لیکن پنجاب کی وسعت پسند قوتوں کو تسلیم نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سالمیت کے لیئے اقلیتوں کا تحفظ بے حد ضروری ہے سرائیکی وسیب میں رہنے والے بالخصوص چولستان میں صدیوں سے آباد ہندووں کو بھی چولستان کی زمینوں میں مساوی حق دیا جائے اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ بھی آئین پاکستان کا تقاضہ ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیئے تنظیم پونم کو پھر سے فعال کریں گے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سرائیکستان کی آواز مقتدر حلقوں تک پہنچانے کے لیئے پارلیمان تک رسائی ضروری ہے سرائیکستان صوبہ محاذ مستقبل میں اس بارے لائحہ عمل تشکیل دے رہی ہے۔

غلام فرید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -