کوٹ ادو: پروفیسر سلمان الوحیدپرقاتلانہ حملہ، نشتر میں حالت نازک

  کوٹ ادو: پروفیسر سلمان الوحیدپرقاتلانہ حملہ، نشتر میں حالت نازک

  

مظفرگڑھ، چوک سرور شہید، کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر،نامہ نگار،نمائندہ پاکستان)کوٹ ادو گورنمنٹ ڈگری کالج بوائز چوک سرور شہید کے پروفیسر سلمان الوحید پر قاتلانہ حملہ کیاگیا، شدید زخمی تشویشناک حالت میں ملتان نشتر منتقل کردیاگیا ہے، تفصیل کے مطابق تھانہ (بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

چوک سرور شہید کے علاقہ چک نمبر 568ٹی ڈی اے میں گزشتہ شب 10بجے محکمہ تعلیم کے پروفیسر سلطان الوحید آرائیں کو موبائل نمبر 03077512015سے ملتان کے رہائشی قاسم علی پٹھان نے کال کی کہ وہ آپ کے سٹوڈنٹ ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں جس پر پروفیسر نے اسے گھر ملنے کے لیے بلالیا، رات 10 بجے قاسم علی پروفیسر کے گھر آیا جسے پروفیسر نے اپنی بیٹھک میں بٹھا دیا، باتوں باتوں میں پٹھان اپنی پینٹ سے چھری نکال لی اور پروفیسر سلیمان الوحید پر حملہ آور ہو کر اسے شدید زخمی کرکے چھری لہراتا ہوا فرار ہوگیا، شدید زخمی حالت میں پروفیسرکوفوری طبعی امداد کیلئے ہسپتال داخل کرا دیا گیاتاہم تشویش ناک حالت کے باعث انہیں نشتر ہسپتال ملتان منتقل کردیا گیا،وجہ عناد یہ بتائی گئی ہے کہ قاسم علی پٹھان پروفیسر سلطان الوحید کی سابقہ منکوحہ سے شادی کرنا چاہتا تھا جس کی دونوں میں تو تکرار ہوئی تھی جبکہ ذرائع کے مطابق موبائل فون پر میسج کیوجہ سے حملہ کیا گیا،پولیس چوک سرور شہید نے پروفیسر سلیمان الوحید کی مدعیت میں قاسم پٹھان کے خلاف مقدمہ نمبر 271/20زیر دفعہ 452درج کرکے قاسم پٹھان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

حملہ

جتوئی (نمائندہ پاکستان) میرہزارخان پولیس کی طرف سے 80 سالہ بزرگ کے خلاف 1340 گرام چرس کی برآمدگی کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ڈی پی او ضلع مظفر گڑھ کی میرہزار تھانے پہنچے اور ایس ایچ او، تفتیشی آفیسر اور کانسٹیبل کے خلاف مقدمے کے اندراج،(بقیہ نمبر8صفحہ6پر)

مبینہ منشیات فروش بزرگ کی رہائی کے بعد معاملہ مذید الجھ گیا ہے بعض مقامی سیاستدان ڈی پی او کے اقدام کا کریڈٹ لینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جب کہ تھانے میں سیای مداخلت کے اضافہ کے پیش نظر تاحال کوئی دوسرا پولیس آفیسر تھانے کاچارج سنبھالنے پر تیار دکھائی نہیں دے رہاگرفتار سابق ایس ایچ او سلیم اقبال قیصرانی کانسٹیبل فیض رسول کو 21 جولائی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے مفرور اے ایس آئی عبدالغفور نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلیے ملتان ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے سیاستدانوں کی باہمی مفاداتی جنگ کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے دوسری سوچ یہ ہے کہ منتخب نمائندوں کی باہمی لڑائی نے پولیس افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیامیرہزار تھانہ پہلے ہی سیاسی مداخلت کے حوالے سے ضلع مظفر گڑھ کے بدنام تھانوں میں سر فہرست ہے۔ رہی سہی کسر منشیات فروشی کے حالیہ مقدمہ کی تفتیش اور حقائق سامنے آنے پر پوی ہو جائیگی۔ ذرائع کے مطابق مقدمات نمبری 136 اور 137 سے متعلق حقائق سے آگاہی اور اس کے مطابق قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلیے وزیراعلی پنجاب نے آر پی او ڈیرہ غازی خان کومقدمہ نمبر 136 اور مقدمہ نمبر 137 کیلیے انکوائری آفیسر مقرر کرکے رپورٹ طلب کرلی ہے سوشل میڈیا پر اب بھی بزرگ کی گرفتاری کا ایشو زیربحث ہے اور مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں مختلف لوگ ڈی پی او ضلع مظفرگڑھ کے اقدام کو جلد بازی پر مبنی قرار دے ہے ہیں بعض حلقے کانسٹیبل فیض رسول کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹ شائع کر رہے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنے افسران بالا کے حکم کے تحت کیاانہیں ملازمت پر بحال کر دیا جانا چاہییذرائع کا دعوی ہے کہ خفیہ مگر غیر جانبدار اعلی سطحی تحقیقات کے ذریعے دونوں مقدمات میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکتا ہے ادم تحریر میرہزار تھانے میں کسی نے یس ایچ او کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -