ہسپتال کے قیام کے تدریسی ہسپتالوں پر کورونا مریضوں کا دباؤ کم ہوجائیگا: محمودخان

ہسپتال کے قیام کے تدریسی ہسپتالوں پر کورونا مریضوں کا دباؤ کم ہوجائیگا: ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعرات کے روز پشاور میں کورونا مریضوں کے علاج معالجے کے لئے اپنی نوعیت کے پہلے اور منفرد ہسپتال کا افتتاح کردیا۔ اس ہسپتال میں وینٹیلیٹرز، مانیٹرز، آکسیجن، اے بی جی مشینوں اور انفیوژن پمپس سمیت کورونا کے نازک مریضوں کے لئے علاج معالجے کے ہر قسم کی آلات اور سہولیات دستیاب ہے۔ یہ ایک ماڈل ہسپتال ہے جو بین الاقوامی ایس او پیز اور گائیڈ لائنز کے مطابق قائم کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ہسپتال 58بستروں پر مشتمل ہیں، ایک مہینے بعد اس ہسپتال کی استعداد کو 110بستروں تک بڑھا دیا جائیگا۔ ہسپتال 37آئسولیشن، 16 ہائی ڈیپنڈنسی اور 5 آئی سی یو بیڈزپر مشتمل ہیں۔ افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ محمود خان نے اس ہسپتال کے قیام کو کورونا مریضوں کے علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں کی استعداد کارکو بڑھانے کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی ایک اہم کامیابی اور ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ہسپتال کے قیام سے نہ صرف صوبے کے تدریسی ہسپتالوں پر کورونا مریضوں کا دباؤ کم ہو جائیگابلکہ کورونا کے نازک مریضوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات بھی میسر ہوگی۔ کورونا مریضوں کے علاج معالجے کے لئے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے حکومتی اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ابتداء میں کورونا کے حوالے سے ہمارے ہسپتالوں کی استعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن ہم نے دن رات کوششیں کرکے قلیل عرصے میں ان ہسپتالوں کی استعداد کو خاطر خواہ حد تک بڑھا دیا ہے اور مزید بڑھانے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت مرحلہ وار اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت کورونا کے اس چیلنج کو صوبے کے ہسپتالوں کی استعداد کو بڑھانے کے لئے ایک اچھے موقع میں بدلنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد چالیس ٹیسٹس یومیہ تھی جسے اب چار ہزار تک بڑھا دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں 210بستروں پر مشتمل ایک اور ہسپتال کے قیام پر کام کر رہی ہے اور عنقریب یہ ہسپتال کورونا مریضوں کے لئے کھول دیا جائیگا۔ کورونا وبا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش اور امتحان قرار دیتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ ہم اس سے لڑ نہیں سکتے لیکن اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے لوگوں کو محفوظ بنانے کیلئے کوششیں کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری عالمی دنیا کے لئے ایک چیلنج ہے جس نے بڑی بڑی طاقتوں کو بھی مشکل سے دوچار کیاہے۔ کورونا وبا سے مؤثر انداز سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر قائم نیشنل کورآرڈینیشن کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی مدبرانہ قیادت میں یہ فورم وفاق کی تمام اکائیوں کی اتفاق رائے سے ایک مؤثر لائحہ عمل کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں اہم کردار اد ا کر رہے ہیں جس کی بدولت ملک میں کورونا وبا کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکنے میں بڑی حد تک کامیابی ملی ہے۔ محمود خان نے کہا کہ حکومت بیک وقت دو مختلف محاذوں پر اقدامات کر رہی ہے ایک طرف کورونا وبا کے پھیلاؤ کوروکنے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں تو دوسری طرف لوگوں کو بھوک اور افلاس سے بچانے کے لئے بھی اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس سلسلے میں جو بھی اقدامات اٹھا رہی ہے وہ عوام کی بھلائی اور فائدے کے لئے اٹھا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ وزیراعلیٰ نے اس ہسپتال کے قیام کے سلسلے میں تعاون فراہم کرنے پر صوبائی حکومت کی طرف سے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، ایم ای آر ایف اور دیگر پارٹنر اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ محمود خان نے صوبے کے ہسپتالوں کی استعداد کو بڑھانے کے لئے دن رات کام کرنے پر صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور اس کی پوری ٹیم جبکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے کے سلسلے میں مشیر اطلاعات اجمل وزیر اور اس کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعرات کے روز چکدرہ کا مختصر دورہ کیا اور وہاں پر سوات موٹروے کے ملک احمد بابا الہ ڈنڈھ ڈھیری (چکدرہ)انٹرچینج کا باقاعدہ افتتاح کیا۔مذکور انٹر چینج پر تعمیراتی کام حال ہی میں مکمل کیا گیا ہے اور اسے ٹریفک کیلئے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو سوات موٹروے فیز ون کی تکمیل اوراسے ٹریفک کیلئے باقاعدہ طور پر کھولنے کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت پر بریفینگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ سوات موٹروے فیز ون کی تکمیل پر کام آخری مراحل میں ہے اور اس سال ستمبر کے آخر تک فیزون کو ٹریفک کیلئے باقاعدہ طور پر کھول دیا جائے گا۔ فر انٹیر ورکس آرگنائزیشن، پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی، محکمہ مواصلات و تعمیرات اورمتعلقہ ڈویژنل انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ کو سوات موٹروے فیزٹو پر کام شروع کرنے کے سلسلے میں بھی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سوات موٹروے کو پورے ملاکنڈ ڈویژن کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پورے خطے میں سیاحتی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گابلکہ علاقے کے لوگوں کو آمد ورفت کی معیاری سہولیات بھی فراہم ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو سوات موٹروے فیز ٹو پر کام شروع کرنے کیلئے پیشگی لوازمات کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے سوات موٹروے فیز ون کی تکمیل پر پیشرفت کا فضائی جائزہ لیا۔

مزید :

صفحہ اول -