بزرگ کیخلاف منشیات فروشی کامقدمہ، سوشل میڈیا پر بحث شروع

بزرگ کیخلاف منشیات فروشی کامقدمہ، سوشل میڈیا پر بحث شروع

  

جتوئی (نمائندہ پاکستان) میرہزارخان پولیس کی طرف سے 80 سالہ بزرگ کے خلاف 1340 گرام چرس کی برآمدگی کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ڈی پی او ضلع مظفر گڑھ کی میرہزار تھانے پہنچے اور ایس ایچ او، تفتیشی آفیسر اور کانسٹیبل کے خلاف مقدمے کے اندراج،(بقیہ نمبر8صفحہ6پر)

مبینہ منشیات فروش بزرگ کی رہائی کے بعد معاملہ مذید الجھ گیا ہے بعض مقامی سیاستدان ڈی پی او کے اقدام کا کریڈٹ لینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جب کہ تھانے میں سیای مداخلت کے اضافہ کے پیش نظر تاحال کوئی دوسرا پولیس آفیسر تھانے کاچارج سنبھالنے پر تیار دکھائی نہیں دے رہاگرفتار سابق ایس ایچ او سلیم اقبال قیصرانی کانسٹیبل فیض رسول کو 21 جولائی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے مفرور اے ایس آئی عبدالغفور نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلیے ملتان ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے سیاستدانوں کی باہمی مفاداتی جنگ کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے دوسری سوچ یہ ہے کہ منتخب نمائندوں کی باہمی لڑائی نے پولیس افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیامیرہزار تھانہ پہلے ہی سیاسی مداخلت کے حوالے سے ضلع مظفر گڑھ کے بدنام تھانوں میں سر فہرست ہے۔ رہی سہی کسر منشیات فروشی کے حالیہ مقدمہ کی تفتیش اور حقائق سامنے آنے پر پوی ہو جائیگی۔ ذرائع کے مطابق مقدمات نمبری 136 اور 137 سے متعلق حقائق سے آگاہی اور اس کے مطابق قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلیے وزیراعلی پنجاب نے آر پی او ڈیرہ غازی خان کومقدمہ نمبر 136 اور مقدمہ نمبر 137 کیلیے انکوائری آفیسر مقرر کرکے رپورٹ طلب کرلی ہے سوشل میڈیا پر اب بھی بزرگ کی گرفتاری کا ایشو زیربحث ہے اور مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں مختلف لوگ ڈی پی او ضلع مظفرگڑھ کے اقدام کو جلد بازی پر مبنی قرار دے ہے ہیں بعض حلقے کانسٹیبل فیض رسول کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹ شائع کر رہے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنے افسران بالا کے حکم کے تحت کیاانہیں ملازمت پر بحال کر دیا جانا چاہییذرائع کا دعوی ہے کہ خفیہ مگر غیر جانبدار اعلی سطحی تحقیقات کے ذریعے دونوں مقدمات میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکتا ہے ادم تحریر میرہزار تھانے میں کسی نے یس ایچ او کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -