پاکستانی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان کس چیز نے پہنچایا؟معروف بزنس مین میاں زاہد حسین نے پریشان کن دعویٰ کردیا 

پاکستانی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان کس چیز نے پہنچایا؟معروف بزنس مین میاں ...
پاکستانی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان کس چیز نے پہنچایا؟معروف بزنس مین میاں زاہد حسین نے پریشان کن دعویٰ کردیا 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے حکومت کی جانب سے خسارے پر قابو پانے اور آمدنی بڑھانے کی کوششوں میں ضرورت سے زیادہ سرگرمیوں نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے،کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے دنیا بھر میں معیشت کو بٹھا دیا ہے مگر یہاں ٹیکس کے ناقابل حصول اہداف مقرر کئے جا رہے ہیں جس سے فائدے کے بجائے مزید نقصان ہو گا۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت خطے کے درجنوں ممالک کو بھی کئی دہائیوں سے خسارے کا سامنا ہے مگر انکی حکومتیں ہنگامی و انقلابی اورمتنا زع اقدامات کے ذریعے معیشت کو تلپٹ کرنے کے بجائے اس کا مناسب انتظام کر رہی ہیں اور ان ملکوں کی ترقی انکی کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ہم گزشتہ32 سالوں میں ادائیگیوں کو متوازن رکھنے اور دیوالیہ پن سے بچنے کے لئے 13 بارآئی ایم ایف سے قرضہ لے چکے ہیں جبکہ اسی دوران سری لنکا نے چھ بار، بنگلہ دیش نے چار بار اور بھارت نے صرف ایک بار قرضہ لیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک کی اکنامک مینجمنٹ پاکستان سے بدرجہا بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی 1990 سے کرنٹ اکاؤنٹ کے بدترین خسارے کا شکار ہیں مگر ان مسائل نے انکے اوسان خطا نہیں کئے،گزشتہ 20سالوں میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے اپنے بنیادی خسارے اور قرضوں کا بہتر استعمال کیا جس نے بھارت،بنگلہ دیش کو اکنامک ہاؤس اور سری لنکا کو سماجی ترقی کی روشن مثال بنا ڈالا جبکہ ہماری معیشت دلدل میں ڈوبتی چلی گئی۔انھوں نے کہا کہ حکومت خسارے سے پریشان نہ ہو اور ٹیکس کے اہداف کم کرتے ہوئے مقامی سرمایہ کاروں کو بہتر ماحول فراہم کرے تو کاروباری برادری ملک کو مسائل سے نکال لے گی اورترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے گی۔

مزید :

بزنس -