برطانوی حکومت نے پابندیاں لگانے کے بعد سعودی عہدیداران سے خفیہ طورپر معافی مانگ لی ، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

برطانوی حکومت نے پابندیاں لگانے کے بعد سعودی عہدیداران سے خفیہ طورپر معافی ...
برطانوی حکومت نے پابندیاں لگانے کے بعد سعودی عہدیداران سے خفیہ طورپر معافی مانگ لی ، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں برطانوی حکومت کی طرف سے کئی عالمی شخصیات پر پابندیاں عائد کی گئیں جن میں دیڑھ درجن سے زائد سعودی حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے۔ اب اس حوالے سے ایک اور تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق سعودی میڈیا کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان سعودی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد اگلے ہی روز برطانوی حکومت نے سعودی حکومت سے فون کرکے معافی مانگ لی تھی۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی سمیت سعودی میڈیا اپنی رپورٹس میں بتایا رہا ہے کہ سعودی عہدیداروں پر پابندی عائد کرنے کے اگلے روز برطانوی وزیردفاع بین ویلیس نے اپنے سعودی ہم منصب سے فون پر رابطہ کیا اور اس پابندی پر معافی مانگتے ہوئے سعودی حکومت کے کام کی تعریف کی۔ اس ٹیلیفونک گفتگو میں بین ویلیس نے سعودی ہم منصب کو سعودی حکومت اور اس کے کام کے متعلق برطانوی حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایااور کہا کہ سعودی حکومت بہت اچھا کام کررہی ہے۔ واضح رہے کہ جن سعودی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پابندیوں کی زد میں آنے والے سعودی عہدیداروں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے مبینہ طور پر ترکی میں واقع سعودی سفارتخانے میں صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا تھا۔

مزید :

برطانیہ -