چوہدری شجاعت آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی پر مجبور نہ کریں، جمعیت علمائے اسلام ف بھی میدان میں آگئی

چوہدری شجاعت آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی پر مجبور نہ کریں، جمعیت علمائے ...
چوہدری شجاعت آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی پر مجبور نہ کریں، جمعیت علمائے اسلام ف بھی میدان میں آگئی

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائےاسلام ف کےمرکزی ترجمان حافظ حسین احمد نےکہاہےکہ چوہدری برداران ہماری امانت کے متعلق آدھی بات کرکے ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم پوری بات کے لیے لب کشائی کریں، آزادی مارچ کے مذاکرات کے حوالے سے جو امانت چوہدری برادران کے پاس ہے وہ اس سے قوم کو آگاہ کریں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے چوہدری شجاعت کے آزادی مارچ کے متعلق بیان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت کہہ رہے ہیں کہ ہم آزادی مارچ والوں کے درمیان اس لیے آئے تھے کیوں کہ کچھ لوگ آزادی مارچ والوں پر طاقت کا استعمال کرنا چاہتے تھے جس پرچوہدری پرویز الہی نے عمران خان کوایسا کرنے سے روکا '' حافظ حسین احمد نے کہا کہ چوہدری شجاعت نے سچ کا ایک حصہ بتایا ہے وہ آدھی بات کرنے کے بجائے پورا سچ بتائیں اور جو امانت ان کے پاس ہے اس کے متعلق پوری قوم کو آگاہ کریں، آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عمران خان کا ریمورٹ کنٹرول چوہدری برادران نہیں بلکہ کوئی اور ہے، چوہدری برادران کو جنہوں نے ہمارے پاس بھیجا اور انہوں نے چوہدری برادران سے کہا کہ عمران خان بات کریں تویہ اور بات ہے لیکن اس کی ضرورت نہیں پڑنی چاہئے تھی کیوں کہ نکے کو خود ہی وہ آرڈر کردیتے ہیں انہیں کسی اور کی ضرورت نہیں پڑتی۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کو جنہوں نے آزادی مارچ کے وقت بات چیت کے لیے بھیجا تھا اور جو کچھ طے ہوا تھا چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی نےکہہ دیاتھا کہ جو کچھ طےہواہے وہ ہمارے پاس امانت ہے تواب اس امانت کے حوالے سے قوم کو آگاہ کیا جائے کہ اب اس کی کیا پوزیشن ہے ؟کیوںکہ ان کی اپنی امانتیں جو حکومت کے ساتھ طے تھیں وہ بھی خطرے میں نظر آرہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس لیے اس امانت کے متعلق بات نہیں کرسکتے کیوںکہ ہمیں منع کیا گیا ہے اگرہمیں مجبور کیا گیا اور پارٹی نے اجازت دی تو جو اصل بات ہے وہ کہنا ہی پڑے گی لیکن اس کے باوجود جو سیاسی سمجھ بوجھ والے لوگ ہیں یقینا انہیں اصل امانت کے متعلق جو بات ہے ،سمجھ آچکی ہے اب اس کا کوئی اقرار کرے یا نہ کرے لیکن آدھی بات کرکے ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی کبھی لب کشائی کرسکیں۔

جے یو آئی کےترجمان نے کہا کہ چوہدری برادران کو جن لوگوں نے مذاکرات کے لیے بھیجا تھا وہ عمران خان نہیں بلکہ ''وہ'' تھے کیوں کہ عمران خان نے تو پرویز خٹک اورسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر کو مذاکرات کے لیے نامزد کیا تھا یقینا چوہدری برادران کو بھیجنے والےعمران خان نہیں بلکہ''وہ''تھے،چوہدری برادران سےمذاکرات کے بعد ہی اپوزیشن کے جو رہنما پہلے ہی نیم دلی کے ساتھ ہمارے ساتھ چلنے کی بات کررہے تھے اُنہوں نے بھی اس بات کو سامنے رکھ کر ہم سے فاصلے رکھے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -