خواجہ آصف کومذہب پر بات کرنے سے پہلے مذہب کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔۔۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر نے سابق وزیر خارجہ کو کھری کھری سنا دیں

خواجہ آصف کومذہب پر بات کرنے سے پہلے مذہب کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔۔۔مسلم لیگ ...
خواجہ آصف کومذہب پر بات کرنے سے پہلے مذہب کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔۔۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر نے سابق وزیر خارجہ کو کھری کھری سنا دیں

  

سیالکوٹ(ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کومذہب پر بات کرنے سے پہلے مذہب کا مطالعہ کرلینا چاہیے،دین اسلام کامل دین ہے اور دیگر مذاہب پر فوقیت رکھتا ہے،حیران ہوں کہ بڑی سیاسی جماعتیں مندر کے حق میں ایسے دلائل دے رہی ہیں کہ جیسے اسلام آباد کے مندر میں ان کی جان ہو،مندر کی حامی جماعتیں چندہ کرکے پہلے سید پور والے مندکی تعمیر ومرمت کرادیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، سوا سو ہندوؤں کے لیے نئے مندر کی تعمیر کا کوئی قانونی،دینی اور اخلاقی جواز نہیں،پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو بھارت سے زیادہ تحفظ اور آزادی حاصل ہے،ہندو،سکھ،عیسائی اور دیگر اقلیتیں پاکستان میں اپنی عبادت گاہوں میں مکمل آزاداور محفوظ ہیں۔

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت کے سربراہ اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں،دین اسلام اپنی جامعیت اور تعلیمات کے کامل ہونے کی بنا پر دیگر مذاہبِ عالم پر فوقیت رکھتا ہے، یہ دوسرے تمام مذاہب سے ممتاز ہے، بنی نوع انسان کی نجات اور کامیابی دین اسلام میں ہی ہے۔اسلام ایک ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے،دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں سے اکثر کسی مخصوص شخصیت یا خاص علاقے کی طرف منسوب ہیں، اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اس کا نام کسی شخصیت یا علاقے کی مناسبت سے نہیں رکھا گیا، بلکہ اس کے نام میں ایک پیغام دیا گیا ہے کہ جو فرد بھی اس دین کو قبول کرے گا وہ امن اور سلامتی میں آجائے گا۔

علامہ ساجد میر نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سوائے اسلام کے کوئی مذہب انسانی فطرت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا، عیسائیت اور یہودیت الہامی مذاہب ہونے کے باوجود تحریف اور تبدّل کی بنا پر اپنی حیثیت کھو چکے ہیں، اس لیے اسلام کے سوا کوئی مذہب بھی صحیح رہنمائی کرنے سے عاجز ہے،غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب ﷺ اور عہد خلفاے راشدینؓ میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی،حضور ﷺ نے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -سیالکوٹ -