برطانیہ میں قرنطینہ سے بچنے کیلئے جنوبی افریقہ کے جوڑے کی ایسی حرکت کہ ہنسی روکنا مشکل ہوجائے

برطانیہ میں قرنطینہ سے بچنے کیلئے جنوبی افریقہ کے جوڑے کی ایسی حرکت کہ ہنسی ...
برطانیہ میں قرنطینہ سے بچنے کیلئے جنوبی افریقہ کے جوڑے کی ایسی حرکت کہ ہنسی روکنا مشکل ہوجائے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بیرون ممالک سے برطانیہ جانے والوں کے لیے حکومت کے مخصوص کردہ ہوٹلوں میں قرنطینہ کی مدت گزارنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس پابندی سے بچنے کے لیے جنوبی افریقہ سے برطانیہ آنے والے ایک جوڑے نے کیا حرکت کی اور اس کا انجام کیا ہوا؟ سن کر آپ کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا۔ 

دی مرر کے مطابق اس میاں بیوی کا نام آئیوان اور جینی ہکنگز ہے۔ دونوں برطانوی شہری ہیں اور سٹریٹلی کے علاقے میں رہتے ہیں۔ تاہم جنوبی افریقہ ان کا دوسرا گھر ہے اور اکثر وہاں بھی جاتے رہتے ہیں۔ وہ دونوں گزشتہ دنوں واپس لندن آئے مگر سیدھا فلائٹ پکڑ کر لندن پہنچنے کی بجائے انہوں نے 6ہزار پاﺅنڈ کی رقم خرچ کر ڈالی اور 7ممالک کا سفر کرتے ہوئے جنوبی افریقہ سے برطانیہ پہنچے۔ ان کے اس جتن کا مقصد یہ تھا کہ وہ برطانیہ پہنچ کر الگ الگ قرنطینہ کی مدت نہیں گزارنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کئی دن کے اس سفر میں ہوٹلوں میں قیام کیا اور پبلک پرانسپورٹ اور ٹیکسیوں میں سفر کیا۔ کئی جگہوں پر انہیں فضائی سفر بھی کرنا پڑا۔راستے میں کئی بار انہیں کورونا کے ٹیسٹ بھی کرانے پڑے اور بالآخر جب وہ برطانیہ پہنچے اور ان کے دوبارہ ٹیسٹ ہوئے تو ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی اور انہیں وہی قرنطینہ کی مدت گزارنی پڑ گئی، جس سے بچنے کے لیے وہ اتنے پاپڑ بیل کر آئے تھے اور ایسے ملک سے آ کر برطانیہ داخل ہوئے تھے، جس کے شہریوں کے لیے قرنطینہ کی مدت لازمی نہیں ہے۔

اپنے اس سفر کے دوران 56سالہ آئیوان کا کہنا تھا کہ ”قرنطینہ کے قوانین سفاکانہ ہیں۔ ہمارے آباءنے آزادی کے لیے لڑائیاں لڑی تھیں اور ہمیں اس بیماری کی وجہ سے قید ہونا پڑ رہا ہے۔ہم قید نہیں ہونا چاہتے۔“تاہم آئیوان نہیں جانتے تھے کہ برطانیہ پہنچنے پر انہیں صحت مندی کی بجائے اس بیماری میں مبتلا ہو کر قرنطینہ کی مدت گزارنی پڑ جائے گی۔ اگر وہ براہ راست پرواز کے ذریعے برطانیہ پہنچتے اور صحت مندی کے ساتھ قرنطینہ کی مدت گزار لیتے تو شاید اس وائرس سے بچ جاتے۔

مزید :

برطانیہ -