ہم گیری شہر کے چیمپئن بن چکے تھے اور شکاگو ہماری اگلی منزل تھی کیونکہ اس شہر میں مواقع کی کمی نہیں 

ہم گیری شہر کے چیمپئن بن چکے تھے اور شکاگو ہماری اگلی منزل تھی کیونکہ اس شہر ...
ہم گیری شہر کے چیمپئن بن چکے تھے اور شکاگو ہماری اگلی منزل تھی کیونکہ اس شہر میں مواقع کی کمی نہیں 

  

مترجم:علی عباس

قسط: 11

ہم نے شہری سطح پر ہونے والے ٹیلنٹ شو میں 8 برس کی عمر میں جذبات اُبھارنے والے اپنے گیت "My Girl"کے ذریعے کامیابی حاصل کی تھی۔یہ شو روزویلٹ ہائی سکول میں منعقد ہوا تھا۔ جرمین نے ڈرم اور بعد ازاں ٹیٹو نے گٹار کے سُر چھیڑے تھے، ہم پانچوں نے کورس میں گیت گایا تھا۔ لوگوں نے پورے گیت کے دوران جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا۔ جرمین اور میں گیت کے بول گا رہے تھے، مارلن اور جیکی لَٹو کی طرح ناچ رہے تھے۔ ہمارے لئے یہ ٹرافی ایک دوسرے کو پکڑانا فرحت انگیز احساس تھا۔ یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی تھی۔ چند ساعتوں بعد ٹرافی گاڑی کی اگلی نشست پر چھوٹے بچے کی طرح اُچھل رہی تھی اور ہمیں باپ نے گھر واپس جاتے ہوئے کہا تھا کہ ”جیسا تم نے آج کیا، اگر دوبارہ کیا تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ یہ ٹرافی تمہیں نہ دیں۔“

ہم گیری شہر کے چیمپئن بن چکے تھے اور شکاگو ہماری اگلی منزل تھی کیونکہ اس شہر میں مواقع کی کمی نہیں ہے اور شہرت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ اپنا لائحہ عمل تیار کرنا شروع کیا۔ میرے باپ کا بینڈ شکاگو کے خاص طرزِ موسیقی کے تحت تخلیق کئے گئے گیت "Muddy Waters"اور "Howlin"گا چکا تھا لیکن وہ اس قدر روشن خیال ضرور تھا کہ اس حقیقت کا ادراک کر سکتا کہ ہم بچوں کو پُرکشش محسوس ہونے والے اُونچے سُروںکے ان مشکل گیتوں کو گانے کے لئے زیادہ محنت درکار ہوگی۔ ہم خوش نصیب تھے کہ عموماً اُن کی عمر کے لوگ نئے رجحانات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ حقیقت ہے۔ ہم جانتے تھے کہ موسیقار یہ سوچتے ہیں کہ 60 کی دہائی کے گیت بے مِثل ہیں لیکن ہمارا باپ ایسا نہیں تھا۔ وہ عظیم گلوکاری کو سُن کر اس کا ادراک کر لیا کرتا تھا۔ حتیٰ کہ وہ ہمیں گیری کے ڈو ووپ بینڈ”دی سپینئلز“ کے بارے میں بتاتا جنہیں اُس نے اُس وقت دیکھا تھا جب وہ تقریباً ہمارے جتنی عمر میں ہی شہرت کی بلندیوں کو چھُو رہے تھے۔ جب "Miracles"بینڈ کے سموکی رابنسن نے "Tracks of My Tears"اور "Ooo, Baby Baby" جیسے گیت گائے تو اُسے یہ سننا ہمارے جتنا مشکل ہی لگا۔

60 کی دہائی کے اثرات شکاگو کی موسیقی پر محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ بے مثل گلوکار کرٹس مے فیلڈ، جیری بٹلر، میجر لانس اور ٹائرون ڈیوس اُن جگہوں پر سُنے جاتے تھے جہاں ہم اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ اس ایک نکتے پر ہمارا باپ ہمیں منظم کر رہا تھا۔ وہ سٹیل مل میں جُزو وقتی ملازمت کر رہا تھا۔ ماں کو اس فیصلے پر کچھ تحفظات تھے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ شکوک کا شکار تھی کہ ہم بہتر نہیں ہیں بلکہ وہ کسی ایسے شخص کے بارے میں نہیں جانتی تھی جو وقت کا بیش تر حصہ اپنے بچوں کو موسیقی کی دنیا کا حصہ بنانے کے لئے صرف کر رہا ہو۔ حتیٰ کہ وہ اُس وقت بھی پُرجوش نہیں ہوئی تھی جب باپ نے اُسے بتایا تھا کہ اُس نے ہماری گیری کے ایک نائٹ کلب" Mr. Lucky's" میں مستقل بنیادوں پر پرفارمنس دینے کے بارے میں بات کر لی ہے۔ ہم پر دباﺅ ڈالا جاتا کہ ہم ہفتے کا آخری روز شکاگو اور دوسری جگہوں پر گزاریں اور زیادہ سے زیادہ ٹیلنٹ شوز میں کامیابی حاصل کریں، یہ دورے مہنگے ہوتے تھے، چنانچہ ہم "Mr. Lucky's"پر ملازمت کے ذریعے اسے ممکن بناتے تھے۔ ماں ہمیں حاصل ہونے والی پذیرائی اور ایوارڈ زپر حیران اور خوش تھی لیکن وہ ہمارے لئے بہت زیادہ پریشان تھی، اُس نے باپ کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے کہا تھا:”یہ 9سالہ بچے کے لئے ایک مثالی زندگی ہے۔“

میں نہیں جانتا کہ میں اور میرے بھائی کیا توقع کر رہے تھے لیکن نائٹ کلب میں آنے والے لوگ روزویلٹ سکول کی تقریب کے شرکاءسے یکسر مختلف تھے۔ ہم بیہودہ مزاحیہ فنکاروں، کاک ٹیل بنانے والے منتظمین اور برہنہ ناچنے والی ڈانسرز کے مابین پرفارمنس دے رہے تھے۔ جوں جوں میرا مشاہدہ بڑھتا گیا، ماں کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔ اُس کا خیال تھا کہ میں غلط لوگوں کے درمیان جا رہا ہوں اور اُن چیزوں سے متعارف ہو رہا ہوں جن کا ادراک مجھے عمر کے اس حصے میں نہیں ہونا چاہئے۔ اُسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی: ان برہنہ ڈانسرز پر ایک نگاہ غلط مجھے ان بدنما سرگرمیوں میں نہیں دھکیل سکتی تھی۔ خاص طور پر 9 برس کی عمر میں ایسا ممکن نہیں تھا۔ یہ زندگی گزارنے کا ایک تکلیف دہ طریقہ ہے اور اس اَمر نے ہمیں سٹیج پر زیادہ سے زیادہ پرفارمنس دینے کی تحریک دی اور اُس زندگی سے دور دھکیلا جس کا ہم ایک حصہ بن سکتے تھے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -