مجھے لگا کہ ہم شمشال میں پھنس گئے ہیں،واپسی تک رات پہا ڑوں سے نیچے اترنا شروع ہو چکی تھی

مجھے لگا کہ ہم شمشال میں پھنس گئے ہیں،واپسی تک رات پہا ڑوں سے نیچے اترنا شروع ...
مجھے لگا کہ ہم شمشال میں پھنس گئے ہیں،واپسی تک رات پہا ڑوں سے نیچے اترنا شروع ہو چکی تھی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:124

جیپ اب وا ضح نظر آنے لگی تھی۔ وہ ذرا بلندی پر کسی گیراج میں کھڑی تھی۔ میں اسی سمت میںچلتا رہا۔ایک جگہ 2 مقامی آدمی ملے تو میں نے ان سے اس جیپ کی با بت پو چھا۔ انہوں نے بتا یا کہ وہ کسی کی ذاتی جیپ ہے اور اس کا مالک 1ماہ سے راول پنڈی گیا ہوا ہے۔۔۔ مجھے لگا کہ ہم شمشال میں پھنس گئے ہیں۔

میری واپسی تک رات پہا ڑوں سے نیچے اترنا شروع ہو چکی تھی۔ میں کرسی لے کر باہر تھڑے پر سب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ سِلوا بھی بار بار آ کر واپسی کا پو چھ رہاتھا۔ مجھے دیکھ کر وہ پھر آگیا۔ میں نے کندھے اُچکا کر انکار میں سر ہلایا تو اس نے ٹو ٹی پھو ٹی انگریزی میں گزارش کی کہ اگر کوئی بند و بست ہو جائے تو ہم اسے بھی ساتھ لے لیں۔

فہد اور اس کاکزن داد مرگ والے گھر سے لو ٹے تو انہوں نے غسل خا نوں میں پا نی بھرا۔ بلا ل کو ان کے ساتھ باورچی خانے میں بھیجا گیا سب چاہتے تھے کہ دال ماش بلا ل بنائے تا کہ مانوس ذائقے والا کھانا پک سکے۔ اتنے دن سے نامانوس ذائقے والا کھانا کھا کھا کر طبیعت اوب سی گئی تھی۔بلا ل کے جانے کے بعد ہم پھر کمرے میں آکر با تیں کرنے لگے۔ اس وقت دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو ہ پیماؤں والے سا نحے کی خبریں نشر کر رہے تھے اور ہم اس عالم ِاندوہ کے در میان مو جود تھے اور واپسی کے لیے پریشان تھے۔

بلال کی کوکنگ کافی ما یوس کن تھی۔ کھا نا ہماری امید کے بر عکس پھیکا سیٹھا تھا لیکن بلال کا کہنا تھا کہ صرف نمک مرچ سے لذیذ کھا نا نہیں بن سکتا اس کے لیے خلوص اور محنت سے زیادہ مسا لوں کی ضرورت پڑتی ہے جو شمشال میں یا کم از کم شمشال ما و نٹین پیلس میں نہیں تھے۔ کھانے کے بعد کمرے میں بیٹھے بے مقصد، لغو اور پُر لطف باتیں کرتے رہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی جاری تھی۔ جوں ہی بجلی آتی اعظم کی ٹیم اپنے فون چارج کرنے شروع کر دیتی شاید انہیں مو ہوم سی امید تھی کہ تیز رفتار ترقی کے دور میں سگنلز کسی وقت بھی شمشال پہنچ سکتے ہیں۔ رات گہری ہوئی تو سب سونے کے لیے بستروں میں گھسے اور ندیم، بلال ،عثمان اور میںکمبلوں کی بُکلیں مار کر با ہر نکل آئے ۔ تھڑے پر بیٹھ کر کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ آسمان پر بادل تھے اور رات کافی سرد تھی۔ یحییٰ آیا تو میں نے اس کے ساتھ صبح ڈرائی ور کی تلاش میں دو بارہ نکلنے کا پروگرام بنا یا۔ ہلکی ہلکی بو ندیں پڑنے لگیں تو ہم بھی سو نے کے لیے اٹھ آئے۔ با ہر بے آواز بوندوں میں بھیگتی اور سناٹے کی سرد آغوش میں اونگھتی رات تھی۔ ہوا کے خنک جھو نکوں اور دریا کی مضطرب لہروں کی سر گو شیاں کھلی کھڑکی سے کانوں میں آتی تھیں اور دن بھر کے تھکے بدن پر نیندبن کر اترتی تھیں۔ گہری نیند۔۔۔

شمشال کے قیدی:

پہا ڑوں پرجو بادل جمع ہو رہے تھے ان کے تیور اچھے نہیں تھے۔ لگتا تھا بارش ہو گی۔ اور اگر بارش ہو ئی تو۔۔۔ ؟ یہ ایک سوال تھا جس کا جواب ذہن میں اندیشے اٹھا تا تھا۔ راستہ تو جیسا تھا وہ عام حا لات میں بھی دل کو گھبرا تا تھا، پھر بارش میں۔۔۔۔ لینڈ سلائیڈ، ہم سے پہلے ہو یا ہمارے ہوتے، دو نوں شکلوں میںخطر ناک تھی۔ اور پھر لینڈ سلا ئڈ سے پہلے وہ دو تند خُو چشمے، بارش میں ان کا مزاج کیسا ہوگا؟ اس کا ندازہ نہیں تھا لیکن سب سے پہلا سوال تو یہ تھا کہ آج بھی کو ئی گاڑی ملے گی یا یہیں رکنا پڑے گا؟؟؟

سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے کو ئی بھی بستر نہیں چھو ڑ رہا تھا۔ یحییٰ آ یا۔ اس نے پہلے رات کے کھانے کا حساب بے باق کیااور معمول سے زیادہ پیسے وصول کیے جس میں خود کھانا پکانے کا جرمانہ بھی شامل تھا۔ بقول اس کے ایک تو دال پکائی گئی تھی جو دیر میں گلتی ہے اور زیادہ ایندھن پھو نکتی ہے۔ دوسرے بلال نے گھی اور مسالوں (کون سے مسا لے؟ کیسے مسالے؟؟) کا استعمال بھی زیادہ کیا تھا۔پیسے ادا کرکے میں اس کے ساتھ ڈرائی ور کی تلاش میں نکلا۔

پوری وادی نے ،جہان بیگ کے گھر پرسا دینے والی عورتوں کی طرح، گہرے سیاہ بادلوں کی چادر اوڑھ لی تھی اور آنسوؤں جیسی ہلکی ہلکی بوندیں وادی پر برستی تھیں۔ میں برساتی اوڑھے شمشال کی گلی گلی اور دَر دَر پھرا لیکن ڈرائی ور مل کر نہیں دیا۔ جہان بیگ اور دوسرے شمشالیوں کی موت پر کوئی بھی گاؤں سے باہر جانے پر تیار نہیں تھا۔کل جو دو تین دکانیں کھلی تھیں آج وہ بھی بند تھیں۔ یحییٰ بھی آخر مجھے چھو ڑ کر جہان بیگ کے گھر چلا گیااور جاتے جاتے بولا ”اگر کو ئی ڈرائی ور یا گاڑی آئے گا تو تم کو بتائے گا۔“ 

میں ما یوس ہو کر واپس آگیا۔ ساتھ کے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے مو ٹر سایئکلسٹس اپنے سامان باندھ کر نکل رہے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ اگر پسو میں کوئی گا ڑی ملے تو بھیج دیں۔دوستوں کو صورت ِ حال بتائی تو وہ مزید پریشان ہو گئے ۔ موسم مزید خراب ہوتا جارہا تھا اوراس کے ساتھ احمد اور چیمے کا موڈ بھی۔ گرل فرینڈز سے رابطہ نہ ہونے کا ہر لمحہ موت کا لمحہ تھا۔وہ اعظم سے سخت ناراض تھے جس نے کھل کر ان کا ساتھ نہیں دےا تھا، وہ اسے باغی اور غدار قرار دے چکے تھے اور اب ”سر تن سے جدا“کی سزا باقی تھی۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -